حدیث نمبر: 20511
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: ثنا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ هَانِئٍ أَنَّهُ لَمَّا وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْمَدِينَةَ، فَسَمِعَهُمْ يُكَنُّونَهُ بِأَبِي الْحَكَمِ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٢٤٤⦘ فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ هُوَ الْحَكَمُ، وَإِلَيْهِ الْحُكْمُ، فَلِمَ تُكَنَّى أَبَا الْحَكَمِ؟ "، قَالَ: إِنَّ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ أَتَوْنِي فَحَكَمْتُ بَيْنَهُمْ، فَرَضِيَ كِلَا الْفَرِيقَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَحْسَنَ هَذَا فَمَا لَكَ مِنَ الْوَلَدِ؟ "، قَالَ: لِي شُرَيْحٌ وَمُسْلِمٌ وَعَبْدُ اللهِ، قَالَ: " فَمَنْ أَكْبَرُهُمْ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: شُرَيْحٌ، قَالَ: " فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ ".
حافظ ثناء اللہ

شریح اپنے والد ہانی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس مدینہ میں ایک وفد آیا۔ آپ ﷺ نے سنا کہ انہوں نے ابوالحکم کنیت رکھی ہوئی ہے۔ نبی ﷺ نے بلایا اور فرمایا: ” «الْحَكَمُ» ”حکم“ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے، تو نے ابوالحکم کنیت کیوں رکھی؟“ انہوں نے کہا: میری قوم اپنے فیصلے مجھ سے کرواتی تھی اور دونوں فریق راضی ہو جاتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کتنا اچھا ہے! کیا تیرا کوئی بچہ ہے؟“ انہوں نے کہا: شریح، مسلم اور عبداللہ ہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”ان میں سے بڑا کون ہے؟“ انہوں نے کہا: شریح۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ابوشریح کنیت رکھ۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20511
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»