کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: مجوسی اہل کتاب ہیں اور ان سے بھی جزیہ لیا جائے گا۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ سَعِيدِ بْنِ الْمَرْزُبَانِ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: قَالَ فَرْوَةُ بْنُ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيُّ: عَلَامَ تُؤْخَذُ الْجِزْيَةُ مِنَ الْمَجُوسِ وَلَيْسُوا بِأَهْلِ كِتَابٍ؟ فَقَامَ إِلَيْهِ الْمُسْتَوْرِدُ فَأَخَذَ يُلَبِّبُهُ فَقَالَ: يَا عَدُوَّ اللهِ تَطْعَنُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَعَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ يَعْنِي عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ أَخَذُوا مِنْهُمُ الْجِزْيَةَ؟ فَذَهَبَ بِهِ إِلَى الْقَصْرِ فَخَرَجَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَيْهِمَا وَقَالَ: الْبَدَا، فَجَلَسَا فِي ظِلِّ الْقَصْرِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْمَجُوسِ، كَانَ لَهُمْ عِلْمٌ يَعْلَمُونَهُ، وَكِتَابٌ يَدْرُسُونَهُ، وَإِنَّ مَلِكَهُمْ سَكِرَ فَوَقَعَ عَلَى ابْنَتِهِ أَوْ أُخْتِهِ، فَاطَّلَعَ عَلَيْهِ بَعْضُ أَهْلِ مَمْلَكَتِهِ، فَلَمَّا صَحَا جَاءُوا يُقِيمُونَ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَامْتَنَعَ مِنْهُمْ، فَدَعَا أَهْلَ مَمْلَكَتِهِ، فَلَمَّا أَتَوْهُ قَالَ: تَعْلَمُونَ دِينًا خَيْرًا مِنْ دِينِ ⦗٣١٨⦘ آدَمَ وَقَدْ كَانَ يُنْكِحُ بَنِيهِ مِنْ بَنَاتِهِ، وَأَنَا عَلَى دِينِ آدَمَ، مَا يَرْغَبُ بِكُمْ عَنْ دِينِهِ؟ قَالَ: فَبَايَعُوهُ وَقَاتَلُوا الَّذِينَ خَالَفُوهُمْ حَتَّى قَتَلُوهُمْ، فَأَصْبَحُوا وَقَدْ أَسْرَى عَلَى كِتَابِهِمْ فَرُفِعَ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهِمْ، وَذَهَبَ الْعِلْمُ الَّذِي فِي صُدُورِهِمْ، فَهُمْ أَهْلُ كِتَابٍ، وَقَدْ أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِنْهُمُ الْجِزْيَةَ..
حافظ ثناء اللہ
فروہ بن نوفل اشجعی نے کہا: آپ مجوس سے جزیہ کیوں لیں گے حالانکہ وہ اہل کتاب نہیں؟ تو مستورد نے کہا: اے اللہ کے دشمن! آپ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر تنقید کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے جزیہ وصول کیا۔ جب وہ شاہی محل میں گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ دونوں محل کے سائے میں بیٹھ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں مجوس کے متعلق جانتا ہوں کہ وہ علم سکھاتے تھے اور کتاب پڑھاتے تھے۔ ان کے بادشاہ نے حالتِ نشہ میں اپنی بیٹی یا بہن سے زنا کر لیا، جس کا علم بعض لوگوں کو ہو گیا تو وہ حد کے نفاذ کے لیے آئے۔ انہوں نے ان کو روک دیا۔ پھر اس نے اپنے لوگوں کو بلا کر کہا کہ کیا آدم کے دین سے بہتر بھی کوئی دین ہے، جس میں وہ اپنے بیٹوں کا نکاح اپنی بیٹیوں سے کر دیتے تھے، میں آدم کے دین پر ہوں۔ راوی کہتے ہیں: انہوں نے اس کی بیعت کی اور اپنے مخالفین سے لڑائی کی یہاں تک کہ انہیں قتل کر دیا، پھر جب صبح ہوئی تو ان کی کتاب راتوں رات ان کے درمیان سے اٹھا لی گئی تھی اور ان کے سینوں کا علم ختم کر دیا گیا تھا، پس وہ اہل کتاب ہیں۔ ان سے رسول اللہ ﷺ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جزیہ وصول کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18650
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ الْعَاصِمِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ يَقُولُ: وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، وَرَوَاهُ عَنْ أَبِي سَعْدٍ الْبَقَّالِ، فَقَالَ: عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، وَنَصَرُ بْنُ عَاصِمٍ هُوَ اللَّيْثِيُّ، وَإِنَّمَا هُوَ عِيسَى بْنُ عَاصِمٍ الْأَسَدِيُّ كُوفِيٌّ. قَالَ ابْنُ خُزَيْمَةَ: وَالْغَلَطُ فِيهِ مِنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ لَا مِنَ الشَّافِعِيِّ، فَقَدْ رَوَاهُ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ غَيْرُ الشَّافِعِيِّ، فَقَالَ: عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ.
