السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: حمالة العبيد. باب: غلاموں کے تاوان (ضمانت) کا بیان۔
حدیث نمبر: 21635
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، فِي رَجُلٍ يُكَاتِبُ عَبْدَيْنِ جَمِيعًا: حَيُّكُمَا عَلَى مَيِّتِكُمَا، وَمُعْدِمُكُمَا عَلَى مَلِيكُمَا؟ قَالَا: " لَا يَجُوزُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عطاء اور سیدنا ابن جریج رحمہما اللہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو اپنے دو غلاموں سے اس شرط پر مکاتبت کرتا ہے کہ تمہارا زندہ تمہارے مردے پر ہے اور تمہارا معدم تمہارے ملیہ پر ہے، انہوں نے فرمایا: یہ جائز نہیں ہے۔