کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو قربانی کا جانور خریدے، پھر وہ مر جائے، یا چوری ہو جائے، یا گم ہو جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا رَأَى هَدَايَا لَهُ فِيهَا نَاقَةٌ عَوْرَاءُ، فَقَالَ: إِنْ كَانَ أَصَابَهَا بَعْدَ مَا اشْتَرَيْتُمُوهَا فَأَمْضُوهَا، وَإِنْ كَانَ أَصَابَهَا قَبْلَ أَنْ تَشْتَرُوهَا فَأَبْدِلُوهَا.
حافظ ثناء اللہ
ابوحصین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنی قربانی کے جانوروں (ہدی) میں ایک کانی اونٹنی دیکھی تو فرمایا: اگر خریدنے کے بعد عیب پیدا ہوا ہے تو اس کی قربانی کر دو، اور اگر خریدنے سے پہلے عیب موجود تھا تو اسے تبدیل کر لو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنبأ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ: قَالَ نَافِعٌ: ⦗٤٨٧⦘ كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: أَيُّمَا رَجُلٍ أَهْدَى هَدِيَّةً فَضَلَّتْ فَإِنْ كَانَتْ نَذْرًا أَبْدَلَهَا، وَإِنْ كَانَتْ تَطَوُّعًا فَإِنْ شَاءَ أَبْدَلَهَا، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهَا. هَكَذَا رَوَاهُ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ مَوْقُوفًا، وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ عَنْ نَافِعٍ مَرْفُوعًا، وَالصَّوَابُ مَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ جس شخص کی بھیجی ہوئی قربانی (ہدی) گم ہو جائے، اگر وہ نذر کا جانور تھا تو اسے تبدیل کرے، اور اگر نفلی قربانی تھی تو اسے اختیار ہے، چاہے تو بدل لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔
عبداللہ بن عامر اسلمی نے اسے نافع سے مرفوعاً روایت کیا ہے، لیکن درست یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔
عبداللہ بن عامر اسلمی نے اسے نافع سے مرفوعاً روایت کیا ہے، لیکن درست یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَدْلُ، أنبأ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ حُوَيَصٍ يَعْنِي الْمِصْرِيَّ، قَالَ: اشْتَرَيْتُ شَاةً بِمِنًى أُضْحِيَّةً فَضَلَّتْ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: لَا يَضُرُّكَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَكِنَّهُ إِنْ وَجَدَهَا بَعْدَ مَا أَوْجَبَهَا ذَبَحَهَا وَإِنْ مَضَتْ أَيَّامُ النَّحْرِ كَمَا يَصْنَعُ فِي الْبُدْنِ مِنَ الْهَدْيِ.
حافظ ثناء اللہ
تمیم بن حویص مصری فرماتے ہیں کہ میں نے منیٰ میں قربانی کے لیے ایک بکری خریدی جو گم ہو گئی۔ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: آپ کو کوئی نقصان نہیں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لیکن اگر اسے (قربانی کے لیے) واجب کر لینے کے بعد وہ مل جائے تو اسے ذبح کر دے، اگرچہ قربانی کے دن گزر چکے ہوں، جیسا کہ ہدی کے اونٹوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لیکن اگر اسے (قربانی کے لیے) واجب کر لینے کے بعد وہ مل جائے تو اسے ذبح کر دے، اگرچہ قربانی کے دن گزر چکے ہوں، جیسا کہ ہدی کے اونٹوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَاقَتْ بَدَنَتَيْنِ فَضَلَّتَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ بَدَنَتَيْنِ مَكَانَهُمَا، فَنَحَرَتْهُمَا ثُمَّ وَجَدَتِ الْأُولَيَيْنِ فَنَحَرَتْهُمَا أَيْضًا، ثُمَّ قَالَتْ: هَكَذَا السُّنَّةُ فِي الْبُدْنِ..
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے قربانی کے دو اونٹ روانہ کیے جو گم ہو گئے، تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان کی جگہ دو اونٹ بھیج دیے جنہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نحر کروا دیا۔ پھر پہلے والے دونوں اونٹ بھی مل گئے تو انہیں بھی نحر کروا دیا۔ پھر فرمایا: قربانی کے اونٹوں میں یہی سنت ہے۔