حدیث نمبر: 20510
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ عُمَرَ وَأُبَيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا خُصُومَةٌ، فَقَالَ عُمَرُ: " اجْعَلْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ رَجُلًا "، قَالَ: فَجَعَلَا بَيْنَهُمَا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قَالَ: فَأَتَوْهُ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَتَيْنَاكَ لِتَحْكُمَ بَيْنَنَا، وَفِي بَيْتِهِ يُؤْتَى الْحَكَمُ "، قَالَ: فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ أَجْلَسَهُ مَعَهُ عَلَى صَدْرِ فِرَاشِهِ، قَالَ: فَقَالَ: هَذَا أَوَّلُ جَوْرٍ جُرْتَ فِي حُكْمِكَ، أَجْلِسْنِي وَخَصْمِي مَجْلِسًا "، قَالَ: فَقَصَّا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، قَالَ: فَقَالَ زَيْدٌ لِأُبَيٍّ: الْيَمِينُ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَإِنْ شِئْتَ أَعْفَيْتَهُ، قَالَ: فَأَقْسَمَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ أَقْسَمَ لَهُ: " لَا تُدْرِكْ بَابَ الْقَضَاءِ حَتَّى لَا يَكُونَ لِي عِنْدَكَ عَلَى أَحَدٍ فَضِيلَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے شعبی رحمہ اللہ سے سنا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے درمیان جھگڑا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک آدمی کو فیصل مقرر کرو، تو انہوں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو فیصل مقرر کر لیا۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ ان کے پاس آئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم تیرے پاس آئے ہیں تاکہ تو ہمارے درمیان فیصلہ کرے۔ جب ان کے گھر میں فیصلہ لایا گیا تو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بستر پر بٹھایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تم نے فیصلے میں پہلا ظلم کیا ہے، مجھے اور میرے فریقِ مخالف کو ایک ہی جگہ بٹھاؤ۔ راوی کہتے ہیں کہ اس نے اپنا قصہ بیان کیا تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: امیر المؤمنین کو اگر آپ چاہیں تو معاف کر دیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قسم اٹھائی۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم اس وقت تک قاضی نہیں بن سکو گے جب تک تمہارے نزدیک میں اور ایک عام آدمی برابر نہ ہو جاؤں۔