حدیث نمبر: 17817
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، أَنَّ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ السَّكِينَةَ غَشِيَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ زَيْدٌ: وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ فَوَقَعَتْ فَخِذُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي فَمَا وَجَدْتُ شَيْئًا أَثْقَلَ مِنْ فَخِذِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ: " اكْتُبْ: {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ} [النساء: ٩٥]، الْآيَةَ كُلَّهَا. قَالَ زَيْدٌ: فَكَتَبْتُ ذَلِكَ فِي كَتِفٍ، فَقَالَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى حِينَ سَمِعَ فَضِيلَةَ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ بِمَنْ لَا يَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: فَمَا قَضَى ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ كَلَامَهُ أَوْ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ قَضَى كَلَامَهُ، فَغَشِيَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّكِينَةُ، فَوَقَعَتْ فَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي فَوَجَدْتُ مِنْ ثِقَلِهَا الْمَرَّةَ مِثْلَمَا وَجَدْتُ مِنْ ثِقَلِهَا فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " اقْرَأْ "، فَقَرَأْتُ: {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} [النساء: ٩٥]، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ} [النساء: ٩٥]. قَالَ زَيْدٌ: فَأَلْحَقْتُهَا وَكَانَ مَلْحَقُهَا عِنْدَ صَدْعٍ فِي الْكَتِفِ.
حافظ ثناء اللہ

خارجہ بن زید بن ثابت رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کو سکینت نے ڈھانپ لیا اور میں آپ ﷺ کے پہلو میں تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی ران میری ران پر گری تو میں نے رسول اللہ ﷺ کی ران سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہیں پائی۔ پھر آپ ﷺ کی یہ کیفیت دور ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لکھو! ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ﴾ [سورة النساء: 95]“ پوری آیت۔ زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت میں نے کندھے (کی ہڈی) پر لکھی تو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ جو نابینا آدمی تھے، کھڑے ہوئے۔ جب انہوں نے مجاہدین کی فضیلت بیٹھنے والوں پر سنی تو انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اس آدمی کا کیا حال ہے جو مومنین کے ساتھ جہاد کرنے کی طاقت نہیں رکھتا؟“ زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابھی ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا کلام ختم نہیں ہوا تھا کہ پھر رسول کریم ﷺ کو سکینت نے ڈھانپ لیا اور آپ ﷺ کی ران میری ران پر آگئی تو میں نے اس دفعہ بھی ویسے ہی بوجھ محسوس کیا جیسا کہ پہلی دفعہ محسوس کیا تھا۔ پھر آپ ﷺ کی یہ والی حالت جاتی رہی اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”پڑھیے“ تو میں نے پڑھی: ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾“ زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس ٹکڑے کو اس آیت میں ملا دیا اور یہ ٹکڑا کندھے کی مضبوط ہڈی پر لکھا ہوا تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17817
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره»