السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: السارق توهب له السرقة باب: چور کو چوری کی گئی چیز ہبہ (تحفہ) کر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17225
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كَانَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ رَجُلًا مِنَ الطُّلَقَاءِ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ وَوَضَعَ رِدَاءَهُ عَلَيْهَا، ثُمَّ تَنَحَّى يَقْضِي الْحَاجَةَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَرَقَ رِدَاءَهُ، فَأَخَذَهُ، فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٤٦٤⦘ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُقْطَعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ تَقْطَعُهُ فِي رِدَائِي، أَنَا أَهَبُهُ لَهُ، فَقَالَ: " فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ ".حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ طلقاء (فتح مکہ کے دن آزاد کیے گئے لوگوں) میں سے تھے۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے، انہوں نے اپنی سواری کو بٹھایا۔ پھر انہوں نے اپنی چادر اس پر رکھی۔ پھر وہ قضائے حاجت کے لیے ایک طرف گئے تو ایک آدمی آیا اور اس نے وہ چادر چوری کر لی۔ انہوں نے اسے پکڑ لیا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے تو آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ میری چادر کی وجہ سے اس کا ہاتھ کاٹیں گے؟ میں یہ چادر اسے ہبہ کرتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو میرے پاس لانے سے پہلے ایسا کیوں نہ کیا؟“