السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: الخليطين باب: خلیطین (دو مختلف چیزوں مثلاً کھجور اور کشمش کو ملا کر مشروب بنانے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 17464
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ، ثنا أَبُو بَحْرٍ، ثنا عَتَّابُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْحِمَّانِيُّ، حَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ بِنْتُ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلْتُ مَعَ نِسْوَةٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَسَأَلْنَاهَا عَنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ فَقَالَتْ: " كُنْتُ آخُذُ قَبْضَةً مِنْ تَمْرٍ وَقَبْضَةً مِنْ زَبِيبٍ فَأُلْقِيهِ فِي إِنَاءٍ فَأَمْرُسُهُ ثُمَّ أَسْقِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".حافظ ثناء اللہ
صفیہ بنت عطیہ کہتی ہیں کہ میں عبدالقیس کی کچھ عورتوں کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، ہم نے ان سے کھجور اور منقی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”میں ایک مٹھی کھجور اور ایک مٹھی منقی لے کر ایک برتن میں ڈالتی، پھر اسے مل دیتی، پھر وہ نبی ﷺ کو پلاتی تھی۔“