حدیث نمبر: 17733
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللهِ التَّمِيمِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، {فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ} نُوحٌ وَهودٌ وَإِبْرَاهِيمُ أُمِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَصْبِرَ كَمَا صَبَرَ هَؤُلَاءِ فَكَانُوا ثَلَاثَةً، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَابِعُهُمْ، قَالَ نُوحٌ: {إِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقَامِي وَتَذْكِيرِي بِآيَاتِ اللهِ} [يونس: ٧١] إِلَى آخِرِهَا، فَأَظْهَرَ لَهُمُ الْمُفَارَقَةَ، وَقَالَ هُودٌ حِينَ قَالُوا: {إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ} [هود: ٥٤] الْآيَةَ، فَأَظْهَرَ لَهُمُ الْمُفَارَقَةَ، وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: {قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ} [الممتحنة: ٤] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَأَظْهَرَ لَهُمُ الْمُفَارَقَةَ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ: {إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ} [الأنعام: ٥٦]، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ يَقْرَؤُهَا عَلَى الْمُشْرِكِينَ فَأَظْهَرَ لَهُمُ الْمُفَارَقَةَ ".
حافظ ثناء اللہ

ابوعالیہ رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ﴿فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ﴾ [سورة الأحقاف: 35] ”آپ بھی ایسے ہی صبر کیجیے جیسے رسولوں میں سے اولوا العزم رسولوں نے صبر کیا“ اولوا العزم رسول یہ ہیں: نوح، ہود، ابراہیم علیہم السلام۔ اور رسول کریم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ بھی صبر کریں جس طرح انہوں نے صبر کیا اور وہ تین تھے اور چوتھے رسول اللہ ﷺ تھے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے کہا: ﴿إِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُم مَّقَامِي وَتَذْكِيرِي بِآيَاتِ اللَّهِ فَعَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْتُ فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ وَشُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوا إِلَيَّ وَلَا تُنظِرُونِ﴾ [سورة يونس: 71] ”اے میری قوم! اگر تم کو میرا رہنا اور احکامِ الٰہی سے نصیحت کرنا بھاری معلوم ہوتا ہے تو میرا اللہ ہی پر بھروسہ ہے... تم نے میرے ساتھ جو کچھ کرنا ہے کر گزرو اور مجھ کو مہلت نہ دو“ حضرت نوح علیہ السلام نے ان کو بھرپور جواب دیتے ہوئے ان پر جدائی کا مقام واضح کر دیا اور اسی طرح ہود علیہ السلام نے بھی ان کو جواب دیا: جب انہوں نے آپ سے یہ کہا تھا: ﴿إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ﴾ [سورة هود: 54] ”بلکہ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تو ہمارے کسی معبود کے برے جھپٹے میں آگیا ہے“ تو انہوں نے اس کے جواب میں کہا کہ میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ بن جاؤ کہ میں ہوں اور تم سب مل کر میرے حق میں بدی کر لو اور میں نے نقطہ انفصال واضح کرتے ہوئے انہیں منہ توڑ جواب دیا اور ابراہیم علیہ السلام نے کہا: ﴿قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ﴾ [سورة الممتحنة: 4] ”(مسلمانو! تمہارے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بیزار ہیں)“ اور ان پر اپنی بات کو واضح کر دیا اور حضرت محمد ﷺ نے کہا: ﴿قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ﴾ [سورة الأنعام: 56] ”آپ کہہ دیجیے کہ مجھ کو اس سے ممانعت کی گئی ہے کہ ان کی عبادت کروں جن کو تم لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پکارتے ہو۔“ رسول کریم ﷺ کعبہ کے قریب کھڑے ہوئے اور مشرکین پر اس آیتِ کریمہ کو پڑھنے لگے اور اپنا نقطہ انفصال ان پر واضح کر دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17733
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»