السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : الرجل من أهل الفقه يسأل عن الرجل من أهل الحديث فيقول: كفوا عن حديثه، لأنه يغلط أو يحدث بما لم يسمع، أو أنه لا يبصر الفتيا باب: اہلِ فقہ میں سے کسی شخص سے اہلِ حدیث میں سے کسی کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ کہے: ”اس کی حدیث سے باز رہو کیونکہ وہ غلطی کرتا ہے یا ایسی بات بیان کرتا ہے جو اس نے نہیں سنی، یا وہ فتویٰ دینے کی بصیرت نہیں رکھتا“۔
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، وَأَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّعِيرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو شُجَاعٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا الْجَارُودُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَرْعَوُونَ عَنْ ذِكْرِ الْفَاجِرِ؟ اذْكُرُوهُ بِمَا فِيهِ كَيْ يَعْرِفَهُ النَّاسُ وَيَحْذَرَهُ النَّاسُ ". فَهَذَا حَدِيثُ يُعْرَفُ بِالْجَارُودِ بْنِ يَزِيدَ النَّيْسَابُورِيِّ، وَأَنْكَرَهُ عَلَيْهِ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللهِ الْحَافِظَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ الْحَافِظَ غَيْرَ مَرَّةٍ يَقُولُ: كَانَ أَبُو بَكْرٍ الْجَارُودِيُّ إِذَا مَرَّ بِقَبْرِ جَدِّهِ فِي مَقْبَرَةِ الْحُسَيْنِ بْنِ مُعَاذٍ يَقُولُ: يَا أَبَةِ، لَوْ لَمْ تُحَدِّثْ بِحَدِيثِ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ لَزُرْتُكَ. قَالَ الشَّيْخُ: " وَقَدْ سَرَقَهُ عَنْهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الضُّعَفَاءِ فَرَوَوْهُ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ وَلَمْ يَصِحَّ فِيهِ شَيْءٌ.بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم فاجر کے ذکر سے ڈرتے ہو؟“ فرمایا: ”اس کی خامیاں بیان کیا کرو تاکہ لوگ اس کو جان بھی لیں اور اس سے بچیں بھی۔“
یہ حدیث جارود بن یزید نیشاپوری کے ذریعے پہچانی جاتی ہے اور حدیث کا علم رکھنے والوں نے اسے ان کی منکر روایت قرار دیا ہے۔ ابو عبداللہ محمد بن یعقوب حافظ کئی بار فرماتے تھے کہ ابو بکر جارودی جب حسین بن معاذ کے قبرستان میں اپنے دادا کی قبر کے پاس سے گزرتے تو کہتے: اے ابا جان! اگر آپ بہز بن حکیم والی حدیث بیان نہ کرتے تو میں آپ کی زیارت کرتا۔
شیخ فرماتے ہیں: ضعیف راویوں کی ایک جماعت نے اسے ان سے چرا کر بہز بن حکیم سے روایت کیا ہے اور اس بارے میں کوئی چیز صحیح ثابت نہیں۔