کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: (مشروب کی تیزی کو) پانی کے ذریعے توڑنے (کم کرنے) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْمُؤَذِّنُ، ثنا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ أَبِي الْقَمُوصِ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَحَدِ الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ، إِلَّا يَكُنْ قَيْسَ بْنَ النُّعْمَانِ فَإِنِّي نَسِيتُ اسْمَهُ، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَّا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ وَبِيئَةٌ، وَإِنَّهُ لَا يُوَافِقُهَا إِلَّا الشَّرَابُ، فَمَا الَّذِي يَحِلُّ لَنَا مِنَ الْآنِيَةِ، وَمَا الَّذِي يَحْرُمُ عَلَيْنَا؟ قَالَ: " لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ، وَلَا النَّقِيرِ، وَلَا الْمُزَفَّتِ، وَاشْرَبُوا فِي الْجِلَالِ "، أَوْ قَالَ: " الْجِلْدِ الْمُوكَى عَلَيْهِ، فَإِنِ اشْتَدَّ مَتْنُهُ فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ، فَإِنْ أَعْيَاكُمْ فَاهِرِيقُوهُ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: الرِّوَايَاتُ الثَّابِتَةُ فِي قِصَّةِ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ خَالِيَةٌ عَنْ هَذِهِ اللَّفْظَةِ، وَفِي هَذَا الْإِسْنَادِ مَنْ يُجْهَلُ حَالُهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، أَنَّهُ قَالَ: " فَإِنْ خَشِيَ شِرَّتَهُ، أَوْ قَالَ: شِدَّتَهُ، فَلْيَصُبَّ عَلَيْهِ الْمَاءَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوالقموص زید بن علی وفدِ عبدالقیس کے ایک شخص سے، جو نبی ﷺ کے پاس آیا تھا، روایت کرتے ہیں (وہ کہتے ہیں: اگر وہ قیس بن نعمان نہیں تو میں ان کا نام بھول گیا ہوں) کہ ہم میں سے ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! ہماری زمین وبائی زمین ہے اور اسے مشروب کے سوا کوئی چیز موافق نہیں آتی، تو ہمارے لیے کون سے برتن حلال ہیں اور کون سے حرام؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کدو کے برتن، لکڑی کے کھوکھلے برتن اور تارکول لگے ہوئے برتن میں نہ پیو، اور چمڑے کے برتنوں میں پیو۔“ یا فرمایا: ”منہ بند مشکیزے میں پیو، اگر وہ سخت ہو جائے تو پانی ملا کر اس کی سختی توڑ دو، اور اگر وہ تمہارے بس میں نہ رہے تو اسے بہا دو۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وفدِ عبدالقیس کے قصے کی ثابت روایات میں یہ الفاظ نہیں ہیں، اور اس سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کا حال معلوم نہیں، واللہ اعلم۔ اور اس قصے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اگر اس کی سختی کا اندیشہ ہو تو اس پر پانی ڈال دے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17429
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَابْنُ صَاعِدٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثنا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ: " لَا تَشْرَبُوا فِي نَقِيرٍ، وَلَا مُقَيَّرٍ، وَلَا ⦗٥٢٥⦘ دُبَّاءٍ، وَلَا حَنْتَمٍ، وَلَا مَزَادَةٍ، وَلَكِنِ اشْرَبُوا فِي سِقَاءِ أَحَدِكُمْ غَيْرَ مُسْكِرٍ، فَإِنْ خُشِيَ شِرَّتُهُ فَلْيَصُبَّ عَلَيْهِ الْمَاءَ " لَفْظُ ابْنِ مَنِيعٍ، وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ نُوحِ بْنِ قَيْسٍ، لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ هَذِهِ اللَّفْظَةَ، فَيُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ مِنْ قَوْلِ بَعْضِ الرُّوَاةِ وَرُوِيَ فِي الْكَسْرِ بِالْمَاءِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے عبدالقیس کے وفد کو فرمایا تھا: ”تم لکڑی کے کھوکھلے برتن، رال لگے برتن، کدو کے برتن، سبز مٹکے اور بڑے مشکیزے میں نہ پیو، بلکہ اپنے مشکیزے میں وہ پیو جو نشہ آور نہ ہو، اور اگر اس کی سختی کا اندیشہ ہو تو اس پر پانی ڈال دے۔“
ایک جماعت نے اسے نوح بن قیس سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے، لہٰذا لگتا ہے کہ یہ کسی راوی کا قول ہے۔ اور پانی ملا کر سختی توڑنے کی بات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور طریق سے بھی مروی ہے، لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17430
