السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: لا ينبغي للقاضي ولا للوالي أن يتخذ كاتبا ذميا ولا يضع الذمي في موضع يتفضل فيه مسلما باب: قاضی اور حاکم کے لیے کسی ذمی کو کاتب بنانا مناسب نہیں، اور نہ ہی ذمی کو کسی ایسے منصب پر فائز کیا جائے جہاں اسے کسی مسلمان پر فوقیت و برتری حاصل ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحَنِينِ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنِ الْأَزْهَرِ بْنِ رَاشِدٍ، قَالَ: كَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ، فَإِذَا حَدَّثَهُمْ بِحَدِيثٍ لَا يَدْرُونَ مَا هُوَ، أَتَوُا الْحَسَنَ فَفَسَّرَ لَهُمْ، فَحَدَّثَهُمْ ذَاتَ يَوْمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسْتَضِيئُوا بِنَارِ الْمُشْرِكِينَ وَلَا تَنْقُشُوا فِي خَوَاتِيمِكُمْ عَرَبِيًّا "، فَأَتَوَا الْحَسَنَ، فَقَالُوا: إِنَّ أَنَسًا حَدَّثَنَا الْيَوْمَ بِحَدِيثٍ، لَا نَدْرِي مَا هُوَ؟ قَالَ: وَمَا حَدَّثَكُمْ؟ فَذَكَرُوهُ، قَالَ: نَعَمْ، أَمَّا قَوْلُهُ: " لَا تَنْقُشُوا فِي خَوَاتِيمِكُمْ عَرَبِيًّا، فَإِنَّهُ يَقُولُ: لَا تَنْقُشُوا فِي خَوَاتِيمِكُمْ مُحَمَّدًا، وَأَمَّا قَوْلُهُ: " لَا تَسْتَضِيئُوا بِنَارِ الْمُشْرِكِينَ " فَإِنَّهُ يَقُولُ: لَا تَسْتَشِيرُوا الْمُشْرِكِينَ فِي شَيْءٍ مِنْ أُمُورِكُمْ، وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلِّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِنْ دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا} [آل عمران: ١١٨] ".ازہر بن راشد فرماتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے شاگردوں کو احادیث بیان کرتے، جب کوئی ایسی حدیث بیان کرتے جو ان کو سمجھ نہ آتی تو وہ حضرت حسن رحمہ اللہ کے پاس آکر اس کی تفسیر معلوم کرتے۔ ایک دن انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مشرکین کی آگ سے روشنی حاصل نہ کرو اور اپنی انگوٹھیوں میں عربی نقش نہ کرواؤ۔“ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے شاگرد حضرت حسن رحمہ اللہ کے پاس آئے اور کہا: آج انس رضی اللہ عنہ نے ہمیں ایک حدیث بیان کی ہے جس کا مطلب ہمیں معلوم نہیں۔ انہوں نے پوچھا: انہوں نے تمہیں کیا بیان کیا ہے؟ انہوں نے وہ حدیث ذکر کی۔ انہوں نے فرمایا: ہاں، آپ ﷺ کا یہ فرمان کہ ”اپنی انگوٹھیوں میں عربی نقش نہ کرواؤ“ تو اس کا مطلب ہے کہ اپنی انگوٹھیوں میں ”محمد“ نقش نہ کرواؤ، اور یہ فرمان کہ ”مشرکین کی آگ سے روشنی حاصل نہ کرو“ تو اس کا مطلب ہے کہ اپنے کسی معاملے میں مشرکین سے مشورہ نہ کرو، اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا﴾ [سورة آل عمران: 118] ”اے ایمان والو! اپنے سوا کسی کو راز دار دوست نہ بناؤ، وہ تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کمی نہیں کریں گے۔“