حدیث نمبر: 17818
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ} [النساء: ٩٥]، قَالَ: " هُمْ أُولُو الضَّرَرِ قَوْمٌ كَانُوا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَغْزُونَ مَعَهُ، كَانَتْ تَحْبِسُهُمْ أَوْجَاعٌ وَأَمْرَاضٌ وَآخَرُونَ أَصِحَّاءُ، فَكَانَ الْمَرْضَى أَعْذَرَ مِنَ الْأَصِحَّاءِ ".
حافظ ثناء اللہ

ابو نضرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ [سورة النساء: 95] کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: اس سے مراد اہل ضرر ہیں، یعنی لوگ جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں آپ ﷺ کے ساتھ مل کر جہاد نہیں کر سکتے تھے، تکالیف اور بیماری نے ان کو جانے سے روک لیا تھا اور دوسرے لوگ صحیح ہونے کے باوجود نہیں جاتے تھے۔ لہٰذا بیمار لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں معذور قرار دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17818
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»