کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قاضی اور حاکم کے لیے کسی ذمی کو کاتب بنانا مناسب نہیں، اور نہ ہی ذمی کو کسی ایسے منصب پر فائز کیا جائے جہاں اسے کسی مسلمان پر فوقیت و برتری حاصل ہو۔
رُوِّينَا فِي كِتَابِ السِّيَرِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ " وَاللَّفْظُ عَامٌّ.
حافظ ثناء اللہ
ہمیں کتاب السیر میں عروہ رحمہ اللہ کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت پہنچی ہے کہ (آپ ﷺ نے فرمایا): ”میں ہرگز کسی مشرک سے مدد نہیں لوں گا۔“ اور (اس حدیث کے) الفاظ عام ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحُرشِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَعَلَّمْتُ لَهُ كِتَابَ يَهُودَ، وَقَالَ: " إِنِّي وَاللهِ مَا آمَنُ يَهُودَ عَلَى كِتَابِي "، فَتَعَلَّمْتُهُ، فَلَمْ يَمُرَّ بِي نِصْفُ شَهْرٍ. وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: " إِلَّا نِصْفُ شَهْرٍ حَتَّى ⦗٢١٦⦘ حَذَقْتُهُ "، قَالَ أَبِي: " فَكُنْتُ أَكْتُبُ لَهُ إِذَا كَتَبَ، وَأَقْرَأُ لَهُ إِذَا كُتِبَ إِلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں یہود کی کتابت سیکھوں اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں یہود سے کتابت کے معاملے میں امن میں نہیں ہوں۔“ میں نے نصف مہینہ میں کتابت سیکھ لی۔
ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نصف مہینہ میں ماہر ہو گیا۔ میرے والد نے کہا: میں آپ ﷺ کے لیے لکھتا، جب خط لکھنا ہوتا؛ جب خط آتا تو پڑھتا۔
ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نصف مہینہ میں ماہر ہو گیا۔ میرے والد نے کہا: میں آپ ﷺ کے لیے لکھتا، جب خط لکھنا ہوتا؛ جب خط آتا تو پڑھتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحَنِينِ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنِ الْأَزْهَرِ بْنِ رَاشِدٍ، قَالَ: كَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ، فَإِذَا حَدَّثَهُمْ بِحَدِيثٍ لَا يَدْرُونَ مَا هُوَ، أَتَوُا الْحَسَنَ فَفَسَّرَ لَهُمْ، فَحَدَّثَهُمْ ذَاتَ يَوْمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسْتَضِيئُوا بِنَارِ الْمُشْرِكِينَ وَلَا تَنْقُشُوا فِي خَوَاتِيمِكُمْ عَرَبِيًّا "، فَأَتَوَا الْحَسَنَ، فَقَالُوا: إِنَّ أَنَسًا حَدَّثَنَا الْيَوْمَ بِحَدِيثٍ، لَا نَدْرِي مَا هُوَ؟ قَالَ: وَمَا حَدَّثَكُمْ؟ فَذَكَرُوهُ، قَالَ: نَعَمْ، أَمَّا قَوْلُهُ: " لَا تَنْقُشُوا فِي خَوَاتِيمِكُمْ عَرَبِيًّا، فَإِنَّهُ يَقُولُ: لَا تَنْقُشُوا فِي خَوَاتِيمِكُمْ مُحَمَّدًا، وَأَمَّا قَوْلُهُ: " لَا تَسْتَضِيئُوا بِنَارِ الْمُشْرِكِينَ " فَإِنَّهُ يَقُولُ: لَا تَسْتَشِيرُوا الْمُشْرِكِينَ فِي شَيْءٍ مِنْ أُمُورِكُمْ، وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلِّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِنْ دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا} [آل عمران: ١١٨] ".
