حدیث نمبر: 17732
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عِمْرَانَ أَبِي الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَتْ قُرَيْشٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادْعُ رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَ لَنَا الصَّفَا ذَهَبًا وَنُؤْمِنَ بِكَ، قَالَ: أَتَفْعَلُونَ؟، قَالُوا: نَعَمْ، فَدَعَا، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: إِنْ اللهُ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامُ وَيَقُولُ: " إِنْ شِئْتَ أَصْبَحَ الصَّفَا ذَهَبًا، فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ عَذَّبْتُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ، وَإِنْ شِئْتَ فَتَحْتُ لَهُمْ بَابَ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ "، قَالَ: بَلْ يَا رَبِّ التَّوْبَةَ وَالرَّحْمَةَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قریش نے نبی ﷺ سے کہا: اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ صفا پہاڑی کو ہمارے لیے سونا بنا دے تو تب ہم آپ پر ایمان لائیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھا دیکھ لو تم ایسا ہی کرو گے؟“ انہوں نے کہا: ہاں! (ہم ایمان لے آئیں گے) آپ ﷺ نے دعا کی تو آپ کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور آ کر کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتے ہیں اور ساتھ فرماتے ہیں کہ اگر آپ ﷺ چاہتے ہیں تو صفا کو سونا بنا دیں گے اور پھر اس کے بعد بھی جس نے کفر کیا تو میں اس کو ایسا سخت عذاب دوں گا کہ مخلوق میں سے کسی ایک کو بھی ایسا عذاب نہ دوں گا اور اگر آپ چاہتے ہیں تو میں ان کے لیے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”(اے اللہ) تو توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دے (صفا کو سونا نہ بنا)۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17732
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»