کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: فریقین (مقدمہ) اور گواہوں کے حوالے سے قاضی پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کے جامع ابواب کا بیان۔ -- باب: قاضی کا فیصلے میں انصاف کرنا، اور اس پر عدل قائم کرنا کس قدر واجب ہے کیونکہ ظلم کرنے میں بہت بھاری بوجھ اور بہت بڑا گناہ ہے۔
حدیث نمبر: 20449
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ظلم قیامت کے دن اندھیروں میں تبدیل ہوجائیں گے۔“
حدیث نمبر: 20450
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ⦗٢٢٧⦘ وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ، قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اتَّقُوا الظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَاتَّقُوا الشُّحَّ، فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، حَمَلَهُمْ عَلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهُمْ، وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ظلم سے بچو؛ کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیرے بن جائیں گے۔ بخیلی سے بچو؛ کیونکہ بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کر دیا۔ اس نے خونوں کے بہانے پر ابھارا اور محارم کو حلال قرار دیا۔“
حدیث نمبر: 20451
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، ثنا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَجُرْ، فَإِذَا جَارَ بَرِئَ اللهُ مِنْهُ، وَأَلْزَمَهُ الشَّيْطَانَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تک قاضی ظلم نہ کرے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہوتا ہے، جب وہ ظلم کرے تو اللہ اس سے بری ہو جاتا ہے اور شیطان اس کے ساتھ ہو جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 20452
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ ح، قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي أُحَرِّجُ عَلَيْكُمْ حَقَّ الضَّعِيفَيْنِ: الْيَتِيمِ وَالْمَرْأَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں کمزوروں، عورتوں اور یتیموں کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں۔“
(ب) عبداللہ بن عبدالعزیز عمری رحمہ اللہ نبی ﷺ سے مرسل روایت نقل فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا عامل بنایا گیا، فرمایا: ”کمینے کو شریف سے پہلے رکھنا اور کمزور کو قوی سے پہلے۔“
(ب) عبداللہ بن عبدالعزیز عمری رحمہ اللہ نبی ﷺ سے مرسل روایت نقل فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا عامل بنایا گیا، فرمایا: ”کمینے کو شریف سے پہلے رکھنا اور کمزور کو قوی سے پہلے۔“
حدیث نمبر: 20453
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا شُعْبَةُ، وَمِسْعَرٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْحَكَمِ ابْنِ مِينَاءَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَإِنَّ إِحْدَى إِصْبَعِيَّ لَفِي جُرْحِهِ، هَذِهِ أَوْ هَذِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: " يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، إِنِّي لَا أَخَافُ النَّاسَ عَلَيْكُمْ، إِنَّمَا أَخَافُكُمْ عَلَى النَّاسِ، إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمُ اثْنَتَيْنِ، لَنْ تَبْرَحُوا بِخَيْرٍ مَا لَزِمْتُمُوهُمَا: الْعَدْلُ فِي الْحَكَمِ، والْعَدْلُ فِي الْقَسْمِ، وَإِنِّي قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى مِثْلِ مَخْرَفَةِ النَّعَمِ، إِلَّا أَنْ يَعْوَجَّ قَوْمٌ فَيُعْوَجَّ بِهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، ان کی دو انگلیوں میں سے اس میں یا اس میں زخم ہے اور وہ کہہ رہے تھے: اے مسلمانوں کی جماعت! میں تمہارے اوپر خوف نہیں کھاتا، کیونکہ میں نے تمہارے اندر دو چیزیں چھوڑی ہیں۔ جب تک ان کو تھامے رکھو گے بھلائی پر رہو گے: فیصلے میں انصاف کرنا اور تقسیم میں عدل کرنا۔ میں نے تمہارے لیے جانوروں کی چراگاہ چھوڑی ہے، اگر قوم ٹیڑھی ہوئی تو وہ بھی الٹ جائے گی۔
حدیث نمبر: 20454
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ أَبُو كُدَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: كَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ حُذَيْفَةَ قَاضِيًا، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْأَشْرَافِ وَهُوَ يَسْتَوْقِدُ فَسَأَلَهُ حَاجَةً، قَالَ لَهُ ابْنُ حُذَيْفَةَ: أَسْأَلُكَ أَنْ تُدْخِلَ إِصْبَعَكَ فِي هَذِهِ النَّارِ، قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ قَالَ: " أَفَبَخِلْتَ عَلِيَّ بِأُصْبُعٍ مِنْ أَصَابِعِكَ فِي هَذِهِ النَّارِ، وَسَأَلْتَنِي جِسْمِي "، أَوْ قَالَ: " ⦗٢٢٨⦘ كُلَّهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوعبیدہ بن حذیفہ رحمہ اللہ قاضی بنے تو ایک معزز آدمی ان کے پاس آیا، وہ آگ جلا رہے تھے۔ اس نے ضرورت کا سوال کیا تو ابن حذیفہ رحمہ اللہ نے کہا: میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ اپنی انگلی اس آگ میں ڈالو۔ اس نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے۔“ انہوں نے کہا: کیا آپ اپنی ایک انگلی کا بخل کر رہے ہیں یا آپ میرے مکمل جسم کو آگ میں دھکیل رہے ہیں؟