کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: اس شخص کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان جس نے کسی محفوظ جگہ (حرز) سے کوئی چھوٹا غلام چرایا ہو۔
❮
❯
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يُقْطَعُ، وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: حُرًّا كَانَ أَوْ عَبْدًا، وَخَالَفَهُ الثَّوْرِيُّ فِي الْحُرِّ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔“
اور اسے (امام سفیان) ثوری رحمہ اللہ نے اسماعیل بن مسلم سے، انہوں نے امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے، مگر یہ کہ انہوں نے کہا: ”خواہ وہ آزاد ہو یا غلام۔“ اور ثوری نے آزاد کے بارے میں ان کی مخالفت کی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17230
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ: " مَنْ سَرَقَ عَبْدًا صَغِيرًا، أَوْ أَعْجَمِيًّا لَا حِيلَةَ لَهُ، قُطِعَ " وَرُوِي عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ لَمْ يَرَ عَلَيْهِمُ الْقَطْعَ، قَالَ: هَؤُلَاءِ خَلَّابُونَ قَالَ أَصْحَابُنَا: مَعْنَاهُ فِي الْعَبْدِ إِذَا كَانَ عَاقِلًا، فَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَطَعَ رَجُلًا فِي غُلَامٍ سُرِقَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی زناد اپنے والد سے اور اہل مدینہ کے فقہاء سے نقل فرماتے ہیں کہ جو کسی چھوٹے غلام کو یا ایسے عجمی کو چوری کرے جو کوئی تدبیر نہیں رکھتا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا؛ اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ ایسے لوگوں پر ہاتھ کاٹنا نہیں سمجھتے تھے۔ فرماتے تھے کہ یہ «خَلَّابُونَ» (دھوکے باز) ہیں۔
ہمارے اصحاب نے کہا: اس کا مطلب اس غلام کے بارے میں ہے جو عاقل ہو، کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کا ہاتھ ایک چوری کیے گئے لڑکے کی وجہ سے کاٹا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17230
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبَاغَنْدِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُتِيَ بِرَجُلٍ كَانَ يَسْرِقُ الصِّبْيَانَ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ " ⦗٤٦٦⦘.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس ایک ایسے آدمی کو لایا گیا جس نے بچہ چوری کیا تھا، نبی ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17231
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، كَانَ عَامِلًا عَلَى الْمَدِينَةِ أُتِيَ بِرَجُلٍ يَسْرِقُ الصِّبْيَانَ ثُمَّ يَخْرُجُ بِهِمْ يَبِيعُهُمْ فِي أَرْضٍ أُخْرَى، فَاسْتَشَارَ مَرْوَانُ فِي أَمْرِهِ، فَحَدَّثَهُ عُرْوَةُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهُ قَطَعَ رَجُلًا فِي ذَلِكَ "، قَالَ: فَأَمَرَ مَرْوَانُ بِالَّذِي يَسْرِقُ الصِّبْيَانَ فَقُطِعَتْ يَدُهُ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هَذَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ عَنْ هِشَامٍ إِلَّا مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ (حدیث) پہلے گزر چکی ہے۔“
ابو احمد (ابن عدی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ ہشام سے محفوظ نہیں ہے، سوائے عبداللہ بن محمد بن یحییٰ کی ان سے روایت کے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17232
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ: تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَهُوَ كَثِيرُ الْخَطَأِ عَلَى هِشَامٍ، ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
حافظ ابوالحسن دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن محمد بن یحییٰ بن عروہ، ہشام بن عروہ سے نقل کرنے میں اکیلے ہیں اور وہ ہشام سے روایت میں بہت خطا کرتا ہے، ضعیف الحدیث ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17233
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»