کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: نبی ﷺ اور پھر لوگوں پر فرائض عائد ہونے کی ابتدا، اور نبی ﷺ کو تبلیغِ رسالت میں اپنی قوم کی طرف سے پہنچنے والی اذیتوں کا مختصر بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤]، وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ، خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَعِدَ الصَّفَا فَهَتَفَ " وَاصَبَاحَاهُ "، فَقَالُوا: مَنْ هَذَا الَّذِي يَهْتِفُ؟، قَالُوا: مُحَمَّدٌ، قَالَ: فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ: " يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا تَخْرُجُ بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ؟ "، قَالُوا: مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا، قَالَ: " فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٌ "، قَالَ: فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبًّا لَكَ مَا جَمَعْتَنَا إِلَّا لِهَذَا، ثُمَّ قَامَ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: (تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَقَدْ تَبَّ). كَذَا قَرَأَ الْأَعْمَشُ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214] نازل ہوئی کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے اور ان میں سے جو آپ ﷺ کی مخلص جماعت ہے ان کو بھی، تو رسول اکرم ﷺ نکلے اور صفا (پہاڑی) پر چڑھ کر آپ ﷺ نے «وَا صَبَاحَاهْ» ”ہائے صبح کا خطرہ (پکار)!“ کی زور دار آواز سے بلایا تو لوگوں نے کہا: یہ کون بلانے والا ہے؟ (بعض) نے کہا: محمد (ﷺ)۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: آپ ﷺ کے پاس تمام لوگ جمع ہو گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بنی فلاں! اے بنی فلاں! اے بنی عبد مناف! اے بنی عبدالمطلب! تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تمہیں کہوں کہ اس پہاڑ کے دامن سے ایک لشکر آ رہا ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟“ انہوں نے کہا: ہم نے کبھی بھی آپ کو جھوٹا نہیں پایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک میں تمہیں آنے والے سخت عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ابو لہب نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، کیا اسی کام کے لیے تو نے ہمیں اکٹھا کیا تھا؟ پھر وہ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس سورت کو نازل کیا ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ﴾ [سورة المسد: 1] ”ابولہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ خود بھی ہلاک ہو گیا۔“ اسی طرح اعمش نے آخر سورت تک تلاوت کی۔
وأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ، وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} [الشعراء: ٢١٥]، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَرَفْتُ أَنِّي إِنْ بَادَأْتُ بِهَا ⦗١٣⦘ قَوْمِي رَأَيْتُ مِنْهُمْ مَا أَكْرَهُ فَصَمَتُّ عَلَيْهَا، فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ مَا أَمَرَكَ بِهِ رَبُّكَ عَذَّبَكَ رَبُّكَ. ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةً فِي جَمْعِهِمْ وَإِنْذَارِهِ إِيَّاهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ * وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214-215] تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے جان لیا کہ اگر اس کے ساتھ میں نے اپنی قوم سے ابتدا کی تو میں وہ چیز دیکھوں گا جسے میں ناپسند کرتا ہوں اور اس لیے میں اس کے بیان کرنے سے خاموش رہا۔ میرے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے کہا کہ اے محمد! اگر آپ نے اپنے رب کے اس حکم کو پورا نہ کیا تو وہ آپ کو عذاب دے گا۔