❮
❯
حدیث نمبر: 20514
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عَفَّانُ، عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ قَالَ: {فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا} [البقرة: ٢٨٣] قَالَ: إِنْ أَشَهَدْتَ فَحَزْمٌ، وَإِنِ ائْتَمَنْتَهُ فَفِي حِلٍّ وَسَعَةٍ ". وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: إِنْ شَاءَ أَشْهَدَ، وَإِنْ شَاءَ لَمْ يَشْهَدْ، أَلَا تَسْمَعُ إِلَى قَوْلِهِ: {فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا} [البقرة: ٢٨٣]؟ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَقَدْ حُفِظَ عَنِ ⦗٢٤٦⦘ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَايَعَ أَعْرَابِيًّا فِي فَرَسٍ فَجَحَدَ الْأَعْرَابِيُّ بِأَمْرِ بَعْضِ الْمُنَافِقِينَ، وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ

عامر رحمہ اللہ اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ﴿فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا﴾ [سورة البقرة: 283] اگر تم گواہ بنا لو تو یہ احتیاط ہے، اور اگر تم اس پر اعتماد کر لو تو (اس میں بھی) جواز اور گنجائش ہے۔
(ب) حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ چاہے تو گواہ بنا لے، اور اگر چاہے تو گواہ نہ بنائے، کیا آپ نے یہ اللہ کا فرمان نہیں سنا: ﴿فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا﴾ [سورة البقرة: 283]؟ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک دیہاتی سے گھوڑے کے بارے میں بیع کی، دیہاتی نے بعض منافقین کے کہنے پر (بیع سے) انکار کر دیا، ان دونوں کے درمیان کوئی دلیل نہ تھی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20514
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»