کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: تحکیم (ثالث مقرر کرنے) کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: ثنا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ هَانِئٍ أَنَّهُ لَمَّا وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْمَدِينَةَ، فَسَمِعَهُمْ يُكَنُّونَهُ بِأَبِي الْحَكَمِ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٢٤٤⦘ فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ هُوَ الْحَكَمُ، وَإِلَيْهِ الْحُكْمُ، فَلِمَ تُكَنَّى أَبَا الْحَكَمِ؟ "، قَالَ: إِنَّ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ أَتَوْنِي فَحَكَمْتُ بَيْنَهُمْ، فَرَضِيَ كِلَا الْفَرِيقَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَحْسَنَ هَذَا فَمَا لَكَ مِنَ الْوَلَدِ؟ "، قَالَ: لِي شُرَيْحٌ وَمُسْلِمٌ وَعَبْدُ اللهِ، قَالَ: " فَمَنْ أَكْبَرُهُمْ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: شُرَيْحٌ، قَالَ: " فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ ".
حافظ ثناء اللہ
شریح اپنے والد ہانی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس مدینہ میں ایک وفد آیا۔ آپ ﷺ نے سنا کہ انہوں نے ابوالحکم کنیت رکھی ہوئی ہے۔ نبی ﷺ نے بلایا اور فرمایا: ” «الْحَكَمُ» ”حکم“ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے، تو نے ابوالحکم کنیت کیوں رکھی؟“ انہوں نے کہا: میری قوم اپنے فیصلے مجھ سے کرواتی تھی اور دونوں فریق راضی ہو جاتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کتنا اچھا ہے! کیا تیرا کوئی بچہ ہے؟“ انہوں نے کہا: شریح، مسلم اور عبداللہ ہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”ان میں سے بڑا کون ہے؟“ انہوں نے کہا: شریح۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ابوشریح کنیت رکھ۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ السِّمَّرِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ عُمَرَ وَأُبَيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا خُصُومَةٌ فِي حَائِطٍ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: بَيْنِي وَبَيْنَكَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، فَانْطَلَقَا، فَطَرَقَ عُمَرُ الْبَابَ، فَعَرَفَ زَيْدٌ صَوْتَهُ، فَفَتَحَ الْبَابَ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَلَا بَعَثْتَ إِلِيَّ حَتَّى آتِيَكَ؟ فَقَالَ: " فِي بَيْتِهِ يُؤْتَى الْحَكَمُ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ ".
حافظ ثناء اللہ
عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر اور سیدنا ابی رضی اللہ عنہما کے درمیان ایک باغ کے بارے میں جھگڑا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ثالث مقرر کر دیا، وہ دونوں گئے تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے آپ کی آواز پہچان کر دروازہ کھول دیا اور کہنے لگے: ”اے امیر المؤمنین! کسی کو روانہ کرتے تو میں آپ کے پاس آ جاتا۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ فیصلہ ان کے گھر لایا گیا۔