أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كَانَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ رَجُلًا مِنَ الطُّلَقَاءِ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ وَوَضَعَ رِدَاءَهُ عَلَيْهَا، ثُمَّ تَنَحَّى يَقْضِي الْحَاجَةَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَرَقَ رِدَاءَهُ، فَأَخَذَهُ، فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٤٦٤⦘ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُقْطَعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ تَقْطَعُهُ فِي رِدَائِي، أَنَا أَهَبُهُ لَهُ، فَقَالَ: " فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ طلقاء (فتح مکہ کے دن آزاد کیے گئے لوگوں) میں سے تھے۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے، انہوں نے اپنی سواری کو بٹھایا۔ پھر انہوں نے اپنی چادر اس پر رکھی۔ پھر وہ قضائے حاجت کے لیے ایک طرف گئے تو ایک آدمی آیا اور اس نے وہ چادر چوری کر لی۔ انہوں نے اسے پکڑ لیا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے تو آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ میری چادر کی وجہ سے اس کا ہاتھ کاٹیں گے؟ میں یہ چادر اسے ہبہ کرتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو میرے پاس لانے سے پہلے ایسا کیوں نہ کیا؟“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ الرَّمْلِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قِيلَ لِصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ: إِنَّهُ لَا دِينَ لِمَنْ لَمْ يُهَاجِرْ، فَقَالَ: وَاللهِ لَا أَصِلُ إِلَى بَيْتِي حَتَّى أَذْهَبَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَأَتَى الْمَدِينَةَ فَدُلَّ عَلَى الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَبَيْنَا هُوَ نَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ وَعَلَى رَأْسِهِ قُصَّةٌ فَجَاءَ سَارِقٌ فَسَرَقَهَا، فَأَخَذَهَا مِنْهُ فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هِيَ لَهُ، فَقَالَ: " فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَ بِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
«قَدْ تَقَدَّمَ» ”یہ پہلے (حدیث نمبر ۱۷۲۱۰ میں) گزر چکی ہے۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ قُرَيْشًا، هَمَّهُمْ أَمْرُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ؟ " ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ فَقَالَ: " إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهُمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهُمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَايْمُ اللهِ، لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
یہ حدیث پہلے نمبر 17616 کے تحت گزر چکی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الْحِيرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُونُسَ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الَّتِي سَرَقَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ زَادَ: ثُمَّ أُتِيَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقُطِعَتْ يَدُهَا قَالَ يُونُسُ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا بَعْدُ وَتَزَوَّجَتْ، فَكَانَتْ تَأْتِي بَعْدُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٤٦٥⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي طَاهِرٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ أَصْحَابُنَا: وَلَوْ كَانَ الْقَطْعُ يَسْقُطُ بِهِبَةِ الْمَسْرُوقِ مِنَ السَّارِقِ لَكَانَ إِلَى الْمَسْرُوقِ مِنْهُ فَزَعُهُمْ وَشَفَاعَتُهُمْ فِيمَا أَهَمَّهُمْ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قریش کو ایک عورت نے پریشان کیا جس نے نبی ﷺ کے زمانے میں غزوہ فتح کے موقع پر چوری کی تھی۔ پھر لیث کی حدیث کا مفہوم ذکر کیا اور یہ الفاظ زائد بیان کیے کہ پھر اس عورت کو لایا گیا جس نے چوری کی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔
حضرت یونس فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس کے بعد اس نے اچھی توبہ کی اور شادی کر لی۔ پھر وہ اس کے بعد آیا کرتی تھی تو میں اس کی حاجت نبی ﷺ کے سامنے پیش کرتی تھی۔ اسے صحیح مسلم نے ابوطاہر سے روایت کیا ہے اور بخاری نے ابن ابی اویس سے، انہوں نے ابن وہب سے روایت کیا ہے۔
ہمارے حضرات فرماتے ہیں: اگر مسروق کے ہبہ کے ساتھ سارق سے ہاتھ کٹنا ساقط ہو سکتا تو سفارش بالاولیٰ ہو سکتی تھی۔
حضرت یونس فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس کے بعد اس نے اچھی توبہ کی اور شادی کر لی۔ پھر وہ اس کے بعد آیا کرتی تھی تو میں اس کی حاجت نبی ﷺ کے سامنے پیش کرتی تھی۔ اسے صحیح مسلم نے ابوطاہر سے روایت کیا ہے اور بخاری نے ابن ابی اویس سے، انہوں نے ابن وہب سے روایت کیا ہے۔
ہمارے حضرات فرماتے ہیں: اگر مسروق کے ہبہ کے ساتھ سارق سے ہاتھ کٹنا ساقط ہو سکتا تو سفارش بالاولیٰ ہو سکتی تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّاذْيَاخِيُّ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ الْمِصْرِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَقِيلُوا ذَوِي الْهَيْئَاتِ عَثَرَاتِهِمْ، إِلَّا حَدًّا مِنْ حُدُودِ اللهِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”باعزت لوگوں کی لغزشوں سے درگزر کرو، سوائے اللہ کی حدوں میں سے کسی حد کے۔“