حافظ ثناء اللہ
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سند میں ابن عیینہ ہیں جنہوں نے اسے ابو سعد بقال سے روایت کیا اور کہا: ”نصر بن عاصم سے“، حالانکہ نصر بن عاصم تو لیثی ہیں، جبکہ درحقیقت یہ عیسیٰ بن عاصم اسدی کوفی ہیں۔ ابن خزیمہ فرماتے ہیں کہ اس میں غلطی ابن عیینہ کی طرف سے ہے نہ کہ امام شافعی کی طرف سے، کیونکہ امام شافعی کے علاوہ دوسروں نے بھی اسے ابن عیینہ سے روایت کیا ہے اور کہا ہے: ”نصر بن عاصم سے“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18651
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ بَجَالَةَ بْنَ عَبْدَةَ، يَقُولُ: كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، فَأَتَاهُ كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اقْتُلُوا كُلَّ سَاحِرٍ وَفَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِي مَحْرَمٍ مِنَ الْمَجُوسِ، وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
بجالہ بن عبدہ کہتے ہیں کہ میں جزء بن معاویہ کا کاتب تھا جو احنف بن قیس کے چچا تھے۔ ان کے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا کہ ”ہر جادوگر کو قتل کر دو اور مجوس کے ہر محرم رشتہ داروں کے درمیان تفریق کر دو۔“ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجوس سے جزیہ نہیں لیا تھا یہاں تک کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ ﷺ نے ہجر کے مجوس سے جزیہ لیا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18652
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري ١٣٥٧»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مُخْتَصَرًا فِي الْجِزْيَةِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: حَدِيثُ بَجَالَةَ مُتَّصِلٌ ثَابِتٌ، وَإِنَّهُ أَدْرَكَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَانَ رَجُلًا فِي زَمَانِهِ كَاتِبًا لِعُمَّالِهِ، وَحَدِيثُ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّصِلٌ وَبِهِ نَأْخُذُ ⦗٣١٩⦘ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ الْحِجَازِ حَدِيثَانِ مُنْقَطِعَانِ بِأَخْذِ الْجِزْيَةِ مِنَ الْمَجُوسِ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے سفیان بن عیینہ سے یہی روایت اپنی سند کے ساتھ جزیہ کے بارے میں مختصراً ذکر کی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بجالہ کی حدیث متصل اور ثابت ہے، کیونکہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے اور وہ ان کے دور میں ان کے عاملوں کے کاتب تھے، اور نصر بن عاصم کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے، اور ان کی نبی ﷺ سے روایت بھی متصل ہے اور ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں، اور اہل حجاز کی روایت سے مجوس سے جزیہ لینے کے بارے میں دو منقطع حدیثیں بھی مروی ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18653
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ذَكَرَ الْمَجُوسَ فَقَالَ: مَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ فِي أَمْرِهِمْ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " سُنُّوا بِهِمْ سُنَّةَ أَهْلِ الْكِتَابِ ".
حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجوس کا تذکرہ کیا اور فرمایا: مجھے معلوم نہیں کہ ان کے معاملے میں کیا کروں، تو سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ان کے ساتھ اہل کتاب والا طریقہ اختیار کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18654
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ الْبَحْرَيْنِ، وَأَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخَذَهَا مِنَ الْبَرْبَرِ، زَادَ ابْنُ وَهْبٍ فِي رِوَايَتِهِ أَنَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ فَارِسَ ⦗٣٢٠⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَابْنُ شِهَابٍ إِنَّمَا أَخَذَ حَدِيثَهُ هَذَا عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، وَابْنُ الْمُسَيِّبِ حَسَنُ الْمُرْسَلِ، كَيْفَ وَقَدِ انْضَمَّ إِلَيْهِ مَا تَقَدَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بحرین کے مجوس سے جزیہ وصول فرمایا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بربر سے جزیہ حاصل کیا۔ ابن وہب نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فارس کے مجوس سے جزیہ لیا۔
شیخ فرماتے ہیں کہ ابن شہاب نے یہ حدیث ابن مسیب سے لی ہے، اور ابن مسیب کی مرسل روایت حسن ہوتی ہے، تو کیوں نہ ہو جبکہ اس کے ساتھ پچھلی روایات بھی مل گئی ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18655
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ، وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ السَّوَادِ، وَأَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ بَرْبَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہجر کے مجوس سے جزیہ حاصل کیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سواد کے مجوس سے جزیہ لیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بربر کے مجوس سے جزیہ وصول فرمایا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18656
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ قُشَيْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ بَجَالَةَ بْنِ عَبْدَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَسْبَذِيِّينَ مِنْ أَهْلِ الْبَحْرَيْنِ وَهُمْ مَجُوسُ أَهْلِ هَجَرَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَكَثَ عِنْدَهُ ثُمَّ خَرَجَ، فَسَأَلْتُهُ مَا قَضَى اللهُ وَرَسُولُهُ فِيكُمْ؟ قَالَ: شَرًّا. قُلْتُ: مَهْ؟ قَالَ: الْإِسْلَامُ أَوِ الْقَتْلُ. قَالَ: وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَبِلَ مِنْهُمُ الْجِزْيَةَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: وَأَخَذَ النَّاسُ بِقَوْلِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَتَرَكُوا مَا سَمِعْتُ أَنَا مِنَ الْأَسْبَذِيِّ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: نِعْمَ مَا صَنَعُوا، تَرَكُوا رِوَايَةَ الْأَسْبَذِيِّ الْمَجُوسِيِّ، وَأَخَذُوا بِرِوَايَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى أَنَّهُ قَدْ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ بِمَا قَالَ الْأَسْبَذِيُّ، ثُمَّ يَأْتِيهِ الْوَحْيُ بِقَبُولِ الْجِزْيَةِ مِنْهُمْ فَيَقْبَلُهَا كَمَا قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
بجالہ بن عبدہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ بحرین کا ایک شخص، جو ہجر کے مجوسیوں میں سے تھا، نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ کے پاس ٹھہرا رہا، پھر اس کے نکلنے کے بعد میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارے بارے میں اللہ اور اس کے رسول نے کیا فیصلہ فرمایا ہے؟ اس نے کہا: برا۔ میں نے پوچھا: کیا؟ اس نے کہا: اسلام قبول کرو یا قتل۔
