السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: لا ينبغي للقاضي ولا للوالي أن يتخذ كاتبا ذميا ولا يضع الذمي في موضع يتفضل فيه مسلما باب: قاضی اور حاکم کے لیے کسی ذمی کو کاتب بنانا مناسب نہیں، اور نہ ہی ذمی کو کسی ایسے منصب پر فائز کیا جائے جہاں اسے کسی مسلمان پر فوقیت و برتری حاصل ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُوعَلِيٍّ الْوَشَّاءُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عِيَاضًا الْأَشْعَرِيَّ، أَنَّ أَبَا مُوسَى، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَفَدَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَمَعَهُ كَاتَبٌ نَصْرَانِيُّ، فَأَعْجَبَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا رَأَى مِنْ حِفْظِهِ، فَقَالَ: " قُلْ لِكَاتِبِكَ يَقْرَأْ لَنَا كِتَابًا "، قَالَ: إِنَّهُ نَصْرَانِيٌّ، لَا يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ، فَانْتَهَرَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهَمَّ بِهِ، وَقَالَ: " لَا تُكْرِمُوهُمْ إِذْ أَهَانَهُمُ اللهُ، وَلَا تُدْنُوهُمْ إِذْ أَقْصَاهُمُ اللهُ، وَلَا تَأْتَمِنُوهُمْ إِذْ خَوَّنَهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ".عیاض اشعری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ وفد کے ساتھ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ ان کے ساتھ ایک نصرانی کاتب تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو وہ بہت پسند آیا جب اس کے حافظے کو دیکھا۔ انھوں نے فرمایا کہ اپنے کاتب سے کہو کہ وہ ہمارا خط پڑھے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ عیسائی ہے، مسجد میں داخل نہیں ہوتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ڈانٹ اور تکلیف دینے کا ارادہ کیا اور فرمایا کہ جب اللہ نے ان کی تذلیل کی ہے، تم ان کو عزت نہ دو، تم ان کو قریب نہ کرو جب اللہ نے ان کو دور رکھا ہے اور تم ان کو امین نہ بناؤ جب اللہ نے ان کو بےایمان رکھا ہے۔
(ب) ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ان کے پاس چمڑے کا ٹکڑا لے کر آئیں۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا کاتب نصرانی تھا۔ وہ اس کو لے کر آیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو وہ اچھا لگا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ حافظ ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمارا ایک خط شام سے آیا ہے، اس کو بلاؤ کہ وہ پڑھے۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ وہ مسجد میں داخل ہونے کی طاقت نہیں رکھتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا وہ جنبی ہے؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نہیں، بلکہ وہ نصرانی ہے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انھوں نے مجھے ڈانٹا اور میری ران پر مارا اور فرمایا کہ اس کو نکال دو اور پڑھا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾ [سورة المائدة: 51] ”اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ جس نے تم میں سے ان سے دوستی کی وہ انہی میں سے ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتے۔“ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے دوستی نہیں کی، وہ صرف کاتب ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اہل اسلام سے کوئی کاتب آپ کو نہیں ملا، آپ ان کو قریب نہ کریں جب اللہ نے ان کو دور رکھا ہے، آپ ان کو امین نہ بنائیں جب اللہ نے ان کو بےایمان رکھا ہے، آپ ان کو عزت نہ دیں جب اللہ نے ان کو ذلیل کیا ہے، تو اس کو نکال دیا گیا۔