کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: کمزوروں (مستضعفین) کے عذر کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا، فَأُولَئِكَ عَسَى اللهُ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُمْ وَكَانَ اللهُ عَفُوًّا غَفُورًا} [النساء: 99]. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يُقَالُ: عَسَى مِنَ اللهِ وَاجِبٌ.
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا، فَأُولَئِكَ عَسَى اللهُ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُمْ وَكَانَ اللهُ عَفُوًّا غَفُورًا﴾ ”مگر وہ کمزور مرد، عورتیں اور بچے جو نہ کوئی تدبیر کر سکتے ہیں اور نہ (نکلنے کا) کوئی راستہ پاتے ہیں، تو امید ہے کہ اللہ ان سے درگزر فرمائے، اور اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا، بڑا بخشنے والا ہے۔“ [سورة النساء: 98-99]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ’عسیٰ‘ (امید ہے) کا لفظ یقینی (اور لازمی) ہوتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ’عسیٰ‘ (امید ہے) کا لفظ یقینی (اور لازمی) ہوتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " كُلُّ عَسَى فِي الْقُرْآنِ فَهِيَ وَاجِبَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں جتنے بھی «عَسَى» استعمال ہوئے ہیں، یہ واجب کے معنیٰ میں استعمال ہوئے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ} [النساء: ٩٨]، قَالَ: " كُنْتُ وَأُمِّي مِمَّنْ عَذَرَ اللهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت کریمہ کی تلاوت کی: ﴿إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا﴾ [سورة النساء: 98] اور کہا کہ میں اور میری والدہ ان لوگوں میں شامل تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: " أَنَا وَأُمِّي مِنَ الْمُسْتَضْعَفِينَ، كَانَتْ أُمِّي مِنَ النِّسَاءِ، وَأَنَا مِنَ الْوِلْدَانِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ میں اور میری والدہ ﴿الْمُسْتَضْعَفِينَ﴾ [سورة النساء: 98] میں سے تھے، میری والدہ عورتوں میں اور میں بچوں میں شامل تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَمَّا اجْتَمَعْنَا لِلْهِجْرَةِ اتَّعَدْتُ أَنَا وَعَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَهِشَامُ بْنُ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ، وَقُلْنَا: الْمِيعَادُ بَيْنَنَا التَّنَاضِبُ مِنْ أَضَاةِ بَنِي ⦗٢٤⦘ غِفَارٍ، فَمَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ لَمْ يَأْتِهَا فَقَدْ حُبِسَ فَلْيَمْضِ صَاحِبَاهُ، فَأَصْبَحْتُ عِنْدَهُ أَنَا وَعَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَحُبِسَ عَنَّا هِشَامٌ وَفُتِنَ فَافْتُتِنَ، بِالْمَدِينَةِ فَكُنَّا نَقُولُ: مَا اللهُ بِقَابِلٍ مِنْ هَؤُلَاءِ تَوْبَةً، قَوْمٌ عَرَفُوا اللهَ وَآمَنُوا بِهِ، وَصَدَّقُوا رَسُولَهُ ثُمَّ رَجَعُوا عَنْ ذَلِكَ لِبَلَاءٍ أَصَابَهُمْ مِنَ الدُّنْيَا، وَكَانُوا يَقُولُونَ لِأَنْفُسِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ: {قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ} [الزمر: ٥٣]، إِلَى قَوْلِهِ: {مَثْوًى لَلْمُتَكَبِّرِينَ} [الزمر: ٦٠]، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَكَتَبْتُهَا بِيَدِي كِتَابًا، ثُمَّ بَعَثْتُ بِهَا إِلَى هِشَامٍ، فَقَالَ هِشَامُ بْنُ الْعَاصِ: فَلَمَّا قَدِمَتْ عَلَيَّ خَرَجْتُ بِهَا إِلَى ذِي طُوًى، فَجَعَلْتُ أَصْعَدُ بِهَا وَأُصَوِّبُ لِأَفْهَمَهَا، فَقُلْتُ: اللهُمَّ فَهِّمْنِيهَا، وَفَرَقْتُ إِنَّمَا أُنْزِلَتْ فِينَا لِمَا كُنَّا نَقُولُ فِي أَنْفُسِنَا، وَيُقَالُ فِينَا، فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ عَلَى بَعِيرِي فَلَحِقْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُتِلَ هِشَامٌ شَهِيدًا بِأَجْنَادِينَ فِي وِلَايَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ہجرت کے لیے اکٹھے ہوئے تو میں نے، عیاش بن ابی ربیعہ اور ہشام بن عاص نے آپس میں طے کیا کہ ہم فلاں جگہ صبح صبح اکٹھے ہو کر وہیں سے مدینہ کو ہجرت کریں گے، تو جو صبح کے وقت وہاں نہ پہنچا اور اس کو روک لیا گیا تو اس کے دونوں ساتھی سفر شروع کر دیں گے، وہ کہتے ہیں کہ میں اور عیاش بن ابی ربیعہ اس جگہ پر پہنچ گئے اور ہشام بن عاص کو قید کر لیا گیا اور اس کو سخت تکلیفوں میں ڈالا گیا اور وہ ان تکلیفوں اور فتنوں میں گھر گیا۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم کہا کرتے تھے کہ اللہ ان لوگوں کی توبہ قبول کرنے والا نہیں ہے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ انہوں نے اللہ کو پہچانا اور اس پر ایمان لائے اور اس کے رسولوں کی تصدیق کی، پھر دنیا کی مصیبتوں اور تکلیفوں کی وجہ سے اس سے پھر گئے، اور وہ اپنے بارے میں (بھی یہی) کہا کرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیات نازل کیں: ﴿قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ﴾ [سورة الزمر: 53] اس قول تک ﴿أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِينَ﴾ [سورة الزمر: 60] ”اے نبی! میرے بندوں سے کہہ دو، جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم و زیادتی کر لی ہے کہ وہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں، بیشک اللہ تعالیٰ سارے گناہ معاف کرنے والا ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کو میں نے اپنے ہاتھ سے ایک خط میں لکھ کر ہشام کی طرف بھیج دیا۔ پھر ہشام بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ خط میرے پاس آیا تو میں اسے لے کر ذی طوی کی طرف نکل گیا اور میں اس کو اوپر سے نیچے تک (پڑھتا) اور اللہ سے دعا کرتا: ”یا اللہ! مجھے اس کی سمجھ عطا فرما“، تو پھر میں نے پہچان لیا کہ یہ ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہیں کیونکہ ہم اپنے بارے میں (یہی) کہا کرتے تھے۔ پھر کہتے ہیں کہ میں اس کے بعد لوٹا اور اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر نبی اکرم ﷺ سے جا ملا۔ آخر کار سیدنا ہشام رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اور ان کے لشکر میں شہید ہوئے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ،، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِيمَنْ كَانَ يُفْتَنُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ: {ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوا ثُمَّ جَاهَدُوا وَصَبَرُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ} [النحل: ١١٠].