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيذِ عَبْدُ الْقَيْسِ، أَتَوْهُ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا بِأَرْضِ رِيفٍ، وَإِنَّا نُصِيبُ مِنَ الْبَقْلِ، فَأْمُرْنَا بِشَرَابٍ، فَقَالَ: " اشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ، وَلَا تَشْرَبُوا فِي الْجَرِّ، وَلَا فِي الدُّبَّاءِ، وَلَا الْمُزَفَّتِ، وَلَا النَّقِيرِ، وَإِنِّي نَهَيْتُ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَالْكُوبَةِ، وَهِيَ الطَّبْلُ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ فَإِذَا اشْتَدَّ؟ قَالَ: فَقَالَ: " صُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ " قَال: فَإِذَا اشْتَدَّ؟ قَالَ: " صُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ " قَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ: " فَإِذَا اشْتَدَّ فَاهَرِيقُوهُ " خَالَفَهُ أَبُو جَمْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذِكْرُ الْكَسْرِ بِالْمَاءِ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے نبیذ کے بارے میں بنو عبدالقیس نے نبی ﷺ سے سوال کیا۔ وہ آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! ہم کھیتی باڑی والی زمین میں رہتے ہیں اور ہمیں اسی سے پھل حاصل ہوتا ہے تو ہمیں مشروبات کے بارے میں بتائیے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پینے والے برتنوں میں پیو اور مٹی کے گھڑے، کدو کے برتن، لکڑی کے برتن اور تارکول سے بنے برتن میں نہ پیو اور مجھے شراب، جوئے اور طبلہ سے منع کیا گیا ہے اور ہر نشہ آور چیز بھی منع ہے۔“ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر وہ بہت زیادہ گاڑھا ہوجائے تو؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ”پانی اس میں ملا دو۔“ پھر انھوں نے یہی سوال کیا تو آپ نے پھر یہی جواب دیا۔ پھر جب تیسری یا چوتھی مرتبہ جب یہی سوال دہرایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب وہ بہت سخت ہوجائے تو اسے انڈیل دو۔“
ابو جمرہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرنے میں اس کی مخالفت کی ہے، چنانچہ پانی ملانے کا ذکر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17431
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، وَأَبُو الْحَسَنِ السِّرَاجُ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُقْعِدُنِي عَلَى سَرِيرِهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ عَبْدَ الْقَيْسِ تَنْتَبِذُ فِي مَزَادٍ لَهَا نَبِيذًا شَدِيدًا، قَالَ: فَإِذَا خَشِيتَ شِدَّتَهُ فَاكْسِرْهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ عَبْدَ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، لَيْسَ فِيهِ الْأَمْرُ بِالْكَسْرِ بِالْمَاءِ وَذَلِكَ يَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهُ، وَإِنَّمَا أَرَادَ بِالْكَسْرِ بِالْمَاءِ فِي هَذَا وَفِي غَيْرِهِ: إِذَا خَشِيَ شِدَّتَهُ قَبْلَ بُلُوغِهِ حَدَّ الْإِسْكَارِ بِدَلِيلِ قَوْلِهِ: وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَالْحَرَامُ لَا يُحِلُّهُ دُخُولُ الْمَاءِ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو حمزہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے اپنی چارپائی پر بٹھایا اور حدیث بیان کی۔ میں نے کہا: کیا بنو عبدالقیس اتنی سخت نبیذ بناتے تھے؟ تو آپ نے فرمایا: ”جب سخت ہو جائے تو پانی ملا دو۔“ پھر اوپر والی حدیث ذکر کی، لیکن اس میں پانی ملانے والا ذکر نہیں کیا اور اس میں پانی ملانے کا حکم اس میں نشہ پیدا ہونے سے پہلے ہے اور نشہ حرام ہے جو پانی ملانے سے پاک نہیں ہو جاتا ہے کیونکہ فرمانِ نبوی ﷺ ہے: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17432
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَفِيمَا بَلَغَ حَدَّ الْإِسْكَارِ وَرَدَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ، ⦗٥٢٦⦘ فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَهُ بِنَبِيذٍ صَنَعْتُهُ فِي دُبَّاءٍ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِهِ، فَإِذَا هُوَ يَنِشُّ، فَقَالَ: " اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطَ، فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے پتا چلا کہ آپ ﷺ روزے سے ہیں تو میں نے آپ ﷺ کی افطاری کی تیاری کی اور کدو کے برتن میں نبیذ بنایا، پھر میں اسے آپ ﷺ کے پاس لے آیا اور اس میں جھاگ بنی ہوئی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اس دیوار کے ساتھ مار دو، یہ تو ان کا پینا ہے جن کا اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17433
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحُلْوَانِيُّ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ يَحْيَى، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَلَّاقٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ حُسَيْنٍ، مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17434
