حدیث نمبر: 20516
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زُرَارَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ، عَنْ أَبِيهِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَ مِنْ سَوَاءِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيِّ فَرَسًا، فَجَحَدَ، فَشَهِدَ لَهُ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا حَمَلَكَ عَلَى الشَّهَادَةِ، وَلَمْ تَكُنْ مَعَهُ؟ "، قَالَ: صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللهِ، وَلَكِنْ صَدَّقْتُكَ بِمَا قُلْتَ، وَعَرَفْتُ أَنَّكَ لَا تَقُولُ إِلَّا حَقًّا، فَقَالَ: " مَنْ شَهِدَ لَهُ خُزَيْمَةُ أَوْ شَهِدَ عَلَيْهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ". ⦗٢٤٧⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " فَلَوْ كَانَ حَتْمًا لَمْ يُبَايِعْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَا بَيِّنَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ

عمارہ بن خزیمہ رحمہ اللہ اپنے والد خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سواء بن حارث محاربی سے گھوڑا خریدا، اس نے جھگڑا کیا تو خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے گواہی دی، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تو نے گواہی کیوں دی حالانکہ آپ موجود نہ تھے؟“ عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے سچ فرمایا؛ لیکن میں نے آپ کی تصدیق کی؛ کیونکہ آپ سچ ہی بولتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے حق میں یا جس کے خلاف خزیمہ گواہی دے دیں وہ کافی ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حتمی بات ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بغیر دلیل کی خریدو فروخت نہیں کی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20516