❮
❯
حدیث نمبر: 18653
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مُخْتَصَرًا فِي الْجِزْيَةِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: حَدِيثُ بَجَالَةَ مُتَّصِلٌ ثَابِتٌ، وَإِنَّهُ أَدْرَكَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَانَ رَجُلًا فِي زَمَانِهِ كَاتِبًا لِعُمَّالِهِ، وَحَدِيثُ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّصِلٌ وَبِهِ نَأْخُذُ ⦗٣١٩⦘ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ الْحِجَازِ حَدِيثَانِ مُنْقَطِعَانِ بِأَخْذِ الْجِزْيَةِ مِنَ الْمَجُوسِ.
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ نے سفیان بن عیینہ سے یہی روایت اپنی سند کے ساتھ جزیہ کے بارے میں مختصراً ذکر کی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بجالہ کی حدیث متصل اور ثابت ہے، کیونکہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے اور وہ ان کے دور میں ان کے عاملوں کے کاتب تھے، اور نصر بن عاصم کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے، اور ان کی نبی ﷺ سے روایت بھی متصل ہے اور ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں، اور اہل حجاز کی روایت سے مجوس سے جزیہ لینے کے بارے میں دو منقطع حدیثیں بھی مروی ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18653
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»