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَنْبَأَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ يُخْبِرُ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَبِيذِ جَرٍّ يَنِشُّ، فَقَالَ: " اضْرِبْ بِهِ الْحَائِطَ، فَإِنَّهُ لَا يَشْرَبُ هَذَا مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَوْ كَانَ إِلَى إِحْلَالِهِ بِصَبِّ الْمَاءِ عَلَيْهِ سَبِيلٌ لَمَا أَمَرَ بِإِرَاقَتِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَرَأَيْتُ فِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ كِلَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مَرْفُوعًا: لَا تَنْبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَلَا النَّقِيرِ وَلَا الْحَنْتَمِ، وَلَا تَنْبِذُوا الْبُسْرَ وَالرُّطَبَ جَمِيعًا، وَلَا التَّمْرَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا، وَمَا كَانَ سِوَى ذَلِكَ فَاشْتَدَّ عَلَيْكُمْ فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ وَثُمَامَةُ بْنُ كِلَابٍ هَذَا مَجْهُولٌ، وَالثَّابِتُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّهْيِ عَنِ الْخَلِيطَيْنِ دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَرَأَيْتُهُ أَيْضًا فِي حَدِيثِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ السُّحَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: إِذَا رَابَكَ مِنْ شَرَابِكَ رَيْبٌ فشِنَّ عَلَيْهِ الْمَاءَ، أَمِطْ عَنْكَ حَرَامَهُ وَاشْرَبْ حَلَالَهُ وَهَذَا أَيْضًا ضَعِيفٌ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ اخْتَلَطَ فِي آخِرِ عُمْرِهِ، وَسَاءَ حِفْظُهُ، فَرَوَى مَا لَمْ ⦗٥٢٧⦘ يُتَابَعْ عَلَيْهِ، وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ: وَقَوْلُهُ: إِذَا رَابَكَ، قَالَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَذَكَرَهُ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ فِي مُسْنَدِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس مٹی کے مٹکے میں بنا ہوا نبیذ لایا گیا جس میں جھاگ بنا ہوا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے دیوار پر دے مارو۔ یہ اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھنے والے کا مشروب نہیں ہے۔“ شیخ فرماتے ہیں کہ اگر پانی کے ملانے سے یہ حلال ہو سکتا تو نبی ﷺ کبھی اسے دیوار پر مارنے کا نہ کہتے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے کدو کے برتن، تارکول اور لکڑی جو کھجور کی جڑ سے بنا ہوا برتن، اور رنگے ہوئے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے اور خشک اور تر کھجور اور منقیٰ اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا ہے۔ ان کے علاوہ جو گاڑھا ہو جائے تو اس میں پانی ملا لو۔ لیکن اس کی سند میں ثمامہ بن کلاب مجہول ہے، اور یحییٰ بن ابی کثیر عن ابی سلمہ عن ابی قتادہ عن النبی ﷺ کی ثابت روایت میں دو چیزیں ملا کر نبیذ بنانے کی ممانعت ہے، اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور مرفوع روایت آئی ہے، فرمایا کہ: ”جب مشروب میں شک ہو تو اس پر پانی ڈال دے اور جو اس سے حرام ہے اسے انڈیل دے اور حلال کو پی لے۔“ لیکن یہ بھی ضعیف ہے، کیونکہ عکرمہ بن عمار آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے اور ان کا حافظہ خراب ہو گیا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17435
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى الْبَزَّازُ، ثنا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، عَنِ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ، قَالَ: طَافَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ فِي يَوْمٍ قَائِظٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، فَاسْتَسْقَى رَهْطًا مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ: " هَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ شَرَابٌ فَيُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ " فَأَرْسَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ نَبِيذُ زَبِيبٍ، فَلَمَّا رَآهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ بِعُودٍ تُعْرَضُ عَلَيْهِ؟ "، فَلَمَّا أَدْنَاهُ مِنْهُ وَجَدَ لَهُ رَائِحَةً شَدِيدَةً، فَقَطَبَ وَرَدَّ الْإِنَاءَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ يَكُنْ حَرَامًا لَمْ نَشْرَبْهُ، فَاسْتَعَادَ الْإِنَاءَ وَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ الرَّجُلُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَدَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَصَبَّهُ عَلَى الْإِنَاءِ وَقَالَ: " إِذَا اشْتَدَّ عَلَيْكُمْ شَرَابُهُ فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا ".
