❮
❯
حدیث نمبر: 18660
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ ثنا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، وَزِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، قَالَ: بَعَثَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّاسَ مِنْ أَفْنَاءِ الْأَمْصَارِ يُقَاتِلُونَ الْمُشْرِكِينَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي إِسْلَامِ الْهُرْمُزَانِ قَالَ: فَقَالَ: إِنِّي مُسْتَشِيرُكَ فِي مَغَازِيَّ هَذِهِ فَأَشِرْ عَلَيَّ فِي مَغَازِي الْمُسْلِمِينَ. قَالَ: نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، الْأَرْضُ مَثَلُهَا وَمَثَلُ مَنْ فِيهَا مِنَ النَّاسِ مِنْ عَدُوِّ الْمُسْلِمِينَ مَثَلُ طَائِرٍ لَهُ رَأْسٌ وَلَهُ جَنَاحَانِ وَلَهُ رِجْلَانِ، فَإِنْ كُسِرَ أَحَدُ الْجَنَاحَيْنِ نَهَضَتِ الرِّجْلَانِ بِجَنَاحٍ وَالرَّأْسُ، وَإِنْ كُسِرَ الْجَنَاحُ الْآخَرُ نَهَضَتِ الرِّجْلَانِ وَالرَّأْسُ، وَإِنْ شُدِخَ الرَّأْسُ ذَهَبَ الرِّجْلَانِ وَالْجَنَاحَانِ وَالرَّأْسُ، فَالرَّأْسُ كِسْرَى، وَالْجَنَاحُ قَيْصَرُ، وَالْجَنَاحُ الْآخَرُ فَارِسُ، فَمُرِ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَنْفِرُوا إِلَى كِسْرَى. فَقَالَ بَكْرٌ وَزِيَادٌ جَمِيعًا عَنْ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ قَالَ: فَنَدَبَنَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْنَا رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ يُقَالُ لَهُ النُّعْمَانُ بْنُ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَحَشَرَ الْمُسْلِمِينَ مَعَهُ. قَالَ: وَخَرَجْنَا فِيمَنْ خَرَجَ مِنَ النَّاسِ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنَ الْقَوْمِ وَأَدَاةُ النَّاسِ وَسِلَاحُهُمُ الْجَحْفُ وَالرِّمَاحُ الْمُكَسَّرَةُ وَالنَّبْلُ. قَالَ: فَانْطَلَقْنَا نَسِيرُ وَمَا لَنَا كَثِيرُ ⦗٣٢٢⦘ خُيُولٍ، أَوْ مَا لَنَا خُيُولٌ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِأَرْضِ الْعَدُوِّ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ نَهَرٌ، خَرَجَ عَلَيْنَا عَامِلُ كِسْرَى فِي أَرْبَعِينَ أَلْفًا، حَتَّى وَقَفُوا عَلَى النَّهَرِ وَوَقَفْنَا مِنْ حِيَالِهِ الْآخَرِ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَخْرِجُوا إِلَيْنَا رَجُلًا يُكَلِّمُنَا، فَأَخْرَجَ إِلَيْهِ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، وَكَانَ رَجُلًا قَدِ اتَّجَرَ وَعَلِمَ الْأَلْسِنَةَ. قَالَ: فَقَامَ تُرْجُمَانُ الْقَوْمِ فَتَكَلَّمَ دُونَ مَلِكِهِمْ قَالَ: فَقَالَ لِلنَّاسِ: لِيُكَلِّمْنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ: سَلْ عَمَّا شِئْتَ، فَقَالَ: مَا أَنْتُمْ؟ فَقَالَ: نَحْنُ نَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ كُنَّا فِي شَقَاءٍ شَدِيدٍ وَبَلَاءٍ طَوِيلٍ، نَمُصُّ الْجِلْدَ وَالنَّوَى مِنَ الْجُوعِ، وَنَلْبَسُ الْوَبَرَ وَالشَّعَرَ، وَنَعْبُدُ الشَّجَرَ وَالْحَجَرَ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ إِلَيْنَا نَبِيًّا مِنْ أَنْفُسِنَا نَعْرِفُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ، فَأَمَرَنَا نَبِيُّنَا رَسُولُ رَبِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُقَاتِلَكُمْ حَتَّى تَعْبُدُوا اللهَ وَحْدَهُ أَوْ تُؤَدُّوا الْجِزْيَةَ، فَأَخْبَرَنَا نَبِيُّنَا عَنْ رِسَالَةِ رَبِّنَا أَنَّهُ مَنْ قُتِلَ مِنَّا صَارَ إِلَى جَنَّةٍ وَنَعِيمٍ لَمْ يَرَ مِثْلَهُ قَطُّ، وَمَنْ بَقِيَ مِنَّا مَلَكَ رِقَابَكُمْ. قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ بَعْدَ غَدٍ حَتَّى نَأْمُرَ بِالْجِسْرِ يُجْسَرُ. قَالَ: فَافْتَرَقُوا وَجَسَرُوا الْجِسْرَ، ثُمَّ إِنَّ أَعْدَاءَ اللهِ قَطَعُوا إِلَيْنَا فِي مِائَةِ أَلْفٍ، سِتُّونَ أَلْفًا يَجُرُّونَ الْحَدِيدَ، وَأَرْبَعُونَ أَلْفًا رُمَاةُ الْحَدَقِ، فَأَطَافُوا بِنَا عَشْرَ مَرَّاتٍ. قَالَ: وَكُنَّا اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، فَقَالُوا: هَاتُوا لَنَا رَجُلًا يُكَلِّمُنَا، فَأَخْرَجْنَا الْمُغِيرَةَ، فَأَعَادَ عَلَيْهِمْ كَلَامَهُ الْأَوَّلَ، فَقَالَ الْمَلِكُ: أَتَدْرُونَ مَا مَثَلُنَا وَمَثَلُكُمْ؟ قَالَ الْمُغِيرَةُ: مَا مَثَلُنَا وَمَثَلُكُمْ؟ قَالَ: مَثَلُ رَجُلٍ لَهُ بُسْتَانٌ ذُو رَيَاحِينَ، وَكَانَ لَهُ ثَعْلَبٌ قَدْ آذَاهُ، فَقَالَ لَهُ رَبُّ الْبُسْتَانِ: يَا أَيُّهَا الثَّعْلَبُ لَوْلَا أَنْ تُنَتِّنَ حَائِطِي مِنْ جِيفَتِكَ لَهَيَّأْتُ مَا قَدْ قَتَلَكَ، وَأَنَا لَوْلَا أَنْ تُنَتَّنَ بِلَادُنَا مِنْ جِيفَتِكُمْ لَكُنَّا قَدْ قَتَلْنَاكُمْ بِالْأَمْسِ. قَالَ لَهُ الْمُغِيرَةُ: هَلْ تَدْرِي مَا قَالَ الثَّعْلَبُ لِرَبِّ الْبُسْتَانِ؟ قَالَ: مَا قَالَ لَهُ؟ قَالَ: قَالَ لَهُ: يَا رَبَّ الْبُسْتَانِ أَنْ أَمُوتَ فِي حَائِطِكَ ذَا بَيْنَ الرَّيَاحِينِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى أَرْضٍ قَفْرٍ لَيْسَ بِهَا شَيْءٌ، وَإِنَّهُ وَاللهِ لَوْ لَمْ يَكُنْ دِينٌ وَقَدْ كُنَّا مِنْ شَقَاءِ الْعَيْشِ فِيمَا ذَكَرْتُ لَكَ مَا عُدْنَا فِي ذَلِكَ الشَّقَاءِ أَبَدًا حَتَّى نُشَارِكَكُمْ فِيمَا أَنْتُمْ فِيهِ أَوْ نَمُوتَ، فَكَيْفَ بِنَا وَمَنْ قُتِلَ مِنَّا صَارَ إِلَى رَحْمَةِ اللهِ وَجَنَّتِهِ، وَمَنْ بَقِيَ مِنَّا مَلَكَ رِقَابَكُمْ. قَالَ جُبَيْرٌ: فَأَقَمْنَا عَلَيْهِمْ يَوْمًا لَا نُقَاتِلُهُمْ وَلَا يُقَاتِلُنَا الْقَوْمُ. قَالَ: فَقَامَ الْمُغِيرَةُ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا الْأَمِيرُ إِنَّ النَّهَارَ قَدْ صَنَعَ مَا تَرَى، وَاللهِ لَوْ وُلِّيتُ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ مِثْلَ الَّذِي وُلِّيتَ مِنْهُمْ لَأَلْحَقْتُ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ بَيْنَ عِبَادِهِ بِمَا أَحَبَّ. فَقَالَ النُّعْمَانُ: رُبَّمَا أَشْهَدَكَ اللهُ مِثْلَهَا ثُمَّ لَمْ يُنَدِّمْكَ وَلَمْ يُخْزِكَ، وَلَكِنِّي شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا كَانَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ انْتَظَرَ حَتَّى تَهُبَّ الْأَرْوَاحُ وَتَحْضُرَ الصَّلَاةُ، أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لَسْتُ لِكُلِّكُمْ أَسْمَعُ فَانْظُرُوا إِلَى رَايَتِي هَذِهِ، فَإِذَا حَرَّكْتُهَا فَاسْتَعِدُّوا، مَنْ أَرَادَ أَنْ يَطْعَنَ بِرُمْحِهِ فَلْيُيَسِّرْهُ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَضْرِبَ بِعَصَاهُ فَلْيُيَسِّرْ عَصَاهُ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَطْعَنَ بِخِنْجَرِهِ فَلْيُيَسِّرْهُ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَضْرِبَ بِسَيْفِهِ فَلْيُيَسِّرْ سَيْفَهُ، أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي مُحَرِّكُهَا الثَّانِيَةَ فَاسْتَعِدُّوا، ثُمَّ إِنِّي مُحَرِّكُهَا الثَّالِثَةَ⦗٣٢٣⦘ فَشُدُّوا عَلَى بَرَكَةِ اللهِ، فَإِنْ قُتِلْتُ فَالْأَمِيرُ أَخِي، وَإِنْ قُتِلَ أَخِي فَالْأَمِيرُ حُذَيْفَةُ، فَإِنْ قُتِلَ حُذَيْفَةُ فَالْأَمِيرُ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ. قَالَ: وَقَدْ حَدَّثَنِي زِيَادٌ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: قَتَلَهُمُ اللهُ فَنَظَرُوا إِلَى بَغْلٍ مُوَقَّرٍ عَسَلًا وَسَمْنًا قَدْ كَدَسَتِ الْقَتْلَى عَلَيْهِ فَمَا أُشَبِّهُهُ إِلَّا كَوْمًا مِنْ كَوْمِ السَّمَكِ مُلْقًى بَعْضُهُ عَلَى بَعْضٍ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ إِنَّمَا يَكُونُ الْقَتْلُ فِي الْأَرْضِ وَلَكِنَّ هَذَا شَيْءٌ صَنَعَهُ اللهُ، وَظَهَرَ الْمُسْلِمُونَ، وَقُتِلَ النُّعْمَانُ وَأَخُوهُ، وَصَارَ الْأَمْرُ إِلَى حُذَيْفَةَ. فَهَذَا حَدِيثُ زِيَادٍ وَبَكْرٍ.
