کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو قربانی کا جانور خریدے، پھر وہ مر جائے، یا چوری ہو جائے، یا گم ہو جائے۔
حدیث نمبر: 19195
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا رَأَى هَدَايَا لَهُ فِيهَا نَاقَةٌ عَوْرَاءُ، فَقَالَ: إِنْ كَانَ أَصَابَهَا بَعْدَ مَا اشْتَرَيْتُمُوهَا فَأَمْضُوهَا، وَإِنْ كَانَ أَصَابَهَا قَبْلَ أَنْ تَشْتَرُوهَا فَأَبْدِلُوهَا.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جس شخص کی قربانی گم ہوگئی، اگر وہ نذر کا جانور تھا تو اس کو تبدیل کیا جائے، اگر نفلی قربانی تھی تو پھر اختیار ہے بدل لے یا ترک کردے۔
حدیث نمبر: 19196
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنبأ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ: قَالَ نَافِعٌ: ⦗٤٨٧⦘ كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: أَيُّمَا رَجُلٍ أَهْدَى هَدِيَّةً فَضَلَّتْ فَإِنْ كَانَتْ نَذْرًا أَبْدَلَهَا، وَإِنْ كَانَتْ تَطَوُّعًا فَإِنْ شَاءَ أَبْدَلَهَا، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهَا. هَكَذَا رَوَاهُ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ مَوْقُوفًا، وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ عَنْ نَافِعٍ مَرْفُوعًا، وَالصَّوَابُ مَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
تمیم بن حویص مصری فرماتے ہیں کہ میں نے منیٰ میں قربانی کے لیے ایک بکری خریدی جو گم ہوگئی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: آپ کو کچھ نقصان نہیں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر قربانی کے دن گزر جانے کے بعد بھی وہ مل جائے تو وہ اسے ذبح کر دے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر قربانی کے دن گزر جانے کے بعد بھی وہ مل جائے تو وہ اسے ذبح کر دے۔
حدیث نمبر: 19197
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَدْلُ، أنبأ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ حُوَيَصٍ يَعْنِي الْمِصْرِيَّ، قَالَ: اشْتَرَيْتُ شَاةً بِمِنًى أُضْحِيَّةً فَضَلَّتْ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: لَا يَضُرُّكَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَكِنَّهُ إِنْ وَجَدَهَا بَعْدَ مَا أَوْجَبَهَا ذَبَحَهَا وَإِنْ مَضَتْ أَيَّامُ النَّحْرِ كَمَا يَصْنَعُ فِي الْبُدْنِ مِنَ الْهَدْيِ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے دو قربانیاں روانہ کیں جو گم ہو گئیں، تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان کی جگہ دو مزید قربانیاں بھیج دیں جنہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نحر کروا دیا۔ پھر پہلے والے دو قربانی کے جانور بھی مل گئے تو انہیں بھی نحر کروا دیا۔ پھر فرماتی ہیں کہ قربانی کا یہی طریقہ ہے۔
حدیث نمبر: 19198
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَاقَتْ بَدَنَتَيْنِ فَضَلَّتَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ بَدَنَتَيْنِ مَكَانَهُمَا، فَنَحَرَتْهُمَا ثُمَّ وَجَدَتِ الْأُولَيَيْنِ فَنَحَرَتْهُمَا أَيْضًا، ثُمَّ قَالَتْ: هَكَذَا السُّنَّةُ فِي الْبُدْنِ..
حافظ ثناء اللہ
سابقہ حدیث کی طرح ہے۔