حافظ ثناء اللہ
مطلب بن ابی وداعہ سہمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن سخت گرمی میں نبی ﷺ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے قریش کے لوگوں سے پینے کے لیے کچھ مانگا تو ایک آدمی نے اپنے گھر پیغام بھیجا تو ایک لونڈی منقیٰ کا نبیذ لے آئی۔ جب نبی ﷺ نے اسے دیکھا تو فرمایا: ”تم نے اسے ڈھانپا کیوں نہیں، چاہے اس پر ایک لکڑی ہی آڑی رکھ دیتے؟“ جب اسے آپ ﷺ کے قریب کیا تو آپ ﷺ نے اس سے ناپسندیدہ بو پائی تو آپ ﷺ کے چہرے سے ترش روئی محسوس ہوئی اور آپ ﷺ نے وہ برتن واپس کر دیا تو ایک آدمی نے کہا: ”یا رسول اللہ! اگر یہ حرام ہے تو ہم اسے نہیں پئیں گے۔“ انہوں نے دوبارہ برتن آپ ﷺ کی طرف کیا، آپ ﷺ نے پھر ویسے ہی واپس کر دیا، اس شخص نے پھر وہی بات کہی تو پھر آپ ﷺ نے زمزم کا پانی منگوایا اور اس میں شامل کر دیا اور فرمایا: ”جب یہ سخت ہو جائے تو اس میں اس طرح پانی ملا دیا کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17436
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، قَالَ: طَافَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ حَارٍّ فَاسْتَسْقَى فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ مِنْ نَبِيذٍ، فَلَمَّا رَفَعَهُ إِلَى فِيهِ قَطَبَ فَتَرَكَهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا شَرَابُ أَهْلِ مَكَّةَ، أَحَرَامٌ هُوَ؟ فَسَكَتَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَقَطَبَ فَنَحَّاهُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَدَعَا بِذَنُوبٍ أَوْ دَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ سَقَى الَّذِي يَلِيهِ وَالَّذِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا اصْنَعُوا بِهِ إِذَا غَلَبَكُمْ " فَهَذَا إِنَّمَا رَوَاهُ الْكَلْبِيُّ، وَالْكَلْبِيُّ مَتْرُوكٌ، وَأَبُو صَالِحٍ بَاذَانُ ضَعِيفٌ، لَا يُحْتَجُّ بِخَبَرِهِمَا وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ عَنْ سُفْيَانَ، فَغَلِطَ فِي إِسْنَادِهِ.
حافظ ثناء اللہ
مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک گرم دن طواف کیا اور پینے کو کچھ مانگا تو نبیذ کا ایک برتن لایا گیا، جب آپ ﷺ نے اسے منہ کی طرف اٹھایا تو منہ بنایا اور اسے چھوڑ دیا۔ ایک آدمی نے کہا: ”یا رسول اللہ! یہ اہل مکہ کا مشروب ہے، کیا یہ حرام ہے؟“ آپ ﷺ خاموش رہے۔ پھر دوسری مرتبہ وہ آپ ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ ﷺ نے منہ بنایا اور اسے ہٹا دیا، اس آدمی نے پھر وہی بات کہی تو آپ ﷺ نے پانی کا ایک ڈول منگوایا اور اس میں ڈال دیا، پھر اپنے ساتھ والے اور اپنی دائیں جانب والے کو پلایا اور فرمایا: ”جب یہ تم پر غالب آ جائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کیا کرو۔“
اسے صرف کلبی نے روایت کیا ہے اور کلبی متروک ہے، اور ابو صالح باذان ضعیف ہے، ان دونوں کی روایت سے دلیل نہیں لی جاتی۔ اور یحییٰ بن یمان نے اسے سفیان سے روایت کیا تو اس کی سند میں غلطی کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17437
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا ابْنُ يَمَانٍ، ح وَأنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَحْرٍ الْعَطَّارُ جَمِيعًا بِالْبَصْرَةِ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: عَطِشَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْلَ الْكَعْبَةِ فَاسْتَسْقَى، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ مِنَ السِّقَايَةِ، فَشَمَّهُ فَقَطَبَ فَقَالَ: " عَلَيَّ بِذَنُوبٍ مِنْ زَمْزَمَ " فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ، فَقَالَ رَجُلٌ: حَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " لَا " ⦗٥٢٨⦘ لَفْظُ حَدِيثِ الشَّهِيدِيِّ وَحَدِيثُ أَبِي مَعْمَرٍ مُخْتَصَرٌ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الطَّوَافِ: أَحَلَالٌ هُوَ أَمْ حَرَامٌ؟ قَالَ: " حَلَالٌ "، يَعْنِي النَّبِيذَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ: هَذَا حَدِيثٌ مَعْرُوفٌ بِيَحْيَى بْنِ يَمَانٍ، وَيُقَالُ: إِنَّهُ انْقَلَبَ عَلَيْهِ الْإِسْنَادُ، وَاخْتَلَطَ بِحَدِيثِ الْكَلْبِيِّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، وَالْكَلْبِيُّ مَتْرُوكٌ، وَأَبُو صَالِحٍ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کعبہ کے پاس نبی ﷺ کو پیاس لگی تو آپ ﷺ کے پاس نبیذ لایا گیا، آپ ﷺ نے اس کی بو سے منہ بنایا اور زمزم کا پانی منگوایا اور اس میں ڈالا، پھر اسے نوش فرمایا تو ایک شخص کہنے لگا: یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ سے پوچھا گیا: یہ حلال ہے یا حرام؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”حلال۔“
علی بن عمر (دارقطنی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث یحییٰ بن یمان کے واسطے سے معروف ہے، اور کہا جاتا ہے کہ ان پر سند الٹ گئی اور کلبی عن ابی صالح کی حدیث کے ساتھ خلط ملط ہو گئی، اور کلبی متروک ہے اور ابو صالح ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17438
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، يَقُولُ: ابْنُ يَمَانٍ سَرِيعُ النِّسْيَانَ، وَحَدِيثُهُ خَطَأٌ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، إِنَّمَا هُوَ عَنِ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبداللہ بن نمیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن یمان رحمہ اللہ بہت بھولتا تھا اور «ثَوْرِي عَنْ مَنْصُورٍ» کے طریق سے اس نے خطا کھائی ہے، بلکہ یہ صحیح سند «كَلْبِي عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ مُطَلِّبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ رضی اللہ عنہ» ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17439
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ، ثنا الْجُنَيْدِيُّ، قَالَ: قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ الْيَمَانِ: هَذَا لَمْ يَصِحَّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا، وَقَالَ الْأَشْجَعِيُّ وَغَيْرُهُ: عَنْ سُفْيَانَ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ.
