السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: المجوس أهل كتاب والجزية تؤخذ منهم باب: مجوسی اہل کتاب ہیں اور ان سے بھی جزیہ لیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18651
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ الْعَاصِمِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ يَقُولُ: وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، وَرَوَاهُ عَنْ أَبِي سَعْدٍ الْبَقَّالِ، فَقَالَ: عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، وَنَصَرُ بْنُ عَاصِمٍ هُوَ اللَّيْثِيُّ، وَإِنَّمَا هُوَ عِيسَى بْنُ عَاصِمٍ الْأَسَدِيُّ كُوفِيٌّ. قَالَ ابْنُ خُزَيْمَةَ: وَالْغَلَطُ فِيهِ مِنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ لَا مِنَ الشَّافِعِيِّ، فَقَدْ رَوَاهُ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ غَيْرُ الشَّافِعِيِّ، فَقَالَ: عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ.حافظ ثناء اللہ
بجالہ بن عبدہ کہتے ہیں کہ میں جزء بن معاویہ کا کاتب تھا جو احنف بن قیس کے چچا تھے۔ ان کے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا کہ تمام جادوگروں کو قتل کر دو اور مجوس کے محرم رشتہ داروں کے درمیان تفریق کر دو، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی شہادت تک مجوس سے جزیہ نہ لیا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے ہجر کے مجوس سے جزیہ لیا تھا۔ [صحیح۔ لابن خزیمہ]