السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: التضحية في الليل من أيام منى باب: ایامِ منیٰ میں رات کے وقت قربانی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19201
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، بِهَا أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ لَمْ ⦗٤٨٨⦘ يَذْكُرِ الصِّرَامَ وَالْحَصَادَ. قَالَ سُفْيَانُ: فَسَأَلُوا جَعْفَرًا عَنِ الْأَضْحَى بِاللَّيْلِ فَقَالَ: لَا. قَالَ سُفْيَانُ: هَذَا فِي حَالِ الْمَسَاكِينِ.حافظ ثناء اللہ
سفیان رحمہ اللہ نے اسی مفہوم کی روایت بیان کی، لیکن اس میں (رات کو) کھجور توڑنے اور کھیتی کاٹنے کا ذکر نہیں کیا۔ سفیان کہتے ہیں: لوگوں نے جعفر سے رات کے وقت قربانی کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: نہیں۔ سفیان کہتے ہیں: یہ (ممانعت) مسکینوں کی حالت کے پیش نظر ہے۔