حافظ ثناء اللہ
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یحییٰ بن یمان کی یہ حدیث (١٧٤٣٨) صحیح نہیں ہے اور اشجعی کہتے ہیں کہ یہ عن سفیان عن کلبی عن ابی صالح عن مطلب صحیح ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17440
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ الْمَحْمُودِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُوسَى، قَالَ: ذَكَرْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ حَدِيثَ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ، فِي النَّبِيذِ، قَالَ: لَا تُحَدِّثْ بِهَذَا قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ سَرَقَهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانٍ فَرَوَاهُ عَنْ سُفْيَانَ، وَسَرَقَهُ الْيَسَعُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ فَرَوَاهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ عَنْ سُفْيَانَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانٍ مَتْرُوكٌ، وَالْيَسَعُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو موسیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ کو سفیان عن منصور والی حدیث (17438) بیان کی تو انہوں نے مجھے بیان کرنے سے منع کر دیا۔
شیخ فرماتے ہیں: اسے عبدالعزیز بن ابان نے چرا کر سفیان سے روایت کیا، اور یسع بن اسماعیل نے چرا کر زید بن حباب عن سفیان سے روایت کیا، اور عبدالعزیز بن ابان متروک ہے اور یسع بن اسماعیل ضعیف الحدیث ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17441
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ لابن المهدي»
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيِّ، وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قِصَّةِ طَوَافِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدُعَائِهِ بِشَرَابٍ، قَالَ: فَأُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ دَعَا بِالْمَاءِ فَصَبَّهُ فِيهِ فَشَرِبَ، ثُمَّ اشْتَدَّ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ فِيهِ، ثُمَّ شَرِبَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، ثُمَّ قَالَ: " إِذَا اشْتَدَّ عَلَيْكُمْ فَاقْتُلُوهُ بِالْمَاءِ " وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ضَعِيفٌ، لَا يُحْتَجُّ بِهِ لِسُوءِ حِفْظِهِ وَقَدْ رَوَى خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قِصَّةَ طَوَافِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشُرْبِهِ، لَمْ يَذْكُرْ فِيهَا مَا ذَكَرَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، وَإِنَّمَا تُعْرَفُ هَذِهِ الزِّيَادَةُ مِنْ رِوَايَةِ الْكَلْبِيِّ كَمَا مَضَى، ⦗٥٢٩⦘ وَزَادَ يَزِيدُ: شَرِبَهُ مِنْهُ قَبْلَ خَلْطِهِ بِالْمَاءِ، وَهُوَ بِخِلَافِ سَائِرِ الرِّوَايَاتِ، وَكَيْفَ يُظَنُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْرَبَ الْمُسْكِرَ إِنْ كَانَ مُسْكِرًا عَلَى زَعْمِهِمْ قَبْلَ أَنْ يَخْلِطَهُ بِالْمَاءِ؟ فَدَلَّ عَلَى أَنَّهُ لَا أَصْلَ لَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی ﷺ کا قصہ طواف ذکر کرتے ہیں اور پھر آپ ﷺ نے جو مشروب منگایا تھا اس کا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ مشروب لایا گیا تو آپ ﷺ نے اس میں سے پیا، پھر پانی منگوا کر اس میں ڈالا اور پیا، پھر وہ آپ ﷺ کو سخت محسوس ہوا تو پانی منگوا کر اس میں ڈالا، پھر دو یا تین مرتبہ پیا، پھر فرمایا: ”جب یہ تم پر سخت ہو جائے تو اس (کی سختی) کو پانی کے ساتھ قتل کرو۔“
یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے، حافظے کی خرابی کی وجہ سے اس سے دلیل نہیں لی جاتی۔ خالد حذاء نے عکرمہ عن ابن عباس کے طریق سے نبی ﷺ کے طواف اور مشروب پینے کا قصہ روایت کیا ہے اور اس میں وہ بات ذکر نہیں کی جو یزید نے ذکر کی ہے، یہ اضافہ تو کلبی کی روایت سے پہچانا جاتا ہے جیسا کہ گزر چکا۔ یزید نے یہ اضافہ بھی کیا کہ آپ ﷺ نے پانی ملانے سے پہلے اس میں سے پیا، جو باقی تمام روایات کے خلاف ہے۔ نبی ﷺ کے بارے میں یہ کیسے گمان کیا جا سکتا ہے کہ آپ ﷺ نشہ آور چیز، اگر ان کے خیال میں وہ نشہ آور تھی، پانی ملانے سے پہلے پی لیں؟ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں، واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17442
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السِّرَاجُ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثنا دَارِمٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَنَفِيَّ، قَالَ: شَهِدْتُ عَطَاءً وَسُئِلَ عَنِ النَّبِيذِ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ "، فَقُلْتُ: يَا ابْنَ أَبِي رَبَاحٍ إِنَّ هَؤُلَاءِ يَسْقُونَنَا فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ لَقَدْ أَدْرَكْتُهَا، وَإِنَّ الرَّجُلَ لِيَشْرَبُ مِنْهَا فَتَلْتَزِقُ شَفَتَاهُ مِنْ حَلَاوَتِهَا، وَلَكِنَّ الْحُرِّيَّةَ ذَهَبَتْ وَوَلِيَهَا الْعَبِيدُ فَتَهَاوَنُوا بِهَا.
