کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: خلیطین (دو مختلف چیزوں مثلاً کھجور اور کشمش کو ملا کر مشروب بنانے) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا، وَنَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَعَنْ شَيْبَانَ، عَنْ جَرِيرٍ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ.
حافظ ثناء اللہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ ”منقی اور کھجور یا بسر کھجور اور رطب کھجور کو ملا کر نبیذ بنائی جائے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا مُسْلِمٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ التَّمْرِ وَالزَّهْوِ، وَبَيْنَ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ، وَأَمَرَ أَنْ يُنْبَذَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهَما عَلَى حِدَةٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے کھجور اور کچی کھجور کو ملا کر اور کھجور اور منقی کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے اور حکم دیا کہ: ”ہر ایک کی علیحدہ علیحدہ نبیذ بناؤ۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَنْتَبِذُوا ⦗٥٣٣⦘ الرُّطَبَ وَالزَّهْوَ جَمِيعًا، وَالتَّمْرَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا، وَانْبِذُوا كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَتِهِ "، قَالَ يَحْيَى: فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ فَأَخْبَرَنِي بِذَلِكَ عَنْ أَبِيهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ عَنْ رَوْحٍ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا أَبَانٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ خَلِيطِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ، وَعَنْ خَلِيطِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ، وَعَنْ خَلِيطِ الزَّهْوِ وَالرُّطَبِ، وَقَالَ: " انْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ عَلَى حِدَتِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکی ہے۔“
قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَفَّانَ، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَضِيَ عَنْهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْفِزْرِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا إِنَّ الْمَزَاةَ حَرَامٌ، أَلَا إِنَّ الْمَزَاةَ حَرَامٌ، خَلْطُ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ، وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”«المُزَاةُ» ”مزاۃ“ حرام ہے، «المُزَاةُ» ”مزاۃ“ حرام ہے“، مزاۃ کہتے ہیں کچی کھجور، پکی کھجور اور منقی کو ملا کر نبیذ بنانے کو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُمَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي رَيْطَةُ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُ؟ قَالَتْ: كَانَ يَنْهَانَا أَنْ نَعْجُمَ النَّوَى طَبْخًا، وَنَخْلِطَ الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: يُشْبِهُ أَنَّهُ إِنَّمَا نَهَى عَنِ الْمُبَالَغَةِ فِي نَضْجِ النَّوَى، مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ يُفْسِدُ طَعْمَ التَّمْرِ، أَوْ لِأَنَّهُ عَلَفُ الدَّوَاجِنِ، فَتَذْهَبُ قُوَّتُهُ إِذَا نَضَجَ، قَالَهُ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ رَحِمَهُ اللهُ.
حافظ ثناء اللہ
کبشہ بنت ابی مریم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ نبی ﷺ کن اشیاء سے روکا کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”ہمیں نبی ﷺ روکا کرتے تھے کہ ہم گھٹلیوں کو پکا کر اور منقیٰ اور کھجور کو ملا کر نبیذ نہ بنائیں۔“
شیخ فرماتے ہیں کہ گھٹلی کو پکانے سے منع میں مبالغہ اس لیے کیا ہے کہ یہ کھجور کے ذائقے کو خراب کرتی ہے اور یہ پالتو پرندوں اور جانوروں کا کھانا ہے اور اس سے پکانے کے بعد اس کی قوت ختم ہو جاتی ہے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ گھٹلی کو پکانے سے منع میں مبالغہ اس لیے کیا ہے کہ یہ کھجور کے ذائقے کو خراب کرتی ہے اور یہ پالتو پرندوں اور جانوروں کا کھانا ہے اور اس سے پکانے کے بعد اس کی قوت ختم ہو جاتی ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا وَأَبُو بَكْرٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمَانَ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَخِيهِِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ امْرَأَةٍ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَنْتَبِذُوا التَّمْرَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا، انْبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا وَحْدَهُ " ⦗٥٣٤⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: نَهْيُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَلِيطَيْنِ يَحْتَمِلُ أَمْرَيْنِ: أَحَدُهُمَا أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا نَهَى عَنْهُ لِخَلْطِهِمَا سَوَاءً بَلَغَ حَدَّ الْإِسْكَارِ أَوْ لَمْ يَبْلُغْ، وَأَبَاحَ شُرْبَهُ إِذَا نُبِذَ عَلَى حِدَتِهِ، وَالْآخَرُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا نَهَى عَنْهُ؛ لِأَنَّهُ أَقْرَبُ إِلَى الِاشْتِدَادِ، وَإِذَا نُبِذَ عَلَى حِدَتِهِ كَانَ أَبْعَدَ عَنِ الِاشْتِدَادِ، فَمَا لَمْ يَبْلُغْ حَالَةَ الِاشْتِدَادِ فِي الْمَوْضِعَيْنِ جَمِيعًا لَا يَحْرُمُ وَعَلَى هَذَا الْمَعْنَى الثَّانِي يَدُلُّ مَا.