السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: حمالة العبيد. باب: غلاموں کے تاوان (ضمانت) کا بیان۔
حدیث نمبر: 21633
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " كَاتَبْتُ عَلَى رَجُلَيْنِ فِي بَيْعٍ أَنَّ حَيَّكُمَا عَلَى مَيِّتِكُمَا، وَمَلِيَّكُمَا عَلَى مُعْدِمِكُمَا "، قَالَ: يَجُوزُ،. وَقَالَهَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، وَقَالَ زَعَامَةُ: - يَعْنِي: حَمَالَةً.حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عطا رحمہ اللہ سے کہا: میں نے دو شخصوں سے اس بیع میں مکاتبت کی کہ «حَيُّكُمَا عَلَى مَيِّتِكُمَا وَمَلِيُّكُمَا عَلَى مُعْدِمِكُمَا» ”تم دونوں کا زندہ تمہارے مردے پر ہے اور تمہارا ملی تمہارے معدم پر ہے۔“ انہوں نے فرمایا: یہ جائز ہے، اور یہی عمرو بن دینار رحمہ اللہ اور سلیمان بن موسیٰ رحمہ اللہ کا قول ہے، اور زہری رحمہ اللہ نے کہا: یہ «حَمَالَةٌ» ”حمالہ ہے“۔