حافظ ثناء اللہ
دارم بن عبدالحمید حنفی کہتے ہیں کہ میں عطاء رحمہ اللہ کے پاس تھا۔ ان سے نبیذ کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ تو میں نے کہا: اے ابن ابی رباح! یہ لوگ تو ہمیں مسجد میں (نبیذ) پلاتے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا: «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ میں نے وہ زمانہ پایا ہے کہ آدمی اسے پیتا تو اس کی مٹھاس کی وجہ سے اس کے ہونٹ آپس میں چپک جاتے تھے، لیکن آزاد لوگ چلے گئے اور اس کا انتظام غلاموں کے ہاتھ آ گیا تو انہوں نے اس میں لاپرواہی برتی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17443
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ ابْنُ أَخِي الْقَعْقَاعِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: وَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَجُلٍ رِيحَ نَبِيذٍ، فَقَالَ: " مَا هَذِهِ الرِّيحُ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا تو اس سے آپ ﷺ نے بو محسوس کی تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ بو کیسی؟“ اس نے کہا: نبیذ کی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس لاؤ۔“ وہ نبیذ آپ ﷺ کے پاس لایا گیا تو وہ بہت سخت تھا، تو آپ ﷺ نے اس میں پانی ملا لیا اور فرمایا: ”جب تمہارا مشروب سخت ہو جائے تو اس طرح اس میں پانی ملا لیا کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17444
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ ابْنِ أَخِي الْقَعْقَاعِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ مِنْهُ رِيحًا فَقَالَ: " مَا هَذِهِ الرِّيحُ؟ " فَقَالَ: نَبِيذٌ، قَالَ: " فَأَرْسِلْ إِلِيَّ مِنْهُ "، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَوَجَدَهُ شَدِيدًا، فَدَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ، ثُمَّ قَالَ: " إِذَا اغْتَلَمَتْ أَشْرِبَتُكُمْ فَاكْسِرُوهَا بِالْمَاءِ " وَرَوَاهُ أَيْضًا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قُرَّةَ الْعِجْلِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَقَالَ: " فَاقْطَعُوا مُتُونَهَا بِالْمَاءِ ".
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17445
أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ كَزَالٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنِي قُرَّةُ الْعِجْلِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ابْنِ أَخِي الْقَعْقَاعِ بْنِ شَوْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذُكِرَ لَهُ شَرَابٌ فَأُتِيَ بِقَدَحٍ مِنْهُ، فَلَمَّا قَرَّبَهُ إِلَى فِيهِ كَرِهَهُ فَرَدَّهُ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ: " رُدُّوهُ " فَأَخَذَ مِنْهُ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " انْظُرُوا هَذِهِ الْأَسْقِيَةَ، إِذَا اغْتَلَمَتْ فَاقْطَعُوا مُتُونَهَا بِالْمَاءِ " ⦗٥٣٠⦘ حَدِيثٌ يُعْرَفُ بِعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ هَذَا، وَهُوَ رَجُلٌ مَجْهُولٌ اخْتَلَفُوا فِي اسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيهِ، فَقِيلَ هَكَذَا، وَقِيلَ: عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْقَعْقَاعِ، وَقِيلَ: ابْنُ أَبِي الْقَعْقَاعِ، وَقِيلَ: مَالِكُ بْنُ الْقَعْقَاعِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے تو آپ ﷺ کے لیے ایک مشروب کا پیالہ لایا گیا۔ جب آپ ﷺ نے اسے اپنے قریب کیا تو اس سے ناگوار بو محسوس کی تو کچھ لوگوں نے سوال کیا کہ کیا یہ حرام ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے دو“ اور پھر لے کر اس میں پانی ملایا اور فرمایا: ”جب تم اپنے مشروب کو اس طرح سخت دیکھو تو اس کی سختی کو پانی سے توڑ دو۔“
یہ حدیث اسی عبدالملک بن نافع کے ذریعے پہچانی جاتی ہے اور وہ مجہول آدمی ہے، اس کے اور اس کے والد کے نام میں اختلاف ہے: کہا گیا ہے کہ یہی نام ہے، اور کہا گیا ہے: عبدالملک بن قعقاع، اور کہا گیا ہے: ابن ابی قعقاع، اور کہا گیا ہے: مالک بن قعقاع۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17446
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ: أَرَأَيْتَ حَدِيثَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ الَّذِي يَرْوِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ فِي النَّبِيذِ؟ قَالَ: هُمْ يُضَعِّفُونَهُ قَالَ: وَأَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ يَقُولُ: قَالَ الْبُخَارِيُّ: عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ نَافِعٍ ابْنُ أَخِي الْقَعْقَاعِ بْنِ شَوْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي النَّبِيذِ، لَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ: عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ نَافِعٍ لَيْسَ بِمَشْهُورٍ، وَلَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، وَالْمَشْهُورُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ خِلَافُ حِكَايَتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی مریم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے کہا کہ نبیذ کے بارے میں عبدالملک بن نافع کی جو روایت اسماعیل بن ابی خالد بیان کرتے ہیں، آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ وہ فرماتے ہیں کہ محدثین اسے ضعیف قرار دیتے ہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبدالملک بن نافع، قعقاع بن شور کا بھتیجا، نبیذ کے بارے میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتا ہے، اس پر اس کی متابعت نہیں کی گئی۔