حافظ ثناء اللہ

جبیر بن حیہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مشرکوں سے قتال کے لیے مختلف شہروں میں لوگوں کو روانہ کیا۔ انہوں نے حدیث ذکر کی جس میں ہرمزان کے اسلام لانے کا تذکرہ بھی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہرمزان سے کہا: میں اپنی ان جنگوں کے بارے میں تم سے مشورہ لینا چاہتا ہوں، تو مجھے مسلمانوں کی جنگوں کے بارے میں مشورہ دو، تو اس نے کہا: جی ہاں، اے امیر المؤمنین! اس زمین کی مثال اور جس زمین میں یہ لوگ رہتے ہیں ایک پرندے کی ہے کہ ایک اس کا سر، دو پر اور دو پاؤں ہیں، اگر ایک پر کاٹ دیا جائے تو ایک پر، دو پاؤں اور ایک سر سے پرواز کرے گا۔ اگر دوسرا پر بھی کاٹ دیا جائے تو دونوں پاؤں اور سر کے ذریعے اڑے گا۔ اگر سر بھی کچل دیا جائے تو پھر پاؤں، پر اور سر سب ختم ہوجائیں گے۔ سر سے مراد کسریٰ، پر سے مراد قیصر اور دوسرا پر فارس ہے۔ آپ مسلمانوں کو حکم دیں کہ وہ کسریٰ کی جانب جائیں۔ بکر و زیاد دونوں جبیر بن حیہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں بلوا کر ہمارا امیر قبیلہ مزینہ کے نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کو بنا دیا۔ راوی کہتے ہیں: ہم بھی لوگوں کے ساتھ نکل پڑے یہاں تک کہ ہم دشمن قوم کے قریب ہو گئے، اور ہمارے لوگوں کا سامانِ حرب اور ہتھیار چمڑے کی ڈھالیں، ٹوٹے ہوئے نیزے اور تیر تھے۔ ہم چلتے رہے۔ جب دشمن کے قریب آئے تو ہمارے پاس زیادہ گھوڑے نہ تھے۔ ہمارے اور دشمن کے درمیان ایک نہر تھی۔ کسریٰ کے عامل نے چالیس ہزار کا لشکر لا کر نہر کی دوسری جانب کھڑا کر دیا۔ اس نے کہا: بات چیت کے لیے کوئی آدمی نکالو۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو نکالا گیا کیونکہ یہ تاجر آدمی تھے اور زبان سمجھتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ ترجمان نے بات چیت شروع کی۔ کہنے لگا: تمہارا کوئی اور آدمی بات کرے؟ تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جو چاہو پوچھو۔ اس ترجمان نے پوچھا: تم کون ہو؟ تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ہم عرب لوگ ہیں، مصیبت کے مارے ہوئے اور پریشانیوں میں گھرے ہوئے، ہم تو بھوک کے مارے چمڑے کو چوستے ہیں اور گٹھلیاں کھاتے ہیں۔ ہم اونی اور بالوں والا لباس پہنتے ہیں، ہم شجر و حجر کی عبادت کرتے تھے کہ آسمانوں و زمین کے رب نے ہماری جانب ہمارے اندر سے ایک رسول ﷺ مبعوث فرما دیا جن کے والدین کو ہم جانتے ہیں، تو ہمارے رب کے رسول ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ”تمہارے ساتھ قتال کریں یہاں تک کہ تم ایک اللہ کی عبادت کرو یا جزیہ ادا کرو۔“ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہ بھی خبر دی کہ ”ہم میں سے جو قتل کیا جائے گا وہ ایسی جنت اور نعمتوں کی طرف جائے گا جن کی مثل اس نے کبھی نہ دیکھی ہوگی، اور ہم میں سے جو باقی رہے گا وہ تمہاری گردنوں کا مالک بن جائے گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس شخص نے کہا: کل ہم اپنے اور تمہارے درمیان پل بنانے کا حکم دے دیں گے۔ راوی کہتے ہیں: جب پل بن گیا تو اللہ کے دشمنوں نے ہماری طرف ایک لاکھ کا لشکر مرتب کیا۔ ساٹھ ہزار کا لشکر وہ لوہے میں غرق اور چالیس ہزار تیر انداز تھے۔ وہ ہمارے اردگرد دس مرتبہ گھومے۔ راوی کہتے ہیں: ہم صرف بارہ ہزار تھے۔ انہوں نے پھر کہا: کوئی آدمی نکالو جو ہم سے بات چیت کرے۔ ہم نے پھر مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو نکالا تو انہوں نے پہلے والی کلام دہرائی۔ بادشاہ نے کہا: تم اپنی اور ہماری مثال کو جانتے ہو؟ تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہماری اور تمہاری کیا مثال ہے؟ اس بادشاہ نے کہا: اس شخص کی مثال جس کے پاس خوشبودار پودوں والا ایک باغ ہو اور ایک لومڑی نے اس کو تکلیف دی ہو تو باغ کا مالک کہتا ہے: اے لومڑی! اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ تیری لاش سے میرا باغ بدبودار ہو جائے گا تو میں ایسی چیز تیار کر دیتا جو تجھے قتل کر دیتی۔ اور اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ تمہاری لاشوں سے ہمارے شہر بدبودار ہو جائیں گے تو ہم تمہیں کل ہی قتل کر چکے ہوتے۔ تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: جانتے ہو لومڑی نے بستان کے مالک کو کیا جواب دیا تھا؟ تو بادشاہ کہنے لگا: کیا جواب دیا اس نے؟ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس نے کہا: اے باغ کے مالک! مجھے تیرے اس باغ میں خوشبودار پودوں کے درمیان مرنا زیادہ پسندیدہ ہے بہ نسبت اس کے کہ میں ایسی بنجر زمین کی طرف نکل جاؤں جہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! اگر کوئی دین نہ بھی ہوتا، جبکہ ہم اس بدحالی میں تھے جو میں نے تیرے سامنے بیان کی ہے، تب بھی ہم اس بدحالی میں کبھی واپس نہ جاتے یہاں تک کہ جن نعمتوں میں تم ہو ان میں تمہارے شریک ہو جائیں یا مارے جائیں، تو اب ہمارا کیا حال ہوگا جبکہ ہم میں سے جو مارا گیا وہ اللہ کی رحمت اور جنت کا وارث ہوگا اور جو باقی بچا وہ تمہاری گردنوں کا وارث یعنی بادشاہ ہوگا۔ جبیر کہتے ہیں: ایک دن تک نہ انہوں نے اور نہ ہی ہم نے لڑائی کی۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر! دن گزر گیا، جس طرح اللہ نے آپ کو امیر بنایا ہے اگر میں ہوتا تو جنگ شروع کروا چکا ہوتا، پھر جو اللہ کو منظور ہوتا فیصلہ فرما دیتے۔ نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ نے کہا: بسا اوقات اللہ نے آپ کو ایسے مواقع میں حاضر کیا ہے، پھر نہ آپ کو ندامت دی اور نہ رسوا کیا، لیکن میں بہت دفعہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر رہا، جب آپ ﷺ دن کے ابتدائی حصے میں لڑائی نہ کرتے تو ہواؤں کے چلنے اور نماز کا وقت آنے کا انتظار فرماتے۔ خبردار! اے لوگو! میں تم کو آواز نہ دوں گا بلکہ میرے جھنڈے کو دیکھتے رہنا، جب میں اس کو حرکت دوں تو تیاری کر لینا۔ جو نیزہ مارنا چاہے یا لاٹھی تو اپنے ہتھیار تیار کر لینا۔ جو خنجر یا تلوار مارنا چاہے وہ بھی تیاری کر لے۔ جب دوسری مرتبہ جھنڈے کو حرکت دوں تب ہی تیار ہو جاؤ، جب تیسری بار حرکت دی جائے تو حملہ کر دینا۔ اگر میں قتل ہو جاؤں تو میرا بھائی امیر ہوگا۔ اگر وہ شہید ہو جائے تو حذیفہ رضی اللہ عنہ امیر ہوں گے۔ اگر وہ بھی مارے جائیں تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ امیر ہوں گے۔
(ب) زیاد کے والد بیان کرتے ہیں کہ اللہ نے ان کو قتل کر ڈالا تو ہم نے ایک خچر شہد و گھی سے لدی ہوئی دیکھی کہ مقتولوں کا ڈھیر تھا۔ اس کے مثل کوئی چیز نہ تھی جیسے مچھلیوں کا ڈھیر ہوتا ہے جسے ایک دوسرے کے اوپر ڈالا گیا ہے۔ میں پہچان گیا کہ زمین میں قتل ہے لیکن یہ چیز اللہ نے مقدر کی تھی۔ مسلمان غالب آگئے۔ نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی شہید ہو گئے اور حذیفہ رضی اللہ عنہ امیر تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18660
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري ٣١٦٠»