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت: ﴿ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا مِن بَعْدِ مَا فُتِنُوا ثُمَّ جَاهَدُوا وَصَبَرُوا إِنَّ رَبَّكَ مِن بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ [سورة النحل: 110] ”جن لوگوں نے فتنے میں ڈالے جانے کے بعد ہجرت کی اور جہاد کیا اور صبر کا ثبوت دیا، بے شک تیرا پروردگار ان باتوں کے بعد انہیں بخشنے والا اور مہربان ہے۔“ نبی اکرم ﷺ کے ان ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہیں مکہ میں ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: أَسْلَمَ عَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ، وَهَاجَرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَهُ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ، وَهُوَ أَخُوهُ لِأُمِّهِ وَرَجُلٌ آخَرُ مَعَهُ، فَقَالَ لَهُ: " إِنَّ أُمَّكَ تُنَاشِدُكَ رَحِمَهَا وَحَقَّهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهَا "، فَأَقْبَلَ مَعَهُمَا فَرَبَطَاهُ حَتَّى قَدِمَا بِهِ مَكَّةَ فَكَانَا يُعَذِّبَانِهِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اور نبی اکرم ﷺ کی طرف ہجرت کی تو ان کے پاس ان کے اخیافی بھائی ابو جہل بن ہشام اور ان کے ساتھ ایک اور آدمی آیا اور انہوں نے ان سے کہا کہ تیری ماں تجھے اپنی قربت اور اپنے حق کی قسم دیتی ہے کہ تو اس کی طرف لوٹ آ، تو حضرت عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ لوٹ آئے تو انہوں نے ان کو باندھ دیا اور مدینہ میں لا کر طرح طرح کی سزائیں دیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: كَانَ نَاسٌ بِمَكَّةَ قَدْ أَقَرُّوا بِالْإِسْلَامِ، فَلَمَّا خَرَجَ النَّاسُ إِلَى بَدْرٍ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ إِلَّا أَخْرَجُوهُ فَقُتِلَ، أُولَئِكَ الَّذِينَ أَقَرُّوا بِالْإِسْلَامِ، فَنَزَلَتْ فِيهِمْ: {إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ} [النساء: ٩٧]، إِلَى قَوْلِهِ: {وَسَاءَتْ مَصِيرًا، إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا} [النساء: ٩٨]، حِيلَةً: نُهُوضًا إِلَيْهَا، وَسَبِيلًا: طَرِيقًا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَكَتَبَ الْمُسْلِمُونَ الَّذِينَ كَانُوا بِالْمَدِينَةِ إِلَى مَنْ كَانَ بِمَكَّةَ، فَلَمَّا كُتِبَ إِلَيْهِمْ خَرَجَ نَاسٌ مِمَّنْ أَقَرُّوا ⦗٢٥⦘ بِالْإِسْلَامِ، فَاتَّبَعَهُمُ الْمُشْرِكُونَ فَأَكْرَهُوهُمْ حَتَّى أَعْطَوْهُمُ الْفِتْنَةَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ: {إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ} [النحل: ١٠٦].
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بعض لوگوں نے مکہ میں اسلام کا اقرار کر لیا، جب لوگوں نے بدر کی طرف کوچ کیا تو انہوں نے ان کو بھی نکلوا لیا اور ساتھ لے لیا تو یہ لوگ جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا قتل کر دیے گئے تو ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ ... وَسَاءَتْ مَصِيرًا﴾ [سورة النساء: 97] ”جب ظالم لوگوں کی فرشتے روحیں قبض کرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں: تم کن میں تھے؟“ «حِيلَةً» کا معنی ہے ”اس کی طرف اٹھنا، جانا“ اور «سَبِيلًا» کا معنی ہے ”مدینہ کی طرف راستہ“، پس مدینہ کے مسلمانوں نے مکہ کے مسلمانوں کی طرف خط لکھے، جب ان کی طرف خط لکھے گئے تو مکہ کے ان نو مسلمانوں میں سے کچھ نکلے تو مشرکین نے ان کو پکڑ لیا اور ان کو طرح طرح کی مصیبتوں سے دوچار کیا تو ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ﴾ [سورة النحل: 106] ”جس پر جبر کیا گیا اور اس کا دل ایمان سے لبریز ہو تو اس پر کلمہ کفر کہنے پر کوئی گناہ نہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: أنبأ أَبُو بَكْرٍ سَهْلُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَالَ: " سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ "، قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ، قَالَ: " اللهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللهُمَّ اجْعَلْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحُ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شَيْبَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے تو سجدہ کرنے سے پہلے آپ ان لوگوں کے لیے دعا کرتے: ”اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ! مؤمنین میں سے جو کمزور لوگ ہیں ان کو نجات دے، اے اللہ! اپنی پکڑ کو مُضَر قبیلے پر سخت کر دے، اے اللہ! ان پر ایسی قحط سالی ڈال جس طرح تو نے یوسف کے لوگوں پر قحط سالی ڈالی تھی۔“