حدیث نمبر: 17756
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَمَّا اجْتَمَعْنَا لِلْهِجْرَةِ اتَّعَدْتُ أَنَا وَعَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَهِشَامُ بْنُ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ، وَقُلْنَا: الْمِيعَادُ بَيْنَنَا التَّنَاضِبُ مِنْ أَضَاةِ بَنِي ⦗٢٤⦘ غِفَارٍ، فَمَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ لَمْ يَأْتِهَا فَقَدْ حُبِسَ فَلْيَمْضِ صَاحِبَاهُ، فَأَصْبَحْتُ عِنْدَهُ أَنَا وَعَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَحُبِسَ عَنَّا هِشَامٌ وَفُتِنَ فَافْتُتِنَ، بِالْمَدِينَةِ فَكُنَّا نَقُولُ: مَا اللهُ بِقَابِلٍ مِنْ هَؤُلَاءِ تَوْبَةً، قَوْمٌ عَرَفُوا اللهَ وَآمَنُوا بِهِ، وَصَدَّقُوا رَسُولَهُ ثُمَّ رَجَعُوا عَنْ ذَلِكَ لِبَلَاءٍ أَصَابَهُمْ مِنَ الدُّنْيَا، وَكَانُوا يَقُولُونَ لِأَنْفُسِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ: {قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ} [الزمر: ٥٣]، إِلَى قَوْلِهِ: {مَثْوًى لَلْمُتَكَبِّرِينَ} [الزمر: ٦٠]، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَكَتَبْتُهَا بِيَدِي كِتَابًا، ثُمَّ بَعَثْتُ بِهَا إِلَى هِشَامٍ، فَقَالَ هِشَامُ بْنُ الْعَاصِ: فَلَمَّا قَدِمَتْ عَلَيَّ خَرَجْتُ بِهَا إِلَى ذِي طُوًى، فَجَعَلْتُ أَصْعَدُ بِهَا وَأُصَوِّبُ لِأَفْهَمَهَا، فَقُلْتُ: اللهُمَّ فَهِّمْنِيهَا، وَفَرَقْتُ إِنَّمَا أُنْزِلَتْ فِينَا لِمَا كُنَّا نَقُولُ فِي أَنْفُسِنَا، وَيُقَالُ فِينَا، فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ عَلَى بَعِيرِي فَلَحِقْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُتِلَ هِشَامٌ شَهِيدًا بِأَجْنَادِينَ فِي وِلَايَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ہجرت کے لیے اکٹھے ہوئے تو میں نے، عیاش بن ابی ربیعہ اور ہشام بن عاص نے آپس میں طے کیا کہ ہم فلاں جگہ صبح صبح اکٹھے ہو کر وہیں سے مدینہ کو ہجرت کریں گے، تو جو صبح کے وقت وہاں نہ پہنچا اور اس کو روک لیا گیا تو اس کے دونوں ساتھی سفر شروع کر دیں گے، وہ کہتے ہیں کہ میں اور عیاش بن ابی ربیعہ اس جگہ پر پہنچ گئے اور ہشام بن عاص کو قید کر لیا گیا اور اس کو سخت تکلیفوں میں ڈالا گیا اور وہ ان تکلیفوں اور فتنوں میں گھر گیا۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم کہا کرتے تھے کہ اللہ ان لوگوں کی توبہ قبول کرنے والا نہیں ہے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ انہوں نے اللہ کو پہچانا اور اس پر ایمان لائے اور اس کے رسولوں کی تصدیق کی، پھر دنیا کی مصیبتوں اور تکلیفوں کی وجہ سے اس سے پھر گئے، اور وہ اپنے بارے میں (بھی یہی) کہا کرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیات نازل کیں: ﴿قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ﴾ [سورة الزمر: 53] اس قول تک ﴿أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِينَ﴾ [سورة الزمر: 60] ”اے نبی! میرے بندوں سے کہہ دو، جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم و زیادتی کر لی ہے کہ وہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں، بیشک اللہ تعالیٰ سارے گناہ معاف کرنے والا ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کو میں نے اپنے ہاتھ سے ایک خط میں لکھ کر ہشام کی طرف بھیج دیا۔ پھر ہشام بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ خط میرے پاس آیا تو میں اسے لے کر ذی طوی کی طرف نکل گیا اور میں اس کو اوپر سے نیچے تک (پڑھتا) اور اللہ سے دعا کرتا: ”یا اللہ! مجھے اس کی سمجھ عطا فرما“، تو پھر میں نے پہچان لیا کہ یہ ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہیں کیونکہ ہم اپنے بارے میں (یہی) کہا کرتے تھے۔ پھر کہتے ہیں کہ میں اس کے بعد لوٹا اور اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر نبی اکرم ﷺ سے جا ملا۔ آخر کار سیدنا ہشام رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اور ان کے لشکر میں شہید ہوئے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17756
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»