السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما لا يحتمل القسمة باب: ان اشیاء کا بیان جو تقسیم کیے جانے کا احتمال نہیں رکھتیں۔
حدیث نمبر: 20446
فَذَكَرَ الْحَدِيثَ الَّذِي أَخْبَرَنَا: أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرِّيَاحِيُّ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي صِدِّيقُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ - يَعْنِي: ابْنَ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ⦗٢٢٦⦘ لَا تَعْضِيَةَ عَلَى أَهْلِ الْمِيرَاثِ إِلَّا مَا حَمَلَ الْقَسْمُ ". يَقُولُ: لَا يُبَعَّضُ عَلَى الْوَارِثِ.حافظ ثناء اللہ
محمد بن ابی بکر بن حزم رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اہلِ میراث کی حصینہ کرو، لیکن جو تقسیم کی وجہ سے ہو جائیں اور وارثوں پر ٹکڑے ٹکڑے نہ کر دو۔“