السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من اعتذر بالضعف والمرض والزمانة والعذر في ترك الجهاد باب: جہاد ترک کرنے میں کمزوری، بیماری، معذوری اور دیگر اعذار پیش کرنے والے کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 17820
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَقَدْ تَرَكْتُمْ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا، وَلَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ، إِلَّا وَهُمْ مَعَكُمْ فِيهِ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَيْفَ يَكُونُونَ مَعَنَا وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ؟ قَالَ: " حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ زُهَيْرٍ، وَحَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، ثُمَّ قَالَ: وَقَالَ مُوسَى، عَنْ حَمَّادٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم مدینہ میں کچھ لوگ چھوڑ آئے ہو، تم نے کوئی سفر طے نہیں کیا اور نہ تم نے کوئی خرچ کیا اور نہ تم نے کوئی وادی طے کی مگر وہ اس میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ ہمارے ساتھ کیسے ہیں جبکہ وہ مدینہ میں بیٹھے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کو عذر نے روک رکھا ہے۔“