حدیث نمبر: 18658
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ كَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٣٢١⦘ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَسَمِعَتِ الْأَنْصَارُ بِقُدُومِهِ، فَوَافَتْ صَلَاةَ الصُّبْحِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ تَعَرَّضُوا لَهُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُمْ وَقَالَ: " أَظُنُّكُمْ سَمِعْتُمْ بِقُدُومِ أَبِي عُبَيْدَةَ وَأَنَّهُ جَاءَ بِشَيْءٍ؟ " فَقَالُوا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: " أَبْشِرُوا وَأَمِّلُوا مَا يَسُرُّكُمْ، فَوَاللهِ مَا الْفَقْرُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ، وَلَكِنْ أَخْشَى أَنْ تُبْسَطَ الدُّنْيَا عَلَيْكُمْ كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَتَنَافَسُوهَا وَتُلْهِيَكُمْ كَمَا أَلْهَتْهُمْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ..
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ، جو بنو عامر بن لؤی کے حلیف اور بدری صحابی ہیں، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین کے مجوس سے جزیہ لینے کے لیے روانہ کیا اور بحرین کے امیر سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ تھے جن کو نبی ﷺ نے صلح کے بعد مقرر فرمایا تھا۔ جب سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے مال لے کر آئے اور انصار کو ان کے آنے کی خبر ملی تو انہوں نے صبح کی نماز آپ ﷺ کے ساتھ مکمل کی اور آپ ﷺ کے درپے ہو گئے، تو آپ ﷺ ان کو دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: ”تمہیں ابو عبیدہ کے مال لانے کی خبر ملی ہوگی؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے صحیح فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خوشخبری حاصل کرو جو تمہیں خوش کر دے گی، مجھے تمہاری فقیری کا ڈر نہیں، لیکن تمہاری دنیا کی خوشحالی سے ڈرتا ہوں، جیسے تم سے پہلے لوگوں پر دنیا کشادہ کی گئی، پھر انہوں نے اس میں رغبت کی تو اس دنیا نے ان کو ہلاک کر ڈالا، کہیں تمہیں بھی ہلاک نہ کر دے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18658
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»