کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: تقسیم کنندہ (قسام) کی اجرت کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 20441
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يَنْبَغِي أَنْ يُعْطَى أَجْرُ الْقَسَّامِ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ، لِأَنَّ الْقَسَّامَ حَكَّامٌ. ¤ قَالَ الشَّيْخُ الْفَقِيهُ رَحِمَهُ اللهُ: " قَدْ رُوِّينَا فِي سَهْمِ الْمُصَالِحِ سَهْمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ لِنَوَائِبِهِ وَنَوَائِبِ النَّاسِ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تقسیم کرنے والوں (قسّام) کی اجرت بیت المال سے دی جانی چاہیے، کیونکہ تقسیم کرنے والے (بھی ایک طرح کے) حاکم ہیں۔“
شیخ فقیہ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہمیں مصالح کے حصے، یعنی نبی کریم ﷺ کے حصے کے بارے میں روایت پہنچی ہے کہ وہ آپ ﷺ کی (ذاتی) ضروریات اور لوگوں کی ضروریات (و حوادث) کے لیے ہوتا تھا۔“
شیخ فقیہ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہمیں مصالح کے حصے، یعنی نبی کریم ﷺ کے حصے کے بارے میں روایت پہنچی ہے کہ وہ آپ ﷺ کی (ذاتی) ضروریات اور لوگوں کی ضروریات (و حوادث) کے لیے ہوتا تھا۔“
حدیث نمبر: 20441
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ حِكَايَةً عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَرِيفٍ الْأَسَدِيِّ قَالَ: دَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَيْتَ الْمَالِ فَأَضْرَطَ بِهِ وَقَالَ: " لَا أُمْسِي وَفِيكَ دِرْهَمٌ "، فَأَمَرَ رَجُلًا مِنْ بَنِي أَسَدٍ فَقَسَمَهُ إِلَى اللَّيْلِ، فَقَالَ النَّاسُ: لَوْ عَوَّضْتَهُ؟ فَقَالَ: " إِنْ شَاءَ، وَلَكِنَّهُ سُحْتٌ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يُعْطِيَ السُّحْتَ، كَمَا لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَأْخُذَهُ، وَلَا نَرَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعْطِي شَيْئًا يَرَاهُ سُحْتًا إِنْ شَاءَ اللهُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، مُوسَى بْنُ طَرِيفٍ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَقِيلَ: عَنْهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَمَا:.
حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن طریف اسدی فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے اور ناخوش ہوئے۔ فرماتے ہیں: میں شام نہیں کروں گا کہ تیرے اندر ایک درہم بھی ہو۔ انہوں نے بنو اسد کے ایک آدمی کو حکم دیا اور رات تک تقسیم کر دیا۔ لوگوں نے کہا: اگر آپ اس کو تبدیل کر لیتے۔ کہنے لگے: اگر اللہ چاہتا لیکن یہ ناجائز ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حرام کمائی کسی کو دینا بھی جائز نہیں جیسے لینا جائز نہیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ حرام چیز کسی کو نہ دیتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حرام کمائی کسی کو دینا بھی جائز نہیں جیسے لینا جائز نہیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ حرام چیز کسی کو نہ دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 20442
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ ⦗٢٢٥⦘ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَسَمَ شَيْئًا، فَدَعَا رَجُلًا يَحْسِبُ، فَقِيلَ: لَوْ أَعْطَيْتَهُ شَيْئًا؟ قَالَ: إِنْ شَاءَ، وَهُوَ سُحْتٌ.
حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن طریف اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوئی چیز تقسیم کی، ایک آدمی کو بلایا جس کو نیک خیال کرتے تھے، کہا گیا: اگر آپ اس کو کچھ دے دیتے۔ فرمایا: اگر وہ چاہے، حالانکہ یہ ناجائز ہے۔