السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : الشاعر يكثر الوقيعة في الناس على الغضب والحرمان باب: وہ شاعر جو غصے اور محرومی کی بنا پر لوگوں کی کثرت سے برائی (ہجو) کرے۔
حدیث نمبر: 21128
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، يَرْوِيهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَرْبَى الرِّبَا شَتْمُ الْأَعْرَاضِ، وَأَشَدَّ الشَّتْمِ الْهِجَاءُ، وَالرَّاوِيَةُ أَحَدُ الشَّاتِمَيْنِ ". هَذَا مُرْسَلٌ، وَهُوَ يُؤَكِّدُ مَا قَبْلَهُ، وَرَوَاهُ عِمْرَانُ بْنُ أَنَسٍ الْمَكِّيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْصُولًا بِاللَّفْظِ الْأَوَّلِ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ.حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبداللہ بن عمرو بن عثمان رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”سب سے بڑا سود بے عزتی کی غرض سے گالیاں دینا ہے، اور سخت ترین گالی کسی کی مذمت (ہجو) بیان کرنا ہے، اور اسے نقل کرنے والا بھی دو گالی دینے والوں میں سے ایک ہے۔“
یہ روایت مرسل ہے اور پچھلی روایت کی تائید کرتی ہے۔ عمران بن انس مکی نے اسے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی ﷺ سے پہلے الفاظ کے ساتھ موصولاً روایت کیا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: اس پر اس کی متابعت نہیں کی گئی۔