راوی کہتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ان سے جزیہ قبول کر لیا تھا۔
(ب) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ لوگوں نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بات قبول کی لیکن جو میں نے ایک اسبذی سے سنا تھا اس کو ترک کر دیا۔
شیخ فرماتے ہیں: انہوں نے اسبذی مجوسی کی بات کو چھوڑ کر عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بات کو قبول کیا ہے، کیونکہ اس سے بات چیت کے بعد وحی آئی جس کی بنا پر آپ ﷺ نے جزیہ قبول فرمایا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18657
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ كَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٣٢١⦘ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَسَمِعَتِ الْأَنْصَارُ بِقُدُومِهِ، فَوَافَتْ صَلَاةَ الصُّبْحِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ تَعَرَّضُوا لَهُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُمْ وَقَالَ: " أَظُنُّكُمْ سَمِعْتُمْ بِقُدُومِ أَبِي عُبَيْدَةَ وَأَنَّهُ جَاءَ بِشَيْءٍ؟ " فَقَالُوا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: " أَبْشِرُوا وَأَمِّلُوا مَا يَسُرُّكُمْ، فَوَاللهِ مَا الْفَقْرُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ، وَلَكِنْ أَخْشَى أَنْ تُبْسَطَ الدُّنْيَا عَلَيْكُمْ كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَتَنَافَسُوهَا وَتُلْهِيَكُمْ كَمَا أَلْهَتْهُمْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ، جو بنو عامر بن لؤی کے حلیف اور بدری صحابی ہیں، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین کے مجوس سے جزیہ لینے کے لیے روانہ کیا اور بحرین کے امیر سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ تھے جن کو نبی ﷺ نے صلح کے بعد مقرر فرمایا تھا۔ جب سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے مال لے کر آئے اور انصار کو ان کے آنے کی خبر ملی تو انہوں نے صبح کی نماز آپ ﷺ کے ساتھ مکمل کی اور آپ ﷺ کے درپے ہو گئے، تو آپ ﷺ ان کو دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: ”تمہیں ابو عبیدہ کے مال لانے کی خبر ملی ہوگی؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے صحیح فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خوشخبری حاصل کرو جو تمہیں خوش کر دے گی، مجھے تمہاری فقیری کا ڈر نہیں، لیکن تمہاری دنیا کی خوشحالی سے ڈرتا ہوں، جیسے تم سے پہلے لوگوں پر دنیا کشادہ کی گئی، پھر انہوں نے اس میں رغبت کی تو اس دنیا نے ان کو غافل کر دیا، کہیں تمہیں بھی غافل نہ کر دے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18658
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَسَنِ الْحُلْوَانِيِّ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18659
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ ثنا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، وَزِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، قَالَ: بَعَثَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّاسَ مِنْ أَفْنَاءِ الْأَمْصَارِ يُقَاتِلُونَ الْمُشْرِكِينَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي إِسْلَامِ الْهُرْمُزَانِ قَالَ: فَقَالَ: إِنِّي مُسْتَشِيرُكَ فِي مَغَازِيَّ هَذِهِ فَأَشِرْ عَلَيَّ فِي مَغَازِي الْمُسْلِمِينَ. قَالَ: نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، الْأَرْضُ مَثَلُهَا وَمَثَلُ مَنْ فِيهَا مِنَ النَّاسِ مِنْ عَدُوِّ الْمُسْلِمِينَ مَثَلُ طَائِرٍ لَهُ رَأْسٌ وَلَهُ جَنَاحَانِ وَلَهُ رِجْلَانِ، فَإِنْ كُسِرَ أَحَدُ الْجَنَاحَيْنِ نَهَضَتِ الرِّجْلَانِ بِجَنَاحٍ وَالرَّأْسُ، وَإِنْ كُسِرَ الْجَنَاحُ الْآخَرُ نَهَضَتِ الرِّجْلَانِ وَالرَّأْسُ، وَإِنْ شُدِخَ الرَّأْسُ ذَهَبَ الرِّجْلَانِ وَالْجَنَاحَانِ وَالرَّأْسُ، فَالرَّأْسُ كِسْرَى، وَالْجَنَاحُ قَيْصَرُ، وَالْجَنَاحُ الْآخَرُ فَارِسُ، فَمُرِ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَنْفِرُوا إِلَى كِسْرَى. فَقَالَ بَكْرٌ وَزِيَادٌ جَمِيعًا عَنْ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ قَالَ: فَنَدَبَنَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْنَا رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ يُقَالُ لَهُ النُّعْمَانُ بْنُ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَحَشَرَ الْمُسْلِمِينَ مَعَهُ. قَالَ: وَخَرَجْنَا فِيمَنْ خَرَجَ مِنَ النَّاسِ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنَ الْقَوْمِ وَأَدَاةُ النَّاسِ وَسِلَاحُهُمُ الْجَحْفُ وَالرِّمَاحُ الْمُكَسَّرَةُ وَالنَّبْلُ. قَالَ: فَانْطَلَقْنَا نَسِيرُ وَمَا لَنَا كَثِيرُ ⦗٣٢٢⦘ خُيُولٍ، أَوْ مَا لَنَا خُيُولٌ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِأَرْضِ الْعَدُوِّ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ نَهَرٌ، خَرَجَ عَلَيْنَا عَامِلُ كِسْرَى فِي أَرْبَعِينَ أَلْفًا، حَتَّى وَقَفُوا عَلَى النَّهَرِ وَوَقَفْنَا مِنْ حِيَالِهِ الْآخَرِ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَخْرِجُوا إِلَيْنَا رَجُلًا يُكَلِّمُنَا، فَأَخْرَجَ إِلَيْهِ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، وَكَانَ رَجُلًا قَدِ اتَّجَرَ وَعَلِمَ الْأَلْسِنَةَ. قَالَ: فَقَامَ تُرْجُمَانُ الْقَوْمِ فَتَكَلَّمَ دُونَ مَلِكِهِمْ قَالَ: فَقَالَ لِلنَّاسِ: لِيُكَلِّمْنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ: سَلْ عَمَّا شِئْتَ، فَقَالَ: مَا أَنْتُمْ؟ فَقَالَ: نَحْنُ نَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ كُنَّا فِي شَقَاءٍ شَدِيدٍ وَبَلَاءٍ طَوِيلٍ، نَمُصُّ الْجِلْدَ وَالنَّوَى مِنَ الْجُوعِ، وَنَلْبَسُ الْوَبَرَ وَالشَّعَرَ، وَنَعْبُدُ الشَّجَرَ وَالْحَجَرَ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ إِلَيْنَا نَبِيًّا مِنْ أَنْفُسِنَا نَعْرِفُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ، فَأَمَرَنَا نَبِيُّنَا رَسُولُ رَبِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُقَاتِلَكُمْ حَتَّى تَعْبُدُوا اللهَ وَحْدَهُ أَوْ تُؤَدُّوا الْجِزْيَةَ، فَأَخْبَرَنَا نَبِيُّنَا عَنْ رِسَالَةِ رَبِّنَا أَنَّهُ مَنْ قُتِلَ مِنَّا صَارَ إِلَى جَنَّةٍ وَنَعِيمٍ لَمْ يَرَ مِثْلَهُ قَطُّ، وَمَنْ بَقِيَ مِنَّا مَلَكَ رِقَابَكُمْ. قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ بَعْدَ غَدٍ حَتَّى نَأْمُرَ بِالْجِسْرِ يُجْسَرُ. قَالَ: فَافْتَرَقُوا وَجَسَرُوا الْجِسْرَ، ثُمَّ إِنَّ أَعْدَاءَ اللهِ قَطَعُوا إِلَيْنَا فِي مِائَةِ أَلْفٍ، سِتُّونَ أَلْفًا يَجُرُّونَ الْحَدِيدَ، وَأَرْبَعُونَ أَلْفًا رُمَاةُ الْحَدَقِ، فَأَطَافُوا بِنَا عَشْرَ مَرَّاتٍ. قَالَ: وَكُنَّا اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، فَقَالُوا: هَاتُوا لَنَا رَجُلًا يُكَلِّمُنَا، فَأَخْرَجْنَا الْمُغِيرَةَ، فَأَعَادَ عَلَيْهِمْ كَلَامَهُ الْأَوَّلَ، فَقَالَ الْمَلِكُ: أَتَدْرُونَ مَا مَثَلُنَا وَمَثَلُكُمْ؟ قَالَ الْمُغِيرَةُ: مَا مَثَلُنَا وَمَثَلُكُمْ؟ قَالَ: مَثَلُ رَجُلٍ لَهُ بُسْتَانٌ ذُو رَيَاحِينَ، وَكَانَ لَهُ ثَعْلَبٌ قَدْ آذَاهُ، فَقَالَ لَهُ رَبُّ الْبُسْتَانِ: يَا أَيُّهَا الثَّعْلَبُ لَوْلَا أَنْ تُنَتِّنَ حَائِطِي مِنْ جِيفَتِكَ لَهَيَّأْتُ مَا قَدْ قَتَلَكَ، وَأَنَا لَوْلَا أَنْ تُنَتَّنَ بِلَادُنَا مِنْ جِيفَتِكُمْ لَكُنَّا قَدْ قَتَلْنَاكُمْ بِالْأَمْسِ. قَالَ لَهُ الْمُغِيرَةُ: هَلْ تَدْرِي مَا قَالَ الثَّعْلَبُ لِرَبِّ الْبُسْتَانِ؟ قَالَ: مَا قَالَ لَهُ؟ قَالَ: قَالَ لَهُ: يَا رَبَّ الْبُسْتَانِ أَنْ أَمُوتَ فِي حَائِطِكَ ذَا بَيْنَ الرَّيَاحِينِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى أَرْضٍ قَفْرٍ لَيْسَ بِهَا شَيْءٌ، وَإِنَّهُ وَاللهِ لَوْ لَمْ يَكُنْ دِينٌ وَقَدْ كُنَّا مِنْ شَقَاءِ الْعَيْشِ فِيمَا ذَكَرْتُ لَكَ مَا عُدْنَا فِي ذَلِكَ الشَّقَاءِ أَبَدًا حَتَّى نُشَارِكَكُمْ فِيمَا أَنْتُمْ فِيهِ أَوْ نَمُوتَ، فَكَيْفَ بِنَا وَمَنْ قُتِلَ مِنَّا صَارَ إِلَى رَحْمَةِ اللهِ وَجَنَّتِهِ، وَمَنْ بَقِيَ مِنَّا مَلَكَ رِقَابَكُمْ. قَالَ جُبَيْرٌ: فَأَقَمْنَا عَلَيْهِمْ يَوْمًا لَا نُقَاتِلُهُمْ وَلَا يُقَاتِلُنَا الْقَوْمُ. قَالَ: فَقَامَ الْمُغِيرَةُ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا الْأَمِيرُ إِنَّ النَّهَارَ قَدْ صَنَعَ مَا تَرَى، وَاللهِ لَوْ وُلِّيتُ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ مِثْلَ الَّذِي وُلِّيتَ مِنْهُمْ لَأَلْحَقْتُ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ بَيْنَ عِبَادِهِ بِمَا أَحَبَّ. فَقَالَ النُّعْمَانُ: رُبَّمَا أَشْهَدَكَ اللهُ مِثْلَهَا ثُمَّ لَمْ يُنَدِّمْكَ وَلَمْ يُخْزِكَ، وَلَكِنِّي شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا كَانَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ انْتَظَرَ حَتَّى تَهُبَّ الْأَرْوَاحُ وَتَحْضُرَ الصَّلَاةُ، أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لَسْتُ لِكُلِّكُمْ أَسْمَعُ فَانْظُرُوا إِلَى رَايَتِي هَذِهِ، فَإِذَا حَرَّكْتُهَا فَاسْتَعِدُّوا، مَنْ أَرَادَ أَنْ يَطْعَنَ بِرُمْحِهِ فَلْيُيَسِّرْهُ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَضْرِبَ بِعَصَاهُ فَلْيُيَسِّرْ عَصَاهُ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَطْعَنَ بِخِنْجَرِهِ فَلْيُيَسِّرْهُ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَضْرِبَ بِسَيْفِهِ فَلْيُيَسِّرْ سَيْفَهُ، أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي مُحَرِّكُهَا الثَّانِيَةَ فَاسْتَعِدُّوا، ثُمَّ إِنِّي مُحَرِّكُهَا الثَّالِثَةَ⦗٣٢٣⦘ فَشُدُّوا عَلَى بَرَكَةِ اللهِ، فَإِنْ قُتِلْتُ فَالْأَمِيرُ أَخِي، وَإِنْ قُتِلَ أَخِي فَالْأَمِيرُ حُذَيْفَةُ، فَإِنْ قُتِلَ حُذَيْفَةُ فَالْأَمِيرُ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ. قَالَ: وَقَدْ حَدَّثَنِي زِيَادٌ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: قَتَلَهُمُ اللهُ فَنَظَرُوا إِلَى بَغْلٍ مُوَقَّرٍ عَسَلًا وَسَمْنًا قَدْ كَدَسَتِ الْقَتْلَى عَلَيْهِ فَمَا أُشَبِّهُهُ إِلَّا كَوْمًا مِنْ كَوْمِ السَّمَكِ مُلْقًى بَعْضُهُ عَلَى بَعْضٍ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ إِنَّمَا يَكُونُ الْقَتْلُ فِي الْأَرْضِ وَلَكِنَّ هَذَا شَيْءٌ صَنَعَهُ اللهُ، وَظَهَرَ الْمُسْلِمُونَ، وَقُتِلَ النُّعْمَانُ وَأَخُوهُ، وَصَارَ الْأَمْرُ إِلَى حُذَيْفَةَ. فَهَذَا حَدِيثُ زِيَادٍ وَبَكْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
جبیر بن حیہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مشرکوں سے قتال کے لیے مختلف شہروں میں لوگوں کو روانہ کیا۔ انہوں نے حدیث ذکر کی جس میں ہرمزان کے اسلام لانے کا تذکرہ بھی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہرمزان سے کہا: میں اپنی ان جنگوں کے بارے میں تم سے مشورہ لینا چاہتا ہوں، تو مجھے مسلمانوں کی جنگوں کے بارے میں مشورہ دو، تو اس نے کہا: جی ہاں، اے امیر المؤمنین! اس زمین کی مثال اور جس زمین میں یہ لوگ رہتے ہیں ایک پرندے کی ہے کہ ایک اس کا سر، دو پر اور دو پاؤں ہیں، اگر ایک پر کاٹ دیا جائے تو ایک پر، دو پاؤں اور ایک سر سے پرواز کرے گا۔ اگر دوسرا پر بھی کاٹ دیا جائے تو دونوں پاؤں اور سر کے ذریعے اڑے گا۔ اگر سر بھی کچل دیا جائے تو پھر پاؤں، پر اور سر سب ختم ہوجائیں گے۔ سر سے مراد کسریٰ، پر سے مراد قیصر اور دوسرا پر فارس ہے۔ آپ مسلمانوں کو حکم دیں کہ وہ کسریٰ کی جانب جائیں۔ بکر و زیاد دونوں جبیر بن حیہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں بلوا کر ہمارا امیر قبیلہ مزینہ کے نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کو بنا دیا۔ راوی کہتے ہیں: ہم بھی لوگوں کے ساتھ نکل پڑے یہاں تک کہ ہم دشمن قوم کے قریب ہو گئے، اور ہمارے لوگوں کا سامانِ حرب اور ہتھیار چمڑے کی ڈھالیں، ٹوٹے ہوئے نیزے اور تیر تھے۔ ہم چلتے رہے۔ جب دشمن کے قریب آئے تو ہمارے پاس زیادہ گھوڑے نہ تھے۔ ہمارے اور دشمن کے درمیان ایک نہر تھی۔ کسریٰ کے عامل نے چالیس ہزار کا لشکر لا کر نہر کی دوسری جانب کھڑا کر دیا۔ اس نے کہا: بات چیت کے لیے کوئی آدمی نکالو۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو نکالا گیا کیونکہ یہ تاجر آدمی تھے اور زبان سمجھتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ ترجمان نے بات چیت شروع کی۔ کہنے لگا: تمہارا کوئی اور آدمی بات کرے؟ تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جو چاہو پوچھو۔ اس ترجمان نے پوچھا: تم کون ہو؟ تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ہم عرب لوگ ہیں، مصیبت کے مارے ہوئے اور پریشانیوں میں گھرے ہوئے، ہم تو بھوک کے مارے چمڑے کو چوستے ہیں اور گٹھلیاں کھاتے ہیں۔ ہم اونی اور بالوں والا لباس پہنتے ہیں، ہم شجر و حجر کی عبادت کرتے تھے کہ آسمانوں و زمین کے رب نے ہماری جانب ہمارے اندر سے ایک رسول ﷺ مبعوث فرما دیا جن کے والدین کو ہم جانتے ہیں، تو ہمارے رب کے رسول ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ”تمہارے ساتھ قتال کریں یہاں تک کہ تم ایک اللہ کی عبادت کرو یا جزیہ ادا کرو۔“ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہ بھی خبر دی کہ ”ہم میں سے جو قتل کیا جائے گا وہ ایسی جنت اور نعمتوں کی طرف جائے گا جن کی مثل اس نے کبھی نہ دیکھی ہوگی، اور ہم میں سے جو باقی رہے گا وہ تمہاری گردنوں کا مالک بن جائے گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس شخص نے کہا: کل ہم اپنے اور تمہارے درمیان پل بنانے کا حکم دے دیں گے۔ راوی کہتے ہیں: جب پل بن گیا تو اللہ کے دشمنوں نے ہماری طرف ایک لاکھ کا لشکر مرتب کیا۔ ساٹھ ہزار کا لشکر وہ لوہے میں غرق اور چالیس ہزار تیر انداز تھے۔ وہ ہمارے اردگرد دس مرتبہ گھومے۔ راوی کہتے ہیں: ہم صرف بارہ ہزار تھے۔ انہوں نے پھر کہا: کوئی آدمی نکالو جو ہم سے بات چیت کرے۔ ہم نے پھر مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو نکالا تو انہوں نے پہلے والی کلام دہرائی۔ بادشاہ نے کہا: تم اپنی اور ہماری مثال کو جانتے ہو؟ تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہماری اور تمہاری کیا مثال ہے؟ اس بادشاہ نے کہا: اس شخص کی مثال جس کے پاس خوشبودار پودوں والا ایک باغ ہو اور ایک لومڑی نے اس کو تکلیف دی ہو تو باغ کا مالک کہتا ہے: اے لومڑی! اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ تیری لاش سے میرا باغ بدبودار ہو جائے گا تو میں ایسی چیز تیار کر دیتا جو تجھے قتل کر دیتی۔ اور اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ تمہاری لاشوں سے ہمارے شہر بدبودار ہو جائیں گے تو ہم تمہیں کل ہی قتل کر چکے ہوتے۔ تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: جانتے ہو لومڑی نے بستان کے مالک کو کیا جواب دیا تھا؟ تو بادشاہ کہنے لگا: کیا جواب دیا اس نے؟ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس نے کہا: اے باغ کے مالک! مجھے تیرے اس باغ میں خوشبودار پودوں کے درمیان مرنا زیادہ پسندیدہ ہے بہ نسبت اس کے کہ میں ایسی بنجر زمین کی طرف نکل جاؤں جہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! اگر کوئی دین نہ بھی ہوتا، جبکہ ہم اس بدحالی میں تھے جو میں نے تیرے سامنے بیان کی ہے، تب بھی ہم اس بدحالی میں کبھی واپس نہ جاتے یہاں تک کہ جن نعمتوں میں تم ہو ان میں تمہارے شریک ہو جائیں یا مارے جائیں، تو اب ہمارا کیا حال ہوگا جبکہ ہم میں سے جو مارا گیا وہ اللہ کی رحمت اور جنت کا وارث ہوگا اور جو باقی بچا وہ تمہاری گردنوں کا وارث یعنی بادشاہ ہوگا۔ جبیر کہتے ہیں: ایک دن تک نہ انہوں نے اور نہ ہی ہم نے لڑائی کی۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر! دن گزر گیا، جس طرح اللہ نے آپ کو امیر بنایا ہے اگر میں ہوتا تو جنگ شروع کروا چکا ہوتا، پھر جو اللہ کو منظور ہوتا فیصلہ فرما دیتے۔ نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ نے کہا: بسا اوقات اللہ نے آپ کو ایسے مواقع میں حاضر کیا ہے، پھر نہ آپ کو ندامت دی اور نہ رسوا کیا، لیکن میں بہت دفعہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر رہا، جب آپ ﷺ دن کے ابتدائی حصے میں لڑائی نہ کرتے تو ہواؤں کے چلنے اور نماز کا وقت آنے کا انتظار فرماتے۔ خبردار! اے لوگو! میں تم کو آواز نہ دوں گا بلکہ میرے جھنڈے کو دیکھتے رہنا، جب میں اس کو حرکت دوں تو تیاری کر لینا۔ جو نیزہ مارنا چاہے یا لاٹھی تو اپنے ہتھیار تیار کر لینا۔ جو خنجر یا تلوار مارنا چاہے وہ بھی تیاری کر لے۔ جب دوسری مرتبہ جھنڈے کو حرکت دوں تب ہی تیار ہو جاؤ، جب تیسری بار حرکت دی جائے تو حملہ کر دینا۔ اگر میں قتل ہو جاؤں تو میرا بھائی امیر ہوگا۔ اگر وہ شہید ہو جائے تو حذیفہ رضی اللہ عنہ امیر ہوں گے۔ اگر وہ بھی مارے جائیں تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ امیر ہوں گے۔
(ب) زیاد کے والد بیان کرتے ہیں کہ اللہ نے ان کو قتل کر ڈالا تو ہم نے ایک خچر شہد و گھی سے لدی ہوئی دیکھی کہ مقتولوں کا ڈھیر تھا۔ اس کے مثل کوئی چیز نہ تھی جیسے مچھلیوں کا ڈھیر ہوتا ہے جسے ایک دوسرے کے اوپر ڈالا گیا ہے۔ میں پہچان گیا کہ زمین میں قتل ہے لیکن یہ چیز اللہ نے مقدر کی تھی۔ مسلمان غالب آگئے۔ نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی شہید ہو گئے اور حذیفہ رضی اللہ عنہ امیر تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18660
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري ٣١٦٠»
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْحَنَفِيُّ، قَالَ: كَتَبَ حُذَيْفَةُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ أُصِيبَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ، وَفِيمَنْ لَا يَعْرِفُ أَكْثَرُ، فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ رَفَعَ صَوْتَهُ ثُمَّ بَكَى وَبَكَى فَقَالَ: بَلِ اللهُ يَعْرِفُهُمْ - ثَلَاثًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مُخْتَصَرًا عَنِ الْفَضْلِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ الرَّقِّيِّ وَفِيهِ دِلَالَةٌ عَلَى أَخْذِ الْجِزْيَةِ مِنَ الْمَجُوسِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، فَقَدْ كَانَ كِسْرَى وَأَصْحَابُهُ مَجُوسًا.
حافظ ثناء اللہ
ابو رجاء حنفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ فلاں، فلاں مہاجر شہید ہو گئے اور ان کے بارے میں لکھا جن کی پہچان نہ ہو سکی۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خط کو پڑھا تو روئے اور فرمایا: اللہ ان کو جانتے ہیں، تین مرتبہ فرمایا۔ (ب) اس میں جزیہ لینے پر دلالت ہے کیونکہ کسریٰ اور ساتھی مجوسی تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18661
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: إِنَّ أَهْلَ فَارِسَ لَمَّا مَاتَ نَبِيُّهُمْ كَتَبَ لَهُمْ إِبْلِيسُ الْمَجُوسِيَّةَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب اہل فارس کا نبی فوت ہو گیا تو ابلیس نے ان کے لیے مجوسیت لکھ دی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18662
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»