السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: لا ينبغي للقاضي ولا للوالي أن يتخذ كاتبا ذميا ولا يضع الذمي في موضع يتفضل فيه مسلما باب: قاضی اور حاکم کے لیے کسی ذمی کو کاتب بنانا مناسب نہیں، اور نہ ہی ذمی کو کسی ایسے منصب پر فائز کیا جائے جہاں اسے کسی مسلمان پر فوقیت و برتری حاصل ہو۔
حدیث نمبر: 20407
رُوِّينَا فِي كِتَابِ السِّيَرِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ " وَاللَّفْظُ عَامٌّ.حافظ ثناء اللہ
ہمیں کتاب السیر میں عروہ رحمہ اللہ کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت پہنچی ہے کہ (آپ ﷺ نے فرمایا): ”میں ہرگز کسی مشرک سے مدد نہیں لوں گا۔“ اور (اس حدیث کے) الفاظ عام ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحُرشِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَعَلَّمْتُ لَهُ كِتَابَ يَهُودَ، وَقَالَ: " إِنِّي وَاللهِ مَا آمَنُ يَهُودَ عَلَى كِتَابِي "، فَتَعَلَّمْتُهُ، فَلَمْ يَمُرَّ بِي نِصْفُ شَهْرٍ. وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: " إِلَّا نِصْفُ شَهْرٍ حَتَّى ⦗٢١٦⦘ حَذَقْتُهُ "، قَالَ أَبِي: " فَكُنْتُ أَكْتُبُ لَهُ إِذَا كَتَبَ، وَأَقْرَأُ لَهُ إِذَا كُتِبَ إِلَيْهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں یہود کی کتابت سیکھوں اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں یہود سے کتابت کے معاملے میں امن میں نہیں ہوں۔“ میں نے نصف مہینہ میں کتابت سیکھ لی۔
ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نصف مہینہ میں ماہر ہو گیا۔ میرے والد نے کہا: میں آپ ﷺ کے لیے لکھتا، جب خط لکھنا ہوتا؛ جب خط آتا تو پڑھتا۔