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ایک عورت رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھجور اور منقی کو ملا کر نبیذ نہ بناؤ، دونوں کو الگ الگ بناؤ۔“
شیخ فرماتے ہیں کہ دونوں کو ملانے سے منع دو باتوں کا احتمال رکھتا ہے: ایک تو یہ کہ آپ ﷺ نے محض ان دونوں کو ملانے کی وجہ سے منع فرمایا، خواہ وہ نشے کی حد تک پہنچے یا نہ پہنچے، اور الگ الگ نبیذ بنانے کی صورت میں اس کا پینا جائز قرار دیا، اور دوسرا یہ کہ آپ ﷺ نے اس لیے منع فرمایا کہ دونوں کو ملانے سے اس میں سختی جلدی پیدا ہوتی ہے اور الگ الگ بنانے سے دیر سے، لہٰذا جب تک دونوں صورتوں میں سختی کی حالت تک نہ پہنچے حرام نہیں، اور اسی دوسرے معنی پر آگے آنے والی روایت دلالت کرتی ہے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ دونوں کو ملانے سے منع دو باتوں کا احتمال رکھتا ہے: ایک تو یہ کہ آپ ﷺ نے محض ان دونوں کو ملانے کی وجہ سے منع فرمایا، خواہ وہ نشے کی حد تک پہنچے یا نہ پہنچے، اور الگ الگ نبیذ بنانے کی صورت میں اس کا پینا جائز قرار دیا، اور دوسرا یہ کہ آپ ﷺ نے اس لیے منع فرمایا کہ دونوں کو ملانے سے اس میں سختی جلدی پیدا ہوتی ہے اور الگ الگ بنانے سے دیر سے، لہٰذا جب تک دونوں صورتوں میں سختی کی حالت تک نہ پہنچے حرام نہیں، اور اسی دوسرے معنی پر آگے آنے والی روایت دلالت کرتی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ امْرَأَةٍ، مِنْ بَنِي أَسَدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُنْبَذُ لَهُ زَبِيبٌ فَيُلْقَى فِيهِ تَمْرٌ، أَوْ تَمْرٌ فَيُلْقَى فِيهِ زَبِيبٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی ﷺ کے لیے منقی کی نبیذ بنائی جاتی تو اس میں کچھ کھجوریں اور جب کھجور کی بنائی جاتی تو اس میں کچھ منقی ملا دیے جاتے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ، ثنا أَبُو بَحْرٍ، ثنا عَتَّابُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْحِمَّانِيُّ، حَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ بِنْتُ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلْتُ مَعَ نِسْوَةٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَسَأَلْنَاهَا عَنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ فَقَالَتْ: " كُنْتُ آخُذُ قَبْضَةً مِنْ تَمْرٍ وَقَبْضَةً مِنْ زَبِيبٍ فَأُلْقِيهِ فِي إِنَاءٍ فَأَمْرُسُهُ ثُمَّ أَسْقِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
صفیہ بنت عطیہ کہتی ہیں کہ میں عبدالقیس کی کچھ عورتوں کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، ہم نے ان سے کھجور اور منقی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”میں ایک مٹھی کھجور اور ایک مٹھی منقی لے کر ایک برتن میں ڈالتی، پھر اسے مل دیتی، پھر وہ نبی ﷺ کو پلاتی تھی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُخْلَطَ التَّمْرُ وَالزَّهْوُ، ثُمَّ يُشْرَبُ، وَإِنَّ ذَلِكَ كَانَ عَامَّةَ خُمُورِهِمْ يَوْمَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ " قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ: فَذَكَرَهُ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا نَهَى عَنْهُ لِكَوْنِهِ خَمْرًا، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ، وَعَلَى أَنَّهُ يُسْتَحَبُّ تَرْكُ الْخَلِيطَيْنِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مُسْكِرًا لِثُبُوتِ الْإِخْبَارِ فِي النَّهْيِ عَنْهُ مُطْلَقًا، وَإِنَّهَا أَثْبَتُ مِمَّا رُوِّينَا فِي الْإِبَاحَةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”کچی کھجور اور پکی کھجور کو ملا کر نبیذ بنا کر پینے“ سے منع فرمایا ہے؛ کیونکہ جب شراب حرام ہوئی تو اس وقت یہ عام لوگوں کی شراب تھی۔
اس حدیث میں اس کی ممانعت کی وجہ اس کا خمر ہونا ہے اور خمر ہر وہ چیز ہے جو عقل کو ڈھانپ دے اور ان روایات کی بنا پر اگرچہ ان میں نشہ پیدا نہ بھی ہوا ہو، ان کو ملا کر نبیذ بنانے سے بچنا مستحب ہے؛ کیونکہ اس کی مطلق ممانعت کی روایات ثابت ہیں اور وہ اباحت کی روایات سے زیادہ اثبت ہیں۔
اس حدیث میں اس کی ممانعت کی وجہ اس کا خمر ہونا ہے اور خمر ہر وہ چیز ہے جو عقل کو ڈھانپ دے اور ان روایات کی بنا پر اگرچہ ان میں نشہ پیدا نہ بھی ہوا ہو، ان کو ملا کر نبیذ بنانے سے بچنا مستحب ہے؛ کیونکہ اس کی مطلق ممانعت کی روایات ثابت ہیں اور وہ اباحت کی روایات سے زیادہ اثبت ہیں۔