کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان اشیاء کا بیان جو تقسیم کیے جانے کا احتمال نہیں رکھتیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَضَى أَنْ لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلوں میں سے ہے کہ آپ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ ”نہ تکلیف دو اور نہ ہی تکلیف اٹھاؤ۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ ". هَذَا مُرْسَلٌ، وَقَدْ رَوَيْنَاهُ فِي كِتَابِ الصُّلْحِ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن یحییٰ مازنی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہ تکلیف دو اور نہ ہی تکلیف اٹھاؤ۔“
یہ مرسل ہے، اور ہم نے اسے کتاب الصلح میں موصولاً روایت کیا ہے۔
یہ مرسل ہے، اور ہم نے اسے کتاب الصلح میں موصولاً روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ مَوْلَاةٍ لَهُ، سَمِعَتْ أَبَا صِرْمَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ ضَارَّ أَضَرَّ اللهُ بِهِ، وَمَنْ شَاقَّ شَقَّ اللهُ عَلَيْهِ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْقَدِيمِ: وَقَدْ رَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ صِدِّيقِ بْنِ مُوسَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو صرمہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی کو نقصان پہنچایا، اللہ اسے نقصان پہنچائے گا اور جس نے کسی پر مشقت ڈالی، اللہ اسے مشقت میں ڈال دے گا۔“
فَذَكَرَ الْحَدِيثَ الَّذِي أَخْبَرَنَا: أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرِّيَاحِيُّ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي صِدِّيقُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ - يَعْنِي: ابْنَ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ⦗٢٢٦⦘ لَا تَعْضِيَةَ عَلَى أَهْلِ الْمِيرَاثِ إِلَّا مَا حَمَلَ الْقَسْمُ ". يَقُولُ: لَا يُبَعَّضُ عَلَى الْوَارِثِ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن ابی بکر بن حزم رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اہلِ میراث پر (ترکے کو) ٹکڑے ٹکڑے کرنا جائز نہیں، سوائے اس کے جس کی تقسیم گنجائش رکھے۔“ یعنی وارث پر (نقصان دہ طور پر) ٹکڑے ٹکڑے نہ کیا جائے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ فِي حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَعْضِيَةَ فِي مِيرَاثٍ إِلَّا مَا حَمَلَ الْقَسْمُ ". قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: حَدَّثَنِيهِ حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ صِدِّيقِ بْنِ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَفَعَهُ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَوْلُهُ: " لَا تَعْضِيَةَ فِي مِيرَاثٍ "، يَعْنِي أَنْ يَمُوتَ الْمَيِّتُ، وَيَدَعَ شَيْئًا، إِنْ قُسِّمَ بَيْنَ وَرَثَتِهِ، إِذَا أَرَادَ بَعْضُهُمُ الْقِسْمَةَ كَانَ فِي ذَلِكَ ضَرَرٌ عَلَيْهِِمْ، أَوْ عَلَى بَعْضِهِمْ، يَقُولُ: فَلَا يُقَسَّمُ، وَالتَّعْضِيَةُ التَّفْرِيقُ، وَهُوَ مَأْخُوذٌ مِنَ الْإِعْضَاءِ، يُقَالُ: عَضَيْتُ اللَّحْمَ إِذَا فَرَّقْتُهُ. قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ: وَلَا يَكُونُ مِثْلُ هَذَا الْحَدِيثِ حُجَّةً لِأَنَّهُ ضَعِيفٌ، وَهُوَ قَوْلُ مَنْ لَقِينَا مِنْ فُقَهَائِنَا. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَإِنَّمَا ضَعَّفَهُ لِانْقِطَاعِهِ، وَهُوَ قَوْلُ الْكَافَّةِ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن ابی بکر بن حزم رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں، ابوعبید اس قول «لَا تَعْضِيَةَ فِي مِيرَاثٍ» ”وراثت میں (نقصان دہ) تقسیم نہیں ہے“ کے بارے میں کہتے ہیں کہ انسان فوت ہو جائے اور کوئی ایسی چیز چھوڑے کہ اگر اسے اس کے وارثوں کے درمیان تقسیم کیا جائے، جب ان میں سے بعض تقسیم چاہیں، تو اس میں ان سب کو یا بعض کو تکلیف ہو، وہ کہتے ہیں: تو تقسیم نہ کیا جائے۔ تعضیہ کا معنی تفریق کا ہے۔ وہ اعضاء سے مشتق ہے۔ جیسے کہتے ہیں کہ میں نے گوشت ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے قدیم میں فرمایا: اس جیسی حدیث حجت نہیں ہوتی کیونکہ یہ ضعیف ہے، اور یہی ہمارے ان فقہاء کا قول ہے جن سے ہم ملے۔
انہوں نے اسے صرف اس کے انقطاع کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے، اور یہی سب کا قول ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے قدیم میں فرمایا: اس جیسی حدیث حجت نہیں ہوتی کیونکہ یہ ضعیف ہے، اور یہی ہمارے ان فقہاء کا قول ہے جن سے ہم ملے۔
انہوں نے اسے صرف اس کے انقطاع کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے، اور یہی سب کا قول ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ، ثنا عِيسَى، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نُصَيْرٍ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قِسْمَةِ الضِّرَارِ قَالَ الشَّيْخُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَهَذَا مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے غلام نصیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”تکلیف کی تقسیم سے منع فرمایا۔“
یہ مرسل ہے۔
یہ مرسل ہے۔