السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما جاء في عذر المستضعفين باب: کمزوروں (مستضعفین) کے عذر کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17758
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: أَسْلَمَ عَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ، وَهَاجَرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَهُ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ، وَهُوَ أَخُوهُ لِأُمِّهِ وَرَجُلٌ آخَرُ مَعَهُ، فَقَالَ لَهُ: " إِنَّ أُمَّكَ تُنَاشِدُكَ رَحِمَهَا وَحَقَّهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهَا "، فَأَقْبَلَ مَعَهُمَا فَرَبَطَاهُ حَتَّى قَدِمَا بِهِ مَكَّةَ فَكَانَا يُعَذِّبَانِهِ.حافظ ثناء اللہ
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اور نبی اکرم ﷺ کی طرف ہجرت کی تو ان کے پاس ان کے اخیافی بھائی ابو جہل بن ہشام اور ان کے ساتھ ایک اور آدمی آیا اور انہوں نے ان سے کہا کہ تیری ماں تجھے اپنی قربت اور اپنے حق کی قسم دیتی ہے کہ تو اس کی طرف لوٹ آ، تو حضرت عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ لوٹ آئے تو انہوں نے ان کو باندھ دیا اور مدینہ میں لا کر طرح طرح کی سزائیں دیں۔