ابو عبدالرحمٰن نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبدالملک بن نافع مشہور نہیں ہے اور اس کی حدیث سے دلیل نہیں لی جاتی، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مشہور بات اس کے بیان کے خلاف ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17447
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ لابن معين»
وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: تَلَقَّتْ ثَقِيفٌ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِنَبِيذٍ، " فَوَجَدَهُ شَدِيدًا فَدَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ".
حافظ ثناء اللہ
ابن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ثقیف والے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس نبیذ لائے، وہ سخت تھی تو آپ نے اس میں دو یا تین مرتبہ پانی ملا کر اسے پتلا کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17448
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، ثنا جَدِّي، جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عُثْمَانَ، قَالَ: صَاحَبْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى مَكَّةَ، فَأَهْدَى لَهُ رَكْبٌ مِنْ ثَقِيفٍ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ نَبِيذٍ، وَالسَّطِيحَةُ فَوْقَ الْإِدَاوَةِ وَدُونَ الْمَزَادَةِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ: فَشَرِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِحْدَاهُمَا، قَالَ حَجَّاجٌ: طَيِّبَةٌ، ثُمَّ أُهْدِيَ لَهُ لَبَنٌ فَعَدَلَهُ عَنْ شُرْبِ الْأُخْرَى حَتَّى اشْتَدَّ مَا فِيهَا، فَذَهَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِيَشْرَبَ مِنْهَا فَوَجَدَهُ قَدِ اشْتَدَّ، فَقَالَ: " اكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ " فَإِنَّمَا كَانَ اشْتِدَادُهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ، بِالْحُمُوضَةِ أَوْ بِالْحَلَاوَةِ، فَقَدْ رُوِيَ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ⦗٥٣١⦘ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِيَرْفَأَ: اذْهَبْ إِلَى إِخْوَانِنَا فَالْتَمِسْ لَنَا عِنْدَهُمْ شَرَابًا، فَأَتَاهُمْ فَقَالُوا: مَا عِنْدَنَا إِلَّا هَذِهِ الْإِدَاوَةَ وَقَدْ تَغَيَّرَتْ، فَدَعَا بِهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَاقَهَا، فَقَبَضَ وَجْهَهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّ عَلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ قَالَ نَافِعٌ: وَاللهِ مَا قَبَضَ وَجْهَهُ إِلَّا أَنَّهَا تَخَلَّلَتْ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سفرِ مکہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ ثقیف کے سوار نے دو مشکیزے نبیذ کے دیے۔ آپ نے ان میں سے ایک کو پیا۔ پھر آپ کے لیے دودھ ہدیہ کیا گیا تو آپ نے دودھ پیا اور نبیذ چھوڑ دی۔ پھر کچھ دیر کے بعد نبیذ پینے کے لیے آئے تو دیکھا وہ گاڑھا ہو چکا تھا، تو آپ نے فرمایا: ”اسے پانی سے توڑ دو۔“ اس کا گاڑھا ہونا، واللہ اعلم، ترشی یا مٹھاس کی وجہ سے تھا۔ اسی طرح نافع رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یرفا سے فرمایا: ہمارے بھائیوں کے پاس جاؤ اور ان کے ہاں ہمارے لیے کوئی مشروب تلاش کرو۔ وہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: ہمارے پاس صرف یہی چھاگل ہے اور وہ بدل چکی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے منگوایا، چکھا تو چہرہ سکیڑ لیا، پھر پانی منگوا کر اس پر ڈالا اور پی لیا۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! آپ نے صرف اس لیے چہرہ سکیڑا تھا کہ وہ سرکہ بن چکی تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17449