“ پھر آپ ﷺ نے ان کو جمع ہونے کا اور ڈرانے کا قصہ بیان کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ بْنُ الْحَمَّامِيِّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عِبَادٍ الدُّؤَلِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْمَجَازِ يَتْبَعُ النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَغُرَّنَّكُمْ عَنْ دِينِكُمْ وَدِينِ آبَائِكُمْ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، قَالُوا: عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ربیعہ بن عباد دؤلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ذی الحجاز میں لوگوں کے پیچھے ان کے گھروں میں جاتے اور ان کو اللہ کے دین کی طرف بلاتے اور آپ کے پیچھے پیچھے ایک آدمی تھا جو لوگوں کو پکار پکار کر کہہ رہا تھا: ”اے لوگو! یہ تمہیں تمہارے آباء و اجداد کے دین کے متعلق دھوکے میں نہ ڈال دے۔“ میں نے کہا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ آپ ﷺ کے چچا ابولہب ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قُلْتُ: حَدِّثْنِي بِأَشَدِّ شَيْءٍ صَنَعَهُ الْمُشْرِكُونَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَلَوَى ثَوْبَهُ فِي عُنُقِهِ، فَخَنَقَهُ خَنْقًا شَدِيدًا، فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِمَنْكِبَيْهِ فَدَفَعَهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ؟ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سوال کیا اور کہا کہ مجھے مشرکین کی سب سے زیادہ سخت تکلیف بیان کریں جو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو پہنچائی۔ انہوں نے کہا کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور رسول اللہ ﷺ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ اس نے آپ کی گردن میں کپڑا لپیٹ کر زور سے دبایا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اس کے دونوں کندھوں سے پکڑ کر اسے رسول اللہ ﷺ سے دور کیا اور کہا: ﴿أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [سورة غافر: 28] ”کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ اس پر تمہارے رب کی طرف سے دلائل بھی لایا ہے؟“
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جُنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جُنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ وَجَمِيعُ قُرَيْشٍ فِي مَجَالِسِهِمْ يَنْظُرُونَ، إِذْ قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: أَلَا تَنْظُرُونَ إِلَى هَذَا الْمُرَائِي؟ أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى جَزُورِ بَنِي فُلَانٍ فَيَعْمِدُ إِلَى فَرْثِهَا وَدَمِهَا وَسَلَاهَا فَيَجِيءُ بِهِ، ثُمَّ يُمْهِلُهُ حَتَّى إِذَا سَجَدَ وَضَعَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ؟ فَانْبَعَثَ أَشْقَاهَا فَجَاءَ بِهِ، فَلَمَّا سَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ وَثَبَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗١٤⦘ سَاجِدًا، وَضَحِكُوا حَتَّى مَالَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنَ الضَّحِكِ، فَانْطَلَقَ مُنْطَلِقٌ إِلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَهِيَ جُوَيْرِيَةٌ، فَأَقْبَلَتْ تَسْعَى حَتَّى أَلْقَتْهُ عَنْهُ، وَأَقْبَلَتْ عَلَيْهِمْ تَسُبُّهُمْ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: " اللهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ " ثَلَاثًا، ثُمَّ سَمَّى " اللهُمَّ عَلَيْكَ بِعَمْرِو بْنِ هِشَامٍ، وَبِعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، وَعُمَارَةَ بْنِ الْوَلِيدِ "، قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى يَوْمَ بَدْرٍ يُسْحَبُونَ إِلَى قَلِيبِ بَدْرٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَتْبِعْ أَصْحَابَ الْقَلِيبِ لَعْنَةً ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى، وَأَخْرَجَهُ هُوَ وَمُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کعبہ کے نزدیک نماز پڑھ رہے تھے کہ مشرکین اپنی مجالس میں جمع ہو کر دیکھنے لگے۔ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا: کیا تم اس ریا کار کی طرف نہیں دیکھتے ہو؟ تم میں سے کون آلِ فلاں کے اونٹ کی طرف جائے گا اور اس کا گوبر، خون اور اوجھڑی لائے گا، پھر ان کے سجدے میں جانے کا انتظار کرے گا اور جب وہ سجدے میں چلے جائیں تو اسے ان کے کندھوں کے درمیان رکھ دے گا؟ تو قوم کا سب سے زیادہ بدبخت انسان اٹھا اور وہ اوجھڑی وغیرہ لے آیا، جب آپ ﷺ سجدے میں گئے تو اس بدبخت نے اسے آپ ﷺ کے کندھوں کے درمیان رکھ دیا، آپ ﷺ سجدے ہی کی حالت میں رہے تو وہ یہ منظر دیکھ کر ہنسنے لگے حتیٰ کہ شدید ہنسی کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر گرنے لگے۔ پھر ایک جانے والا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف گیا اور وہ اس وقت بچی تھیں، وہ دوڑتی ہوئی آئیں اور انہوں نے آپ ﷺ سے وہ اوجھڑی دور کی اور پھر ان (مشرکین) کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے نماز مکمل کر لی تو تین مرتبہ فرمایا: «اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ» ”اے اللہ! قریش کو پکڑ لے۔“ پھر ان لوگوں کے نام لے کر دعا کی: «اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِعَمْرِو بْنِ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، وَعُمَارَةَ بْنِ الْوَلِيدِ» ”اے اللہ! عمرو بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف، عقبہ بن ابی معیط اور عمارہ بن ولید، ان سب کو پکڑ لے۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے بدر کے دن ان سب کو (میدان میں) گرے ہوئے دیکھا، پھر ان کو بدر کے کنویں میں گھسیٹ کر پھینک دیا گیا، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اصحابِ قلیب (کنویں والوں) پر لعنت مسلط کر دی گئی۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَا: ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحْرَسُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ} [المائدة: ٦٧] فَأَخْرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الْقُبَّةِ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ انْصَرِفُوا فَقَدْ عَصَمَنِي اللهُ ". وَرِوَايَةُ الْهِلَالِيِّ فَقَالَ لَهُمْ: " أَيُّهَا النَّاسُ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَعْصِمُكَ مِنْ قَتْلِهِمْ أَنْ يَقْتُلُوكَ حَتَّى تُبَلِّغَهُمْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ، فَبَلَّغَ مَا أُمِرَ بِهِ فَاسْتَهْزَأَ بِهِ قَوْمٌ، فَنَزَلَ {فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ} [الحجر: ٩٥].
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی نگرانی کی جاتی تھی حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ﴾ [سورة المائدة: 67] ”اے رسول! جو آپ کی طرف آپ کے رب نے نازل کیا ہے اس کی تبلیغ کیجیے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اپنے رب کے پیغام کو نہ پہنچایا اور اللہ تعالیٰ آپ کو لوگوں سے بچانے والا ہے“ تو آپ نے اپنا سر اپنے خیمے سے نکال کر کہا: ”اے لوگو! اب تم چلے جاؤ، اللہ نے میری حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان کے قتل سے بچائے گا کہ وہ آپ کو قتل کریں جب تک کہ آپ اس چیز کی تبلیغ کرتے رہیں گے جو چیز آپ کی طرف نازل کی گئی ہے تو آپ نے اس چیز کی تبلیغ کی جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا تو قوم نے اس پر آپ کا مذاق اڑانا شروع کردیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ ﴿فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ * إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ﴾ [سورة الحجر: 94-95] ”پس آپ اس حکم کو جو آپ کو کیا جا رہا ہے کھول کر بیان کریں اور مشرکوں سے منہ پھیر لیجیے آپ سے جو لوگ مسخرا پن کرتے ہیں ان کی سزا کے لیے ہم کافی ہیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان کے قتل سے بچائے گا کہ وہ آپ کو قتل کریں جب تک کہ آپ اس چیز کی تبلیغ کرتے رہیں گے جو چیز آپ کی طرف نازل کی گئی ہے تو آپ نے اس چیز کی تبلیغ کی جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا تو قوم نے اس پر آپ کا مذاق اڑانا شروع کردیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ ﴿فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ * إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ﴾ [سورة الحجر: 94-95] ”پس آپ اس حکم کو جو آپ کو کیا جا رہا ہے کھول کر بیان کریں اور مشرکوں سے منہ پھیر لیجیے آپ سے جو لوگ مسخرا پن کرتے ہیں ان کی سزا کے لیے ہم کافی ہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَزِينٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ} [الحجر: ٩٥]، قَالَ: الْمُسْتَهْزِئُونَ الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، وَالْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ يَغُوثَ الزُّهْرِيُّ، وَالْأَسْوَدُ بْنُ الْمُطَّلِبِ، وَأَبُو زَمْعَةَ، مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، وَالْحَارِثُ بْنُ عَيْطَلٍ السَّهْمِيُّ، وَالْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ شَكَاهُمْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرَاهُ الْوَلِيدَ أَبَا عَمْرِو بْنَ الْمُغِيرَةِ، فَأَوْمَأَ جِبْرِيلُ إِلَى أَبْجَلِهِ، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ؟، قَالَ: كُفِيتُهُ، ثُمَّ أَرَاهُ الْأَسْوَدَ بْنَ الْمُطَّلِبِ فَأَوْمَى جِبْرِيلُ إِلَى عَيْنَيْهِ، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ؟، قَالَ: كُفِيتُهُ، ثُمَّ أَرَاهُ الْأَسْوَدَ بْنَ عَبْدِ يَغُوثَ الزُّهْرِيَّ فَأَوْمَأَ إِلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ؟، قَالَ ⦗١٥⦘ كُفِيتُهُ، وَمَرَّ بِهِ الْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ فَأَوْمَأَ إِلَى أَخْمَصِهِ، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ؟، قَالَ: كُفِيتُهُ، فَأَمَّا الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ فَمَرَّ بِرَجُلٍ مِنْ خُزَاعَةَ وَهُوَ يَرْيِشُ نَبْلًا لَهُ فَأَصَابَ أَبْجَلَهُ فَقَطَعَهَا، وَأَمَّا الْأَسْوَدُ بْنُ الْمُطَّلِبِ فَعَمِيَ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: عَمِيَ هَكَذَا وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: نَزَلَ تَحْتَ سَمُرَةٍ فَجَعَلَ يَقُولُ: يَا بَنِيَّ أَلَا تَدْفَعُونَ عَنِّي؟ قَدْ قُتِلْتُ، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: مَا نَرَى شَيْئًا، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى عَمِيَتْ عَيْنَاهُ، وَأَمَّا الْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ يَغُوثَ الزُّهْرِيُّ فَخَرَجَ فِي رَأْسِهِ قُرُوحٌ فَمَاتَ مِنْهَا، وَأَمَّا الْحَارِثُ بْنُ عَيْطَلٍ فَأَخَذَهُ الْمَاءُ الْأَصْفَرُ فِي بَطْنِهِ حَتَّى خَرَجَ خُرْؤُهُ مِنْ فِيهِ فَمَاتَ مِنْهَا، وَأَمَّا الْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ يَوْمًا إِذْ دَخَلَ فِي رَأْسِهِ شِبْرِقَةٌ حَتَّى امْتَلَأَتْ مِنْهَا فَمَاتَ مِنْهَا، وَقَالَ غَيْرُهُ: فَرَكِبَ إِلَى الطَّائِفِ عَلَى حِمَارٍ فَرَبَضَ بِهِ عَلَى شِبْرِقَةٍ فَدَخَلَتْ فِي أَخْمَصِ قَدَمِهِ شَوْكَةٌ فَقَتَلَتْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ﴾ [سورة الحجر: 95] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ سے مذاق کرنے والے یہ لوگ تھے: ولید بن مغیرہ، اسود بن عبد یغوث زہری، اسود بن مطلب (ابو زمعہ) بنی اسد بن عبدالعزی، حارث بن عیطل سہمی اور عاص بن وائل۔ اس کے بعد آپ ﷺ کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے تو آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے ان لوگوں کی شکایت بیان کی۔ پھر آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ولید بن مغیرہ دکھایا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس کے ہاتھ کی موٹی رگ کی طرف اشارہ کیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تو نے کیا کیا؟“ انہوں نے کہا کہ آپ کی اس سے کفایت کر دی گئی۔ پھر آپ ﷺ نے ان کو اسود بن مطلب دکھایا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس کی آنکھ کی طرف اشارہ کیا اور آپ ﷺ نے پوچھا: ”تو نے کیا کیا؟“ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ (ان کے شر اور ایذاء سے) بچا لیے گئے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے ان کو اسود بن عبد یغوث زہری دکھایا تو انہوں نے اس کے سر کی طرف اشارہ کیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تو نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا؟“ تو انہوں نے کہا کہ آپ اس سے بچا لیے گئے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے ان کو حارث بن عیطل سہمی دکھایا تو انہوں نے اس کے سر کی طرف اشارہ کیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس کے ساتھ کیا کیا؟“ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ ﷺ محفوظ کر دیے گئے ہیں۔ پھر عاص بن وائل گزرا تو انہوں نے اس کے قدم کی خالی جگہ کی طرف اشارہ کیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا کیا؟“ انہوں نے کہا کہ آپ بے فکر ہو جائیں (اور ان کا انجام دیکھیں)۔ اس کے بعد ولید بن مغیرہ بنی خزاعہ کے ایک آدمی کے قریب سے گزرا جو اپنے تیر کے پھالے کو درست کر رہا تھا اور یہ تیر ولید بن مغیرہ کی رگ میں لگا اور اسے کاٹ دیا، اور رہا اسود بن مطلب تو وہ اندھا ہو گیا؛ بعض لوگ اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ ایسے اندھا ہوا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ وہ ببول کے درخت کے نیچے اترا اور اپنے بیٹوں سے کہنے لگا: مجھے بچاؤ! میں مر گیا، وہ کہنے لگے: ہمیں کوئی چیز نظر نہیں آتی جس سے آپ کو بچائیں۔ وہ یہی الفاظ کہتا رہا: وہ دیکھو! وہ مجھے مار رہا ہے، اسے مجھ سے دور کرو، وہ میری آنکھوں میں کانٹے چبھو رہا ہے۔ وہ کہتے: ہمیں تو کوئی چیز نظر نہیں آ رہی۔ اس کی یہی حالت رہی حتیٰ کہ وہ آنکھوں سے اندھا ہو گیا، اور رہا اسود بن عبد یغوث زہری، تو اس کے سر میں دانے نکلے اور وہ انہی دانوں کے ساتھ مر گیا۔ اور اسی طرح حارث بن عیطل کے پیٹ میں زرد رنگ کا پانی (پیپ وغیرہ) پڑ گیا کہ اس کا پاخانہ اس کے منہ سے نکل آیا اور وہ بھی اسی سے مر گیا۔ اور رہا عاص بن وائل، تو اس کے ساتھ بھی ایسے ہی ہوا کہ اس (گستاخ) کے سر میں کانٹا لگا جو پورے سر میں پھیل گیا اور وہ اسی سے مر گیا، اور بعض نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ اپنے گدھے پر سوار ہو کر طائف کی طرف جانے لگا، راستے میں گدھا اسے لے کر کانٹے دار بوٹی میں بیٹھ گیا تو اسے اس کے پاؤں کے تلوے میں کانٹا لگا اور وہ کانٹا ہی اس کی موت کا سبب بن گیا (اور یہ ملعون بھی مر گیا)۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عِمْرَانَ أَبِي الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَتْ قُرَيْشٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادْعُ رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَ لَنَا الصَّفَا ذَهَبًا وَنُؤْمِنَ بِكَ، قَالَ: أَتَفْعَلُونَ؟، قَالُوا: نَعَمْ، فَدَعَا، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: إِنْ اللهُ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامُ وَيَقُولُ: " إِنْ شِئْتَ أَصْبَحَ الصَّفَا ذَهَبًا، فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ عَذَّبْتُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ، وَإِنْ شِئْتَ فَتَحْتُ لَهُمْ بَابَ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ "، قَالَ: بَلْ يَا رَبِّ التَّوْبَةَ وَالرَّحْمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قریش نے نبی ﷺ سے کہا: اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ صفا پہاڑی کو ہمارے لیے سونا بنا دے تو تب ہم آپ پر ایمان لائیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھا دیکھ لو تم ایسا ہی کرو گے؟