قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ} [البقرة: 282]، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " الَّذِي يُشْبِهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَإِيَّاهُ أَسْأَلُ التَّوْفِيقَ، أَنْ يَكُونَ أَمْرُهُ بِالْإِشْهَادِ عِنْدَ الْبَيْعِ دَلَالَةً عَلَى مَا فِيهِ الْحَظُّ بِالشَّهَادَةِ، لَا حَتْمًا، وَاحْتَجَّ بِقَوْلِهِ تَعَالَى فِي آيَةِ الدَّيْنِ، وَالدَّيْنُ تَبَايُعٌ: {فَاكْتُبُوهُ} [البقرة: 282]، ثُمَّ قَالَ: {وَإِنْ كُنْتُمْ عَلَى سَفَرٍ وَلَمْ تَجِدُوا كَاتِبًا فَرِهَانٌ مَقْبُوضَةٌ فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَهُ} [البقرة: 283]، فَلَمَّا أَمَرَ إِذَا لَمْ يَجِدُوا كَاتِبًا بِالرَّهْنِ ثُمَّ أَبَاحَ تَرْكَ الرَّهْنِ دَلَّ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ الْأَوَّلَ دَلَالَةٌ عَلَى الْحَظِّ، لَا فَرْضًا مِنْهُ، يَعْصِي مَنْ تَرَكَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ..
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ﴾ ”اور جب تم آپس میں خرید و فروخت کرو تو گواہ بنا لیا کرو۔“ [سورة البقرة: 282]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو بات (زیادہ) مناسب معلوم ہوتی ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے، اور میں اسی سے توفیق کا سوال کرتا ہوں، وہ یہ ہے کہ خرید و فروخت کے وقت گواہ بنانے کا اس کا حکم اس بات کی رہنمائی ہے کہ گواہی میں (لوگوں کا) فائدہ ہے، نہ کہ یہ لازمی حکم ہے۔“
اور انہوں نے قرض والی آیت میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے استدلال کیا، اور قرض بھی (ایک طرح کی) خرید و فروخت ہے: ﴿فَاكْتُبُوهُ﴾ ”تو اسے لکھ لیا کرو۔“ [سورة البقرة: 282]
پھر فرمایا: ﴿وَإِنْ كُنْتُمْ عَلَى سَفَرٍ وَلَمْ تَجِدُوا كَاتِبًا فَرِهَانٌ مَقْبُوضَةٌ فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَهُ﴾ ”اور اگر تم سفر پر ہو اور کوئی لکھنے والا نہ پاؤ تو قبضے میں دی ہوئی گروی چیزیں (کافی ہیں)، پھر اگر تم میں سے ایک دوسرے پر اعتماد کرے تو جس پر اعتماد کیا گیا ہے وہ اپنی امانت ادا کر دے۔“ [سورة البقرة: 283]
(امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:) ”تو جب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ اگر وہ لکھنے والا نہ پائیں تو گروی رکھ لیں، پھر گروی چھوڑ دینے کو بھی جائز قرار دے دیا، تو اس سے معلوم ہوا کہ پہلا حکم (بھی) فائدے کی طرف رہنمائی ہے، نہ کہ اس کی طرف سے کوئی ایسا فرض جسے چھوڑنے والا گناہ گار ہو، واللہ اعلم...“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو بات (زیادہ) مناسب معلوم ہوتی ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے، اور میں اسی سے توفیق کا سوال کرتا ہوں، وہ یہ ہے کہ خرید و فروخت کے وقت گواہ بنانے کا اس کا حکم اس بات کی رہنمائی ہے کہ گواہی میں (لوگوں کا) فائدہ ہے، نہ کہ یہ لازمی حکم ہے۔“
اور انہوں نے قرض والی آیت میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے استدلال کیا، اور قرض بھی (ایک طرح کی) خرید و فروخت ہے: ﴿فَاكْتُبُوهُ﴾ ”تو اسے لکھ لیا کرو۔“ [سورة البقرة: 282]
پھر فرمایا: ﴿وَإِنْ كُنْتُمْ عَلَى سَفَرٍ وَلَمْ تَجِدُوا كَاتِبًا فَرِهَانٌ مَقْبُوضَةٌ فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَهُ﴾ ”اور اگر تم سفر پر ہو اور کوئی لکھنے والا نہ پاؤ تو قبضے میں دی ہوئی گروی چیزیں (کافی ہیں)، پھر اگر تم میں سے ایک دوسرے پر اعتماد کرے تو جس پر اعتماد کیا گیا ہے وہ اپنی امانت ادا کر دے۔“ [سورة البقرة: 283]
(امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:) ”تو جب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ اگر وہ لکھنے والا نہ پائیں تو گروی رکھ لیں، پھر گروی چھوڑ دینے کو بھی جائز قرار دے دیا، تو اس سے معلوم ہوا کہ پہلا حکم (بھی) فائدے کی طرف رہنمائی ہے، نہ کہ اس کی طرف سے کوئی ایسا فرض جسے چھوڑنے والا گناہ گار ہو، واللہ اعلم...“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ شَهْرَيَارَ، ثنا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الرَّزْجَاهِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الصُّوفِيُّ - وَهُوَ أَحْمَدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " تَلَا: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى} [البقرة: ٢٨٢] حَتَّى بَلَغَ: {فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا} [البقرة: ٢٨٣] قَالَ: " هَذِهِ نَسَخَتْ مَا قَبْلَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آیت ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى﴾ [سورة البقرة: 282] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، جب تم آپس میں قرض کا لین دین کرو تو اسے وقت مقرر تک لکھ لیا کرو۔“
﴿فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا﴾ [سورة البقرة: 283] ”پھر اگر تم میں سے ایک دوسرے پر بھروسا کرے۔“ اس نے پہلی آیت کو منسوخ کر دیا۔
﴿فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا﴾ [سورة البقرة: 283] ”پھر اگر تم میں سے ایک دوسرے پر بھروسا کرے۔“ اس نے پہلی آیت کو منسوخ کر دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عَفَّانُ، عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ قَالَ: {فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا} [البقرة: ٢٨٣] قَالَ: إِنْ أَشَهَدْتَ فَحَزْمٌ، وَإِنِ ائْتَمَنْتَهُ فَفِي حِلٍّ وَسَعَةٍ ". وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: إِنْ شَاءَ أَشْهَدَ، وَإِنْ شَاءَ لَمْ يَشْهَدْ، أَلَا تَسْمَعُ إِلَى قَوْلِهِ: {فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا} [البقرة: ٢٨٣]؟ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَقَدْ حُفِظَ عَنِ ⦗٢٤٦⦘ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَايَعَ أَعْرَابِيًّا فِي فَرَسٍ فَجَحَدَ الْأَعْرَابِيُّ بِأَمْرِ بَعْضِ الْمُنَافِقِينَ، وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عامر رحمہ اللہ اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ﴿فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا﴾ [سورة البقرة: 283] اگر آپ گواہ بنے تو پختہ بات کرنا، اگر امین بنو تو جائز اور وسعت والی بات کرنا۔
(ب) حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ چاہے تو گواہی دے، اگر چاہے تو گواہی نہ دے، کیا آپ نے یہ اللہ کا فرمان نہیں سنا: ﴿فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا﴾ [سورة البقرة: 283]؟ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک دیہاتی سے گھوڑے کے بارے میں بیع کی، دیہاتی نے بعض منافقین کی وجہ سے جھگڑا کیا، ان دونوں کے درمیان کوئی دلیل نہ تھی۔
(ب) حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ چاہے تو گواہی دے، اگر چاہے تو گواہی نہ دے، کیا آپ نے یہ اللہ کا فرمان نہیں سنا: ﴿فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا﴾ [سورة البقرة: 283]؟ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک دیہاتی سے گھوڑے کے بارے میں بیع کی، دیہاتی نے بعض منافقین کی وجہ سے جھگڑا کیا، ان دونوں کے درمیان کوئی دلیل نہ تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ بِهَمَذَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، أَنَّ عَمَّهُ، حَدَّثَهُ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَخِي أَبُو بَكْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ أَنَّ عَمَّهُ أَخْبَرَهُ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَعْرَابِ، فَاسْتَتْبَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَقْضِيَ ثَمَنَ فَرَسِهِ، فَأَسْرَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَشْيَ، وَأَبْطَأَ الْأَعْرَابِيُّ، فَطَفِقَ رِجَالٌ يَعْتَرِضُونَ الْأَعْرَابِيَّ وَيُسَاوِمُونَهُ الْفَرَسَ، وَلَا يَشْعُرُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَدِ ابْتَاعَهُ، حَتَّى زَادَ بَعْضُهُمُ الْأَعْرَابِيَّ فِي السَّوْمِ، فَلَمَّا زَادُوا، نَادَى الْأَعْرَابِيُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كُنْتَ مُبْتَاعًا هَذَا الْفَرَسَ فَابْتَعْهُ، وَإِلَّا بِعْتُهُ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَمِعَ نِدَاءَ الْأَعْرَابِيِّ حَتَّى أَتَى الْأَعْرَابِيَّ فَقَالَ: " أَوَلَيْسَ قَدِ ابْتَعْتُ مِنْكَ؟ "، قَالَ: لَا، وَاللهِ، مَا بِعْتُكَهُ، قَالَ: " بَلِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ "، فَطَفِقَ النَّاسُ يَلُوذُونَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالْأَعْرَابِيِّ وَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ، فَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ: هَلُمَّ شَهِيدًا أَنِّي بَايَعْتُكَ، فَقَالَ خُزَيْمَةُ: أَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ بَايَعْتَهُ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خُزَيْمَةَ فَقَالَ: " بِمَ تَشْهَدُ؟ "، قَالَ: بِتَصْدِيقِكَ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَةَ خُزَيْمَةَ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
عمارہ بن خزیمہ رضی اللہ عنہما کے چچا نے خبر دی، اور وہ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دیہاتی سے گھوڑا خریدا۔ آپ ﷺ نے اس کو ساتھ لیا تاکہ گھوڑے کی قیمت ادا کریں۔ نبی ﷺ تیز چلے اور دیہاتی نے دیر کی۔ کچھ لوگ دیہاتی کو ملے اور گھوڑے کی قیمت مقرر کرنے لگے۔ انھیں معلوم نہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے خریدا ہوا ہے۔ بعض نے قیمت زیادہ لگا دی۔ جب انھوں نے قیمت زیادہ دینا چاہی تو دیہاتی نے رسول اللہ ﷺ کو آواز دی کہ اگر گھوڑا خریدنا ہے تو خرید لو، وگرنہ میں فروخت کر دوں گا۔ نبی ﷺ نے جب دیہاتی کی آواز سنی تو تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا میں نے آپ سے گھوڑا خریدا نہیں؟“ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آپ کو فروخت نہیں کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تجھ سے خریدا ہے۔“ لوگ تو نبی ﷺ کے پاس آ رہے تھے اور آپ کی حفاظت کر رہے تھے۔ آپ ﷺ اور دیہاتی بات چیت کر رہے تھے، دیہاتی نے کہا: گواہ لاؤ کہ میں نے فروخت کیا ہے، تو خزیمہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے فروخت کیا ہے۔ نبی ﷺ خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے: ”تو نے گواہی کیوں دی؟“ کہنے لگے: آپ ﷺ کی تصدیق کی وجہ سے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”خزیمہ کی گواہی دو آدمیوں کے برابر ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زُرَارَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ، عَنْ أَبِيهِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَ مِنْ سَوَاءِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيِّ فَرَسًا، فَجَحَدَ، فَشَهِدَ لَهُ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا حَمَلَكَ عَلَى الشَّهَادَةِ، وَلَمْ تَكُنْ مَعَهُ؟ "، قَالَ: صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللهِ، وَلَكِنْ صَدَّقْتُكَ بِمَا قُلْتَ، وَعَرَفْتُ أَنَّكَ لَا تَقُولُ إِلَّا حَقًّا، فَقَالَ: " مَنْ شَهِدَ لَهُ خُزَيْمَةُ أَوْ شَهِدَ عَلَيْهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ". ⦗٢٤٧⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " فَلَوْ كَانَ حَتْمًا لَمْ يُبَايِعْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَا بَيِّنَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عمارہ بن خزیمہ رحمہ اللہ اپنے والد خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سواء بن حارث محاربی سے گھوڑا خریدا، اس نے جھگڑا کیا تو خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے گواہی دی، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تو نے گواہی کیوں دی حالانکہ آپ موجود نہ تھے؟“ عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے سچ فرمایا؛ لیکن میں نے آپ کی تصدیق کی؛ کیونکہ آپ سچ ہی بولتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے حق میں یا جس کے خلاف خزیمہ گواہی دے دیں وہ کافی ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حتمی بات ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بغیر دلیل کی خریدو فروخت نہیں کی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حتمی بات ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بغیر دلیل کی خریدو فروخت نہیں کی۔