السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: مبتدأ الفرض على النبي صلى الله عليه وسلم ثم على الناس، وما لقي النبي صلى الله عليه وسلم من أذى قومه في تبليغ الرسالة على وجه الاختصار باب: نبی ﷺ اور پھر لوگوں پر فرائض عائد ہونے کی ابتدا، اور نبی ﷺ کو تبلیغِ رسالت میں اپنی قوم کی طرف سے پہنچنے والی اذیتوں کا مختصر بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَزِينٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ} [الحجر: ٩٥]، قَالَ: الْمُسْتَهْزِئُونَ الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، وَالْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ يَغُوثَ الزُّهْرِيُّ، وَالْأَسْوَدُ بْنُ الْمُطَّلِبِ، وَأَبُو زَمْعَةَ، مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، وَالْحَارِثُ بْنُ عَيْطَلٍ السَّهْمِيُّ، وَالْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ شَكَاهُمْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرَاهُ الْوَلِيدَ أَبَا عَمْرِو بْنَ الْمُغِيرَةِ، فَأَوْمَأَ جِبْرِيلُ إِلَى أَبْجَلِهِ، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ؟، قَالَ: كُفِيتُهُ، ثُمَّ أَرَاهُ الْأَسْوَدَ بْنَ الْمُطَّلِبِ فَأَوْمَى جِبْرِيلُ إِلَى عَيْنَيْهِ، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ؟، قَالَ: كُفِيتُهُ، ثُمَّ أَرَاهُ الْأَسْوَدَ بْنَ عَبْدِ يَغُوثَ الزُّهْرِيَّ فَأَوْمَأَ إِلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ؟، قَالَ ⦗١٥⦘ كُفِيتُهُ، وَمَرَّ بِهِ الْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ فَأَوْمَأَ إِلَى أَخْمَصِهِ، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ؟، قَالَ: كُفِيتُهُ، فَأَمَّا الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ فَمَرَّ بِرَجُلٍ مِنْ خُزَاعَةَ وَهُوَ يَرْيِشُ نَبْلًا لَهُ فَأَصَابَ أَبْجَلَهُ فَقَطَعَهَا، وَأَمَّا الْأَسْوَدُ بْنُ الْمُطَّلِبِ فَعَمِيَ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: عَمِيَ هَكَذَا وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: نَزَلَ تَحْتَ سَمُرَةٍ فَجَعَلَ يَقُولُ: يَا بَنِيَّ أَلَا تَدْفَعُونَ عَنِّي؟ قَدْ قُتِلْتُ، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: مَا نَرَى شَيْئًا، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى عَمِيَتْ عَيْنَاهُ، وَأَمَّا الْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ يَغُوثَ الزُّهْرِيُّ فَخَرَجَ فِي رَأْسِهِ قُرُوحٌ فَمَاتَ مِنْهَا، وَأَمَّا الْحَارِثُ بْنُ عَيْطَلٍ فَأَخَذَهُ الْمَاءُ الْأَصْفَرُ فِي بَطْنِهِ حَتَّى خَرَجَ خُرْؤُهُ مِنْ فِيهِ فَمَاتَ مِنْهَا، وَأَمَّا الْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ يَوْمًا إِذْ دَخَلَ فِي رَأْسِهِ شِبْرِقَةٌ حَتَّى امْتَلَأَتْ مِنْهَا فَمَاتَ مِنْهَا، وَقَالَ غَيْرُهُ: فَرَكِبَ إِلَى الطَّائِفِ عَلَى حِمَارٍ فَرَبَضَ بِهِ عَلَى شِبْرِقَةٍ فَدَخَلَتْ فِي أَخْمَصِ قَدَمِهِ شَوْكَةٌ فَقَتَلَتْهُ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ﴾ [سورة الحجر: 95] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ سے مذاق کرنے والے یہ لوگ تھے: ولید بن مغیرہ، اسود بن عبد یغوث زہری، اسود بن مطلب (ابو زمعہ) بنی اسد بن عبدالعزی، حارث بن عیطل سہمی اور عاص بن وائل۔ اس کے بعد آپ ﷺ کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے تو آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے ان لوگوں کی شکایت بیان کی۔ پھر آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ولید بن مغیرہ دکھایا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس کے ہاتھ کی موٹی رگ کی طرف اشارہ کیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تو نے کیا کیا؟“ انہوں نے کہا کہ آپ کی اس سے کفایت کر دی گئی۔ پھر آپ ﷺ نے ان کو اسود بن مطلب دکھایا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس کی آنکھ کی طرف اشارہ کیا اور آپ ﷺ نے پوچھا: ”تو نے کیا کیا؟“ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ (ان کے شر اور ایذاء سے) بچا لیے گئے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے ان کو اسود بن عبد یغوث زہری دکھایا تو انہوں نے اس کے سر کی طرف اشارہ کیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تو نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا؟“ تو انہوں نے کہا کہ آپ اس سے بچا لیے گئے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے ان کو حارث بن عیطل سہمی دکھایا تو انہوں نے اس کے سر کی طرف اشارہ کیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس کے ساتھ کیا کیا؟“ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ ﷺ محفوظ کر دیے گئے ہیں۔ پھر عاص بن وائل گزرا تو انہوں نے اس کے قدم کی خالی جگہ کی طرف اشارہ کیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا کیا؟“ انہوں نے کہا کہ آپ بے فکر ہو جائیں (اور ان کا انجام دیکھیں)۔ اس کے بعد ولید بن مغیرہ بنی خزاعہ کے ایک آدمی کے قریب سے گزرا جو اپنے تیر کے پھالے کو درست کر رہا تھا اور یہ تیر ولید بن مغیرہ کی رگ میں لگا اور اسے کاٹ دیا، اور رہا اسود بن مطلب تو وہ اندھا ہو گیا؛ بعض لوگ اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ ایسے اندھا ہوا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ وہ ببول کے درخت کے نیچے اترا اور اپنے بیٹوں سے کہنے لگا: مجھے بچاؤ! میں مر گیا، وہ کہنے لگے: ہمیں کوئی چیز نظر نہیں آتی جس سے آپ کو بچائیں۔ وہ یہی الفاظ کہتا رہا: وہ دیکھو! وہ مجھے مار رہا ہے، اسے مجھ سے دور کرو، وہ میری آنکھوں میں کانٹے چبھو رہا ہے۔ وہ کہتے: ہمیں تو کوئی چیز نظر نہیں آ رہی۔ اس کی یہی حالت رہی حتیٰ کہ وہ آنکھوں سے اندھا ہو گیا، اور رہا اسود بن عبد یغوث زہری، تو اس کے سر میں دانے نکلے اور وہ انہی دانوں کے ساتھ مر گیا۔ اور اسی طرح حارث بن عیطل کے پیٹ میں زرد رنگ کا پانی (پیپ وغیرہ) پڑ گیا کہ اس کا پاخانہ اس کے منہ سے نکل آیا اور وہ بھی اسی سے مر گیا۔ اور رہا عاص بن وائل، تو اس کے ساتھ بھی ایسے ہی ہوا کہ اس (گستاخ) کے سر میں کانٹا لگا جو پورے سر میں پھیل گیا اور وہ اسی سے مر گیا، اور بعض نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ اپنے گدھے پر سوار ہو کر طائف کی طرف جانے لگا، راستے میں گدھا اسے لے کر کانٹے دار بوٹی میں بیٹھ گیا تو اسے اس کے پاؤں کے تلوے میں کانٹا لگا اور وہ کانٹا ہی اس کی موت کا سبب بن گیا (اور یہ ملعون بھی مر گیا)۔