“ انہوں نے کہا: ہاں! (ہم ایمان لے آئیں گے) آپ ﷺ نے دعا کی تو آپ کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور آ کر کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتے ہیں اور ساتھ فرماتے ہیں کہ اگر آپ ﷺ چاہتے ہیں تو صفا کو سونا بنا دیں گے اور پھر اس کے بعد بھی جس نے کفر کیا تو میں اس کو ایسا سخت عذاب دوں گا کہ مخلوق میں سے کسی ایک کو بھی ایسا عذاب نہ دوں گا اور اگر آپ چاہتے ہیں تو میں ان کے لیے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”(اے اللہ) تو توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دے (صفا کو سونا نہ بنا)۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللهِ التَّمِيمِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، {فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ} نُوحٌ وَهودٌ وَإِبْرَاهِيمُ أُمِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَصْبِرَ كَمَا صَبَرَ هَؤُلَاءِ فَكَانُوا ثَلَاثَةً، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَابِعُهُمْ، قَالَ نُوحٌ: {إِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقَامِي وَتَذْكِيرِي بِآيَاتِ اللهِ} [يونس: ٧١] إِلَى آخِرِهَا، فَأَظْهَرَ لَهُمُ الْمُفَارَقَةَ، وَقَالَ هُودٌ حِينَ قَالُوا: {إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ} [هود: ٥٤] الْآيَةَ، فَأَظْهَرَ لَهُمُ الْمُفَارَقَةَ، وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: {قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ} [الممتحنة: ٤] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَأَظْهَرَ لَهُمُ الْمُفَارَقَةَ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ: {إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ} [الأنعام: ٥٦]، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ يَقْرَؤُهَا عَلَى الْمُشْرِكِينَ فَأَظْهَرَ لَهُمُ الْمُفَارَقَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوعالیہ رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ﴿فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ﴾ [سورة الأحقاف: 35] ”آپ بھی ایسے ہی صبر کیجیے جیسے رسولوں میں سے اولوا العزم رسولوں نے صبر کیا“ اولوا العزم رسول یہ ہیں: نوح، ہود، ابراہیم علیہم السلام۔ اور رسول کریم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ بھی صبر کریں جس طرح انہوں نے صبر کیا اور وہ تین تھے اور چوتھے رسول اللہ ﷺ تھے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے کہا: ﴿إِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُم مَّقَامِي وَتَذْكِيرِي بِآيَاتِ اللَّهِ فَعَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْتُ فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ وَشُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوا إِلَيَّ وَلَا تُنظِرُونِ﴾ [سورة يونس: 71] ”اے میری قوم! اگر تم کو میرا رہنا اور احکامِ الٰہی سے نصیحت کرنا بھاری معلوم ہوتا ہے تو میرا اللہ ہی پر بھروسہ ہے... تم نے میرے ساتھ جو کچھ کرنا ہے کر گزرو اور مجھ کو مہلت نہ دو“ حضرت نوح علیہ السلام نے ان کو بھرپور جواب دیتے ہوئے ان پر جدائی کا مقام واضح کر دیا اور اسی طرح ہود علیہ السلام نے بھی ان کو جواب دیا: جب انہوں نے آپ سے یہ کہا تھا: ﴿إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ﴾ [سورة هود: 54] ”بلکہ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تو ہمارے کسی معبود کے برے جھپٹے میں آگیا ہے“ تو انہوں نے اس کے جواب میں کہا کہ میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ بن جاؤ کہ میں ہوں اور تم سب مل کر میرے حق میں بدی کر لو اور میں نے نقطہ انفصال واضح کرتے ہوئے انہیں منہ توڑ جواب دیا اور ابراہیم علیہ السلام نے کہا: ﴿قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ﴾ [سورة الممتحنة: 4] ”(مسلمانو! تمہارے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بیزار ہیں)“ اور ان پر اپنی بات کو واضح کر دیا اور حضرت محمد ﷺ نے کہا: ﴿قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ﴾ [سورة الأنعام: 56] ”آپ کہہ دیجیے کہ مجھ کو اس سے ممانعت کی گئی ہے کہ ان کی عبادت کروں جن کو تم لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پکارتے ہو۔“ رسول کریم ﷺ کعبہ کے قریب کھڑے ہوئے اور مشرکین پر اس آیتِ کریمہ کو پڑھنے لگے اور اپنا نقطہ انفصال ان پر واضح کر دیا۔