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْجُوزِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، أنبأ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: وَاللهِ " مَا قَبَضَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَجْهَهُ عَنِ الْإِدَاوَةِ حِينَ ذَاقَهَا إِلَّا أَنَّهَا تَخَلَّلَتْ " وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بِنَحْوٍ مِنْ رِوَايَةِ نَافِعٍ. وَيُذْكَرُ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيذُ الَّذِي شَرِبَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ تَخَلَّلَ، وَيُذْكَرُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا إِذَا حَمُضَ عَلَيْهِمُ النَّبِيذُ كَسَرُوهُ بِالْمَاءِ.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے چھاگل کو چکھتے وقت صرف اس لیے چہرہ سکیڑا تھا کہ وہ سرکہ بن چکی تھی، اور ابن مسیب رحمہ اللہ سے بھی ایسی ہی روایت آتی ہے، اور عتبہ بن فرقد سے منقول ہے کہ جو نبیذ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پی تھی وہ سرکہ بن چکی تھی، اور زید بن اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نبیذ جب کھٹی ہو جاتی تو وہ اس کی سختی کو پانی سے توڑتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17450
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا يَحْيَى هُوَ ابْنُ مَعِينٍ، ثنا الْمُعْتَمِرُ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: أَنْتَ حَدَّثْتَنِي عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: " إِنَّمَا كَسَرَ عُمَرُ النَّبِيذَ مِنْ شِدَّةِ حَلَاوَتِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پانی کے ساتھ نبیذ کی سختی کو توڑا اور وہ اپنی مٹھاس کی وجہ سے سخت ہو گئی تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17451
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْجِرَاحِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَاسَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ السُّكَّرِيِّ، ثنا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، أَخْبَرَنِي عَلِيٌّ الْبَاشَانِيُّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: قَالَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ لِأَبِي حَنِيفَةَ فِي النَّبِيذِ، فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: أَخَذْنَاهُ مِنْ قِبَلِ أَبِيكَ، قَالَ: وَأَبِي مَنْ هُوَ قَالَ: " إِذَا رَابَكُمْ فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ " قَالَ عُبَيْدُ اللهِ الْعُمَرِيُّ: إِذَا تَيَقَّنْتَ بِهِ وَلَمْ تَرْتَبْ كَيْفَ تَصْنَعُ؟ قَالَ: فَسَكَتَ أَبُو حَنِيفَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ بن عمر رحمہ اللہ نے ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے نبیذ کے بارے میں گفتگو کی تو ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہنے لگے: یہ تو ہم نے آپ کے والد کی طرف سے لیا ہے، انہوں نے پوچھا: وہ کیا کہتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب شک ہو تو اس میں پانی ملا دو، تو عبید اللہ رحمہ اللہ کہنے لگے: جب یقین ہو اور شک نہ ہو تو کیا کرو گے؟ تو ابوحنیفہ رحمہ اللہ خاموش ہو گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17452
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْجُوزِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَمِينَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيَّ، يَقُولُ: " مَا فِي شَرْبَةٍ مِنْ نَبِيذٍ مَا يُخَاطِرُ رَجُلٌ بِدِينِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان تیمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبیذ کے ایک گھونٹ میں ایسی کوئی چیز نہیں جس کی خاطر آدمی اپنے دین کو خطرے میں ڈالے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17453
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَسَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ عَبْدَ الْخَالِقِ بْنَ عَلِيٍّ الْمُؤَذِّنَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَلِيٍّ مُحَمَّدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمُودٍ الْمُزَكِّي بِبُخَارَا يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدَ بْنَ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ الْإِمَامُ بِسَمَرْقَنْدَ يَقُولُ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ إِدْرِيسَ الْكُوفِيَّ، يَقُولُ: قُلْتُ لِأَهْلِ الْكُوفَةِ: يَا أَهْلَ الْكُوفَةِ إِنَّمَا حَدِيثُكُمُ الَّذِي تُحَدِّثُونَهُ فِي الرُّخْصَةِ فِي النَّبِيذِ عَنِ الْعِمْيَانِ وَالْعُورَانِ وَالْعِمْشَانِ، أَيْنَ أَنْتُمْ عَنْ أَبْنَاءِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ؟ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ادریس کوفی کہتے ہیں: میں نے اہل کوفہ کو کہا کہ تم نبیذ کی رخصت کے بارے میں ان اندھوں، کانوں اور کمزور نگاہ والوں سے روایات کرتے ہو۔ انصار اور مہاجرین کی اولاد کی روایت بیان کیوں نہیں کرتے ہو۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا کہ ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17454