السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: مبتدأ الفرض على النبي صلى الله عليه وسلم ثم على الناس، وما لقي النبي صلى الله عليه وسلم من أذى قومه في تبليغ الرسالة على وجه الاختصار باب: نبی ﷺ اور پھر لوگوں پر فرائض عائد ہونے کی ابتدا، اور نبی ﷺ کو تبلیغِ رسالت میں اپنی قوم کی طرف سے پہنچنے والی اذیتوں کا مختصر بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جُنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جُنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ وَجَمِيعُ قُرَيْشٍ فِي مَجَالِسِهِمْ يَنْظُرُونَ، إِذْ قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: أَلَا تَنْظُرُونَ إِلَى هَذَا الْمُرَائِي؟ أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى جَزُورِ بَنِي فُلَانٍ فَيَعْمِدُ إِلَى فَرْثِهَا وَدَمِهَا وَسَلَاهَا فَيَجِيءُ بِهِ، ثُمَّ يُمْهِلُهُ حَتَّى إِذَا سَجَدَ وَضَعَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ؟ فَانْبَعَثَ أَشْقَاهَا فَجَاءَ بِهِ، فَلَمَّا سَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ وَثَبَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗١٤⦘ سَاجِدًا، وَضَحِكُوا حَتَّى مَالَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنَ الضَّحِكِ، فَانْطَلَقَ مُنْطَلِقٌ إِلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَهِيَ جُوَيْرِيَةٌ، فَأَقْبَلَتْ تَسْعَى حَتَّى أَلْقَتْهُ عَنْهُ، وَأَقْبَلَتْ عَلَيْهِمْ تَسُبُّهُمْ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: " اللهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ " ثَلَاثًا، ثُمَّ سَمَّى " اللهُمَّ عَلَيْكَ بِعَمْرِو بْنِ هِشَامٍ، وَبِعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، وَعُمَارَةَ بْنِ الْوَلِيدِ "، قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى يَوْمَ بَدْرٍ يُسْحَبُونَ إِلَى قَلِيبِ بَدْرٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَتْبِعْ أَصْحَابَ الْقَلِيبِ لَعْنَةً ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى، وَأَخْرَجَهُ هُوَ وَمُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کعبہ کے نزدیک نماز پڑھ رہے تھے کہ مشرکین اپنی مجالس میں جمع ہو کر دیکھنے لگے۔ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا: کیا تم اس ریا کار کی طرف نہیں دیکھتے ہو؟ تم میں سے کون آلِ فلاں کے اونٹ کی طرف جائے گا اور اس کا گوبر، خون اور اوجھڑی لائے گا، پھر ان کے سجدے میں جانے کا انتظار کرے گا اور جب وہ سجدے میں چلے جائیں تو اسے ان کے کندھوں کے درمیان رکھ دے گا؟ تو قوم کا سب سے زیادہ بدبخت انسان اٹھا اور وہ اوجھڑی وغیرہ لے آیا، جب آپ ﷺ سجدے میں گئے تو اس بدبخت نے اسے آپ ﷺ کے کندھوں کے درمیان رکھ دیا، آپ ﷺ سجدے ہی کی حالت میں رہے تو وہ یہ منظر دیکھ کر ہنسنے لگے حتیٰ کہ شدید ہنسی کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر گرنے لگے۔ پھر ایک جانے والا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف گیا اور وہ اس وقت بچی تھیں، وہ دوڑتی ہوئی آئیں اور انہوں نے آپ ﷺ سے وہ اوجھڑی دور کی اور پھر ان (مشرکین) کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے نماز مکمل کر لی تو تین مرتبہ فرمایا: «اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ» ”اے اللہ! قریش کو پکڑ لے۔“ پھر ان لوگوں کے نام لے کر دعا کی: «اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِعَمْرِو بْنِ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، وَعُمَارَةَ بْنِ الْوَلِيدِ» ”اے اللہ! عمرو بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف، عقبہ بن ابی معیط اور عمارہ بن ولید، ان سب کو پکڑ لے۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے بدر کے دن ان سب کو (میدان میں) گرے ہوئے دیکھا، پھر ان کو بدر کے کنویں میں گھسیٹ کر پھینک دیا گیا، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اصحابِ قلیب (کنویں والوں) پر لعنت مسلط کر دی گئی۔“