السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: الخليطين باب: خلیطین (دو مختلف چیزوں مثلاً کھجور اور کشمش کو ملا کر مشروب بنانے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 17461
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُمَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي رَيْطَةُ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُ؟ قَالَتْ: كَانَ يَنْهَانَا أَنْ نَعْجُمَ النَّوَى طَبْخًا، وَنَخْلِطَ الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: يُشْبِهُ أَنَّهُ إِنَّمَا نَهَى عَنِ الْمُبَالَغَةِ فِي نَضْجِ النَّوَى، مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ يُفْسِدُ طَعْمَ التَّمْرِ، أَوْ لِأَنَّهُ عَلَفُ الدَّوَاجِنِ، فَتَذْهَبُ قُوَّتُهُ إِذَا نَضَجَ، قَالَهُ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ رَحِمَهُ اللهُ.حافظ ثناء اللہ
کبشہ بنت ابی مریم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ نبی ﷺ کن اشیاء سے روکا کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”ہمیں نبی ﷺ روکا کرتے تھے کہ ہم گھٹلیوں کو پکا کر اور منقیٰ اور کھجور کو ملا کر نبیذ نہ بنائیں۔“
شیخ فرماتے ہیں کہ گھٹلی کو پکانے سے منع میں مبالغہ اس لیے کیا ہے کہ یہ کھجور کے ذائقے کو خراب کرتی ہے اور یہ پالتو پرندوں اور جانوروں کا کھانا ہے اور اس سے پکانے کے بعد اس کی قوت ختم ہو جاتی ہے۔