السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : الرجل من أهل الفقه يسأل عن الرجل من أهل الحديث فيقول: كفوا عن حديثه، لأنه يغلط أو يحدث بما لم يسمع، أو أنه لا يبصر الفتيا باب: اہلِ فقہ میں سے کسی شخص سے اہلِ حدیث میں سے کسی کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ کہے: ”اس کی حدیث سے باز رہو کیونکہ وہ غلطی کرتا ہے یا ایسی بات بیان کرتا ہے جو اس نے نہیں سنی، یا وہ فتویٰ دینے کی بصیرت نہیں رکھتا“۔
حدیث نمبر: 20913
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِخَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا، فَمَرَّ بِهَا أَبُو السَّنَابِلِ فَقَالَ: كَأَنَّكِ تُرِيدِينَ الزَّوْجَ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، أَوْ كَمَا قَالَتْ، قَالَ: لَا حَتَّى تَمْضِي أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " كَذَبَ أَبُو السَّنَابِلِ، إِذَا أَتَاكِ مَنْ تَرْضَيْنَ فَأَخْبِرِينِي ". هَذَا مُرْسَلٌ حَسَنٌ، وَلَهُ شَوَاهِدُ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ تَبْيِينَ حَالِ مَنْ وُجِدَ مِنْهُ مَا يُوجِبُ رَدَّ خَبَرِهِ، لَيْسَ هَهُنَا مَوْضِعُهُ، إِلَّا أَنَّ الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللهُ أَدْخَلَ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ خِلَالَ مَسْأَلَةِ شَهَادَةِ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ، فَأَشَرْنَا إِلَى بَعْضِ أَدِلَّتِهَا، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کی وفات کے پندرہ دن بعد بچے کو جنم دیا تو ان کے پاس سے ابوسنابل رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا۔ فرمانے لگے: ”تو شادی کا ارادہ رکھتی ہے؟“ وہ کہنے لگی: ”ہاں۔“ ابوسنابل رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”پہلے چار ماہ دس دن عدت پوری کرو۔“ وہ نبی ﷺ کے پاس آئیں اور اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوسنابل سے غلطی ہوئی۔ جب تیرے پاس کوئی ایسا آئے جس کو تو پسند کرے تو مجھے اطلاع دینا۔“