أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ حدیث کی طرح ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّهُ قَالَ لِقَيِّمٍ لَهُ جَدَّ نَخْلَهُ بِاللَّيْلِ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ جِدَادِ اللَّيْلِ وَصِرَامِ اللَّيْلِ؟ أَوْ قَالَ: وَحَصَادِ اللَّيْلِ. قَالَ سُفْيَانُ: يُقَالُ: حَتَّى يَكُونَ بِالنَّهَارِ وَيَحْضُرَهُ الْمَسَاكِينُ..
حافظ ثناء اللہ
علی بن حسین رحمہ اللہ نے اپنے نگران سے کہا جس نے رات کے وقت ان کی کھجوروں کا پھل توڑ لیا تھا: کیا آپ جانتے نہیں ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رات کے وقت کھجوروں کا پھل توڑنے اور کاٹنے سے منع کیا ہے؟ یا فرمایا: رات کے وقت فصل کاٹنے سے۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: کہا جاتا ہے: تاکہ یہ کام دن میں ہو اور مسکین لوگ بھی حاضر ہو جائیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، بِهَا أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ لَمْ ⦗٤٨٨⦘ يَذْكُرِ الصِّرَامَ وَالْحَصَادَ. قَالَ سُفْيَانُ: فَسَأَلُوا جَعْفَرًا عَنِ الْأَضْحَى بِاللَّيْلِ فَقَالَ: لَا. قَالَ سُفْيَانُ: هَذَا فِي حَالِ الْمَسَاكِينِ.
حافظ ثناء اللہ
سفیان رحمہ اللہ نے اسی مفہوم کی روایت بیان کی، لیکن اس میں (رات کو) کھجور توڑنے اور کھیتی کاٹنے کا ذکر نہیں کیا۔ سفیان کہتے ہیں: لوگوں نے جعفر سے رات کے وقت قربانی کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: نہیں۔ سفیان کہتے ہیں: یہ (ممانعت) مسکینوں کی حالت کے پیش نظر ہے۔