السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما جاء في عذر المستضعفين باب: کمزوروں (مستضعفین) کے عذر کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17755
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: " أَنَا وَأُمِّي مِنَ الْمُسْتَضْعَفِينَ، كَانَتْ أُمِّي مِنَ النِّسَاءِ، وَأَنَا مِنَ الْوِلْدَانِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُفْيَانَ.حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ میں اور میری والدہ ﴿الْمُسْتَضْعَفِينَ﴾ [سورة النساء: 98] میں سے تھے، میری والدہ عورتوں میں اور میں بچوں میں شامل تھا۔