❮
❯
حدیث نمبر: 17465
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُخْلَطَ التَّمْرُ وَالزَّهْوُ، ثُمَّ يُشْرَبُ، وَإِنَّ ذَلِكَ كَانَ عَامَّةَ خُمُورِهِمْ يَوْمَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ " قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ: فَذَكَرَهُ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا نَهَى عَنْهُ لِكَوْنِهِ خَمْرًا، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ، وَعَلَى أَنَّهُ يُسْتَحَبُّ تَرْكُ الْخَلِيطَيْنِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مُسْكِرًا لِثُبُوتِ الْإِخْبَارِ فِي النَّهْيِ عَنْهُ مُطْلَقًا، وَإِنَّهَا أَثْبَتُ مِمَّا رُوِّينَا فِي الْإِبَاحَةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”کچی کھجور اور پکی کھجور کو ملا کر نبیذ بنا کر پینے“ سے منع فرمایا ہے؛ کیونکہ جب شراب حرام ہوئی تو اس وقت یہ عام لوگوں کی شراب تھی۔
اس حدیث میں اس کی ممانعت کی وجہ اس کا خمر ہونا ہے اور خمر ہر وہ چیز ہے جو عقل کو ڈھانپ دے اور ان روایات کی بنا پر اگرچہ ان میں نشہ پیدا نہ بھی ہوا ہو، ان کو ملا کر نبیذ بنانے سے بچنا مستحب ہے؛ کیونکہ اس کی مطلق ممانعت کی روایات ثابت ہیں اور وہ اباحت کی روایات سے زیادہ اثبت ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17465
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»