حدیث نمبر: 17749
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ فِي الَّذِي يُفْتَنُ عَنْ دِينِهِ قَدَرَ عَلَى الْهِجْرَةِ فَلَمْ يُهَاجِرْ حَتَّى تُوُفِّيَ: {إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ} [النساء: 97] الْآيَةَ..
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ نے اس شخص کے بارے میں، جسے اس کے دین کی وجہ سے آزمائش میں ڈالا جائے اور وہ ہجرت پر قادر ہو مگر ہجرت نہ کرے یہاں تک کہ فوت ہو جائے، فرمایا: ﴿إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ﴾ ”بے شک وہ لوگ جن کی روحیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں، (فرشتے) کہتے ہیں: تم کس حال میں تھے؟ وہ کہتے ہیں: ہم زمین میں کمزور (اور بے بس) تھے۔“ [سورة النساء: 97] (الآیۃ)...
حدیث نمبر: 17749
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ، وَرَجُلٌ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَسَدِيُّ، قَالَ: قُطِعَ عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ بَعْثٌ لِيَنْهَبَ فِيهِ، فَلَقِيتُ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَنَهَانِي أَشَدَّ النَّهْيِ، ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ " نَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا مَعَ الْمُشْرِكِينَ يُكَثِّرُونَ سَوَادَ الْمُشْرِكِينَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْتِي السَّهْمُ يُرْمَى بِهِ فَيُصِيبُ أَحَدَهُمْ فَيَقْتُلُهُ، أَوْ يُضْرَبُ فَيُقْتَلُ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى ذِكْرَهُ فِيهِمْ: {إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا فَأُولَئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَسَاءَتْ مَصِيرًا} [النساء: ٩٧]. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئِ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبدالرحمن بن نوفل اسدی نے کہا کہ مدینہ والوں کو ایک فوج نکالنے کا حکم دیا گیا اور اس میں میرا بھی نام لکھا گیا، (اسی دوران) میری ملاقات عکرمہ مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہوئی تو انہوں نے مجھے بڑی سختی سے منع کیا اور کہا کہ مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ تھے جو مشرکین کی فوج کے ساتھ مل گئے اور ان کی تعداد میں اضافہ کا سبب بنے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہ ملے، تو جب کبھی مسلمانوں کی طرف سے تیر آتا تو ان کو لگ جاتا اور یہ مر جاتے یا ویسے قتل ہو جاتے، تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا فَأُولَئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَسَاءَتْ مَصِيرًا﴾ [سورة النساء: 97] ”جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں جب فرشتے ان کی روح قبض کرتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں: تم کس حال میں تھے (ہجرت کیوں نہ کی)؟ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم اپنی جگہ کمزور اور مغلوب تھے۔ فرشتے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم ہجرت کر جاتے؟ یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ پہنچنے کی بری جگہ ہے“۔
حدیث نمبر: 17750
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَاهُ حَجَّاجٌ، ثنا حَمَّادٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَقَامَ مَعَ الْمُشْرِكِينَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس آدمی نے مشرکین کے ساتھ قیام کیا تو وہ اللہ کے ذمہ سے بری ہو گیا۔“
حدیث نمبر: 17751
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي بَجِيلَةَ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يُبَايِعُ النَّاسَ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ ابْسُطْ يَدَكَ حَتَّى أُبَايِعَكَ، وَاشْتَرِطْ عَلَيَّ، فَأَنْتُ أَعْلَمُ بِالشَّرْطِ مِنِّي. قَالَ: " أُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ تَعْبُدَ اللهَ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتُنَاصِحَ الْمُؤْمِنَ، وَتُفَارِقَ الْمُشْرِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ لوگوں سے بیعت لے رہے تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اپنا ہاتھ پھیلائیے تاکہ میں آپ کی بیعت کروں اور مجھ پر شرط بھی لگائیے جو آپ میرے بارے میں مناسب جانیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں آپ کی اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ آپ اللہ کی عبادت کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور مؤمن کی خیر خواہی کریں اور مشرک سے الگ رہیں۔“
حدیث نمبر: 17752
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسَ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ بِالْمِرْبَدِ إِذْ أَتَى عَلَيْنَا أَعْرَابِيٌّ شَعِثُ الرَّأْسِ مَعَهُ قِطْعَةُ أَدِيمٍ أَوْ قِطْعَةُ جِرَابٍ، فَقُلْنَا: كَأَنَّ هَذَا لَيْسَ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ، فَقَالَ: أَجَلْ لَا، هَذَا كِتَابٌ كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ الْقَوْمُ: هَاتِ، فَأَخَذْتُهُ فَقَرَأْتُهُ فَإِذَا فِيهِ: " بِسْمِ ⦗٢٣⦘ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ رَسُولِ اللهِ لِبَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ، قَالَ أَبُو الْعَلَاءِ: وَهُمْ حِيُّ مِنْ عُكْلٍ، إِنَّكُمْ إِنْ شَهِدْتُمْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ، وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ، وَفَارَقْتُمُ الْمُشْرِكِينَ، وَأَعْطَيْتُمْ مِنَ الْغَنَائِمِ الْخُمُسَ، وَسَهْمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفِيَّ، وَرُبَّمَا قَالَ: وَصَفِيَّهُ، فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللهِ وَأَمَانِ رَسُولِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا یزید بن عبداللہ بن شخیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک دفعہ اونٹوں کے باڑے میں تھے کہ ہمارے پاس ایک دیہاتی آیا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، اس کے پاس ایک کھال کا ٹکڑا تھا یا چمڑے کا، تو ہم نے کہا: لگتا ہے کہ یہ ہمارے شہر کا نہیں ہے، اس نے کہا: ہاں، میں تمہارے شہر کا نہیں ہوں، میرے پاس ایک خط ہے جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے لکھوا کر دیا تھا، تو قوم نے کہا: دکھاؤ! تو میں نے اس سے وہ لے لیا اور اس کو پڑھا تو اس میں یہ عبارت لکھی ہوئی تھی: ”«بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“، یہ خط محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے بنی زہیر بن اقیش کے لیے ہے“، ابو العلاء رحمہ اللہ نے کہا کہ یہ عکل قبیلے میں سے ایک قبیلہ ہے، ”اگر تم «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”لا الہ الا اللہ“ کی گواہی دے دو اور نماز قائم کرنے لگ جاؤ اور زکاۃ ادا کرنے لگ جاؤ اور مشرکین سے الگ ہو جاؤ اور مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرنا اور میرا حصہ اور میرے اہل و عیال کا حصہ ادا کرنا، جب تم یہ کرنے لگ جاؤ گے تو تم اللہ اور اس کے رسول کی امان میں آ جاؤ گے۔“