حافظ ثناء اللہ
ازہر بن راشد فرماتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے شاگردوں کو احادیث بیان کرتے، لیکن ان کو سمجھ نہ آتی، وہ حضرت حسن رحمہ اللہ کے پاس آکر اس کی تفسیر معلوم کرتے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے معاملات میں مشرکین سے مشورہ نہ کیا کرو اور نہ ہی اپنی انگوٹھی کا نقش محمد بناؤ۔“ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے شاگرد حضرت حسن رحمہ اللہ کے پاس آئے تو انھوں نے یہ تفسیر بیان کی کہ اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا﴾ [سورة آل عمران: 118] ”اے ایمان والو! اپنے علاوہ کسی کو دوست نہ بناؤ، وہ تمہارے ساتھ بخل میں کمی نہ کریں گے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُوعَلِيٍّ الْوَشَّاءُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عِيَاضًا الْأَشْعَرِيَّ، أَنَّ أَبَا مُوسَى، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَفَدَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَمَعَهُ كَاتَبٌ نَصْرَانِيُّ، فَأَعْجَبَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا رَأَى مِنْ حِفْظِهِ، فَقَالَ: " قُلْ لِكَاتِبِكَ يَقْرَأْ لَنَا كِتَابًا "، قَالَ: إِنَّهُ نَصْرَانِيٌّ، لَا يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ، فَانْتَهَرَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهَمَّ بِهِ، وَقَالَ: " لَا تُكْرِمُوهُمْ إِذْ أَهَانَهُمُ اللهُ، وَلَا تُدْنُوهُمْ إِذْ أَقْصَاهُمُ اللهُ، وَلَا تَأْتَمِنُوهُمْ إِذْ خَوَّنَهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ".
حافظ ثناء اللہ
عیاض اشعری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ وفد کے ساتھ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ ان کے ساتھ ایک نصرانی کاتب تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو وہ بہت پسند آیا جب اس کے حافظے کو دیکھا۔ انھوں نے فرمایا کہ اپنے کاتب سے کہو کہ وہ ہمارا خط پڑھے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ عیسائی ہے، مسجد میں داخل نہیں ہوتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ڈانٹ اور تکلیف دینے کا ارادہ کیا اور فرمایا کہ جب اللہ نے ان کی تذلیل کی ہے، تم ان کو عزت نہ دو، تم ان کو قریب نہ کرو جب اللہ نے ان کو دور رکھا ہے اور تم ان کو امین نہ بناؤ جب اللہ نے ان کو بےایمان رکھا ہے۔
(ب) ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ان کے پاس چمڑے کا ٹکڑا لے کر آئیں۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا کاتب نصرانی تھا۔ وہ اس کو لے کر آیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو وہ اچھا لگا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ حافظ ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمارا ایک خط شام سے آیا ہے، اس کو بلاؤ کہ وہ پڑھے۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ وہ مسجد میں داخل ہونے کی طاقت نہیں رکھتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا وہ جنبی ہے؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نہیں، بلکہ وہ نصرانی ہے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انھوں نے مجھے ڈانٹا اور میری ران پر مارا اور فرمایا کہ اس کو نکال دو اور پڑھا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾ [سورة المائدة: 51] ”اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ جس نے تم میں سے ان سے دوستی کی وہ انہی میں سے ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتے۔“ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے دوستی نہیں کی، وہ صرف کاتب ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اہل اسلام سے کوئی کاتب آپ کو نہیں ملا، آپ ان کو قریب نہ کریں جب اللہ نے ان کو دور رکھا ہے، آپ ان کو امین نہ بنائیں جب اللہ نے ان کو بےایمان رکھا ہے، آپ ان کو عزت نہ دیں جب اللہ نے ان کو ذلیل کیا ہے، تو اس کو نکال دیا گیا۔
(ب) ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ان کے پاس چمڑے کا ٹکڑا لے کر آئیں۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا کاتب نصرانی تھا۔ وہ اس کو لے کر آیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو وہ اچھا لگا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ حافظ ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمارا ایک خط شام سے آیا ہے، اس کو بلاؤ کہ وہ پڑھے۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ وہ مسجد میں داخل ہونے کی طاقت نہیں رکھتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا وہ جنبی ہے؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نہیں، بلکہ وہ نصرانی ہے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انھوں نے مجھے ڈانٹا اور میری ران پر مارا اور فرمایا کہ اس کو نکال دو اور پڑھا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾ [سورة المائدة: 51] ”اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ جس نے تم میں سے ان سے دوستی کی وہ انہی میں سے ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتے۔“ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے دوستی نہیں کی، وہ صرف کاتب ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اہل اسلام سے کوئی کاتب آپ کو نہیں ملا، آپ ان کو قریب نہ کریں جب اللہ نے ان کو دور رکھا ہے، آپ ان کو امین نہ بنائیں جب اللہ نے ان کو بےایمان رکھا ہے، آپ ان کو عزت نہ دیں جب اللہ نے ان کو ذلیل کیا ہے، تو اس کو نکال دیا گیا۔