کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: کون سی چیز حرز (محفوظ مقام) شمار ہوتی ہے اور کون سی نہیں، اس کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، قِيلَ لَهُ: مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ هَلَكَ، فَقَدِمَ صَفْوَانُ الْمَدِينَةَ فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ مُتَوَسِّدًا رِدَاءَهُ، فَجَاءَ سَارِقٌ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ، فَأَخَذَ صَفْوَانُ السَّارِقَ فَجَاءَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُقْطَعُ يَدُهُ، فَقَالَ صَفْوَانُ: إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا، هُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
صفوان بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: جس شخص نے ہجرت نہیں کی وہ ہلاک ہو گیا، حضرت صفوان رضی اللہ عنہ مدینہ میں آئے تو مسجد میں چادر ٹیک سے لگا کر سو گئے۔ ایک چور آیا اور ان کے سر کے نیچے سے چادر نکال کر لے گیا تو حضرت صفوان رضی اللہ عنہ نے چور کو پکڑ لیا اور نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ تو حضرت صفوان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے یہ ارادہ نہیں کیا، بلکہ وہ اس پر صدقہ ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کاش! تو میرے پاس آنے سے پہلے کر دیتا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ مَالِكٍ هَذَا الْمُرْسَلُ يُقَوِّي الْأَوَّلَ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ كَاسِبٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ بِإِسْنَادِهِ مَوْصُولًا بِذِكْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِ، وَلَيْسَ بِصَحِيحٍ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکی ہے۔“
یہ مرسل روایت پہلی روایت کو تقویت دیتی ہے، اور یہ ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ نیز ابن کاسب کے واسطے سے سفیان بن عیینہ سے ان کی سند کے ساتھ موصولاً، ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ذکر کے ساتھ بھی مروی ہے، اور یہ صحیح نہیں ہے۔
یہ مرسل روایت پہلی روایت کو تقویت دیتی ہے، اور یہ ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ نیز ابن کاسب کے واسطے سے سفیان بن عیینہ سے ان کی سند کے ساتھ موصولاً، ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ذکر کے ساتھ بھی مروی ہے، اور یہ صحیح نہیں ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قُوهْيَارٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، أنبأ بَكَّارُ بْنُ الْخَصِيبِ، ثنا حَبِيبٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: بَيْنَمَا صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ مُضْطَجِعٌ بِالْبَطْحَاءِ إِذْ جَاءَ إِنْسَانٌ فَأَخَذَ بُرْدَهُ مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ، فَقَالَ: إِنِّي أَعْفُو عَنْهُ أَوْ أَتَجَاوَزُ، قَالَ: " فَهَلْ قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنَا بِهِ أَبَا وَهْبٍ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان بطحاء میں سوئے ہوئے تھے، ایک آدمی آیا، اس نے آپ کے سر کے نیچے سے چادر اٹھا لی، یعنی چوری کر لی، تو حضرت صفوان رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، حضرت صفوان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے اسے معاف کر دیا ہے اور اس سے درگزر کرتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کاش! تو میرے پاس آنے سے پہلے کر دیتا اے ابو وہب!“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحُنَيْنِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ، ثنا أَسْبَاطٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ حُمَيْدِ ابْنِ أُخْتِ صَفْوَانَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى خَمِيصَةٍ لِي ثَمَنُ ثَلَاثِينَ دِرْهَمًا، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاخْتَلَسَهَا مِنِّي، فَأَخَذَ الرَّجُلَ فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهِ لِيُقْطَعَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: أَتَقْطَعُهُ مِنْ أَجْلِ ثَلَاثِينَ دِرْهَمًا، أَنَا أَبِيعُهُ وَأُنْسِئُهُ ثَمَنَهَا، قَالَ: " أَلَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ " هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ حَمَّادٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں مسجد میں سویا ہوا تھا، میرے پاس ایک قمیض تھی جس کی قیمت تیس درہم تھی، ایک آدمی آیا اور اس نے وہ قمیض مجھ سے چوری کر لی۔ وہ آدمی پکڑا گیا، جب وہ نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں آپ ﷺ کے پاس آیا، میں نے عرض کیا: کیا آپ اس کا ہاتھ کاٹیں گے تیس درہم کے بدلہ میں؟ میں یہ اسے بیچ دیتا ہوں اور اس کی قیمت اسے ادھار دے دیتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! کاش تو میرے پاس آنے سے پہلے معاملہ حل کر لیتا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ زَائِدَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جُعَيْدِ بْنِ حُجَيْرٍ، قَالَ: نَامَ صَفْوَانُ - قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَرِدَاءُ صَفْوَانَ كَانَ مُحْرَزًا بِاضْطِجَاعِهِ عَلَيْهِ، " فَقَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَارِقَ رِدَائِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: لَيْسَ عَلَى سَارِقٍ قَطْعٌ حَتَّى يُخْرِجَ الْمَتَاعَ مِنَ الْبَيْتِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا یہاں تک کہ وہ سامان گھر سے باہر نکال لے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْإِسْفِرَايِينِيُّ بِهَا، ثنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ثَعْلَبَةَ الشَّامِيِّ، وَكَانَ طَارِقٌ اسْتَخْلَفَهُ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَأُتِيَ بِسَارِقٍ فَعَاقَبَهُ فَاعْتَرَفَ بِالسَّرِقَةِ، فَبَعَثَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ يَسْأَلُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " لَا تَقْطَعْ يَدَهُ حَتَّى يُخْرِجَ السَّرِقَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ثعلبہ شامی رحمہ اللہ، جنہیں طارق نے مدینہ پر اپنا نائب بنایا تھا، فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک چور لایا گیا، انہوں نے اسے ڈانٹا تو اس نے اعتراف کر لیا، پھر انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف (آدمی) بھیجا تاکہ ان سے اس کے متعلق پوچھیں، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تک وہ چوری کا مال باہر نہ نکالے اس کا ہاتھ نہ کاٹنا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَابُورَ الدَّقِيقِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ يَعْنِي الْحَلَبِيَّ عُبَيْدَ بْنَ هِشَامٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا يُقْطَعُ السَّارِقُ حَتَّى يُخْرِجَ الْمَتَاعَ مِنَ الْبَيْتِ " وَرُوِي ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي مَعْنَاهُ وَرَوَاهُ أَيْضًا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا جب تک وہ سامان گھر سے باہر نہ نکال لے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا ⦗٤٦٣⦘ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، أَنَّ عَبْدًا، سَرَقَ وَدِيًّا مِنْ حَائِطِ رَجُلٍ فَغَرَسَهُ فِي حَائِطِ سَيِّدِهِ، فَخَرَجَ صَاحِبُ الْوَدِيِّ يَلْتَمِسُ وَدِيَّهُ فَوَجَدَهُ، فَاسْتَعْدَى عَلَى الْعَبْدِ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، فَسَجَنَ الْعَبْدَ وَأَرَادَ قَطْعَ يَدِهِ، فَانْطَلَقَ سَيِّدُ الْعَبْدِ إِلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ " وَالْكَثَرُ: الْجُمَّارُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: فَإِنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ أَخَذَ غُلَامًا لِي وَيُرِيدُ قَطْعَ يَدِهِ، وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تَمْشِيَ مَعِي إِلَيْهِ فَتُخْبِرَهُ بِالَّذِي سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَشَى مَعَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ حَتَّى أَتَى مَرْوَانَ فَقَالَ: أَخَذْتَ غُلَامًا لِهَذَا؟ فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مَا أَنْتَ صَانِعٌ بِهِ؟ قَالَ: أَرَدْتُ قَطْعَ يَدِهِ، قَالَ لَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ "، فَأَمَرَ مَرْوَانُ بِالْعَبْدِ فَأُرْسِلَ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ ایک غلام نے کسی آدمی کے باغ سے ایک کھجور کا پودا چوری کیا اور اس (پودے) کو اپنے سردار کے باغ میں گاڑ دیا، پھر اس باغ کا مالک نکلا جس کا پودا چوری ہوا تھا، اس نے تلاش کیا تو اپنے پودے کو (غلام کے سردار کے باغ میں) پایا تو اس غلام کو مروان بن حکم کے پاس لے گیا، اس نے اسے قید کیا اور ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا تو غلام کا سردار سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی طرف گیا اور ان سے اس بارے میں سوال کیا، پھر انہوں نے خبر دی کہ انہوں نے نبی ﷺ سے اس بارے میں سنا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھلوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور نہ ہی پودا چرانے میں۔“ ایک آدمی نے کہا: مروان بن حکم نے میرے غلام کو پکڑا اور اس کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ اس کی طرف چلیں اور اسے اس بات کی خبر دیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، وہ اس کے ساتھ چلے یہاں تک کہ مروان کے پاس آئے، سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: کیا آپ نے اس کے غلام کو پکڑا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اس کے ساتھ کیا کرنے والے ہیں؟ اس نے کہا: میں نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا ہے، سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے مروان سے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”پھلوں اور پودوں کو چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“ پھر مروان نے غلام کو چھوڑنے کا حکم دے دیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ، وَلَا فِي حَرِيسَةِ جَبَلٍ، فَإِذَا آوَاهُ الْمُرَاحُ أَوِ الْجَرِينُ فَالْقَطْعُ فِيمَا بَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ " وَقَدْ رُوِّينَا هَذَا مَوْصُولًا مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَالْحَوَائِطُ لَيْسَتْ بِحِرْزٍ لِلنَّخْلِ وَلَا لِلثَّمَرِ؛ لِأَنَّ أَكْثَرَهَا مُبَاحٌ يُدْخَلُ مِنْ جَوَانِبِهِ، فَمَنْ سَرَقَ مِنْ حَائِطٍ شَيْئًا مِنْ تَمْرٍ مُعَلَّقٍ لَمْ يُقْطَعْ، فَإِذَا آوَاهُ الْجَرِينُ قُطِعَ فِيهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَجُمْلَةُ الْحِرْزَانِ يُنْظَرُ إِلَى الْمَسْرُوقِ: فَإِنْ كَانَ الْمَوْضِعَ الَّذِي سُرِقَ فِيهِ تَنْسِبُهُ الْعَامَّةُ إِلَى أَنَّهُ حِرْزٌ، فِي مِثْلِ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ قُطِعَ إِذَا أَخْرَجَهُ مِنَ الْحِرْزِ، وَإِنْ لَمْ تَنْسِبْهُ الْعَامَّةُ إِلَى أَنَّهُ حِرْزٌ لَمْ يُقْطَعْ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی حسین مکی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لٹکے ہوئے پھلوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور نہ پہاڑ والی بکری میں، اور جو بکریاں باڑے میں ہوں ان کو چوری کرنے میں ہاتھ کاٹا جائے گا اگر ان کی قیمت ڈھال کے برابر ہو۔“ ہم نے اس حدیث کو عمرو بن شعیب سے موصولاً بیان کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کھجوروں والے باغ محفوظ نہیں ہوتے یا کوئی اور پھلوں والے؛ کیونکہ زیادہ ان کی سائڈوں سے داخل ہوتے ہیں۔ جس نے باغ سے چوری کی اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ہاں جب پھل ٹوکری میں آجائے تو پھر ہاتھ کاٹا جائے گا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس چوری والی جگہ کو دیکھا جائے، اگر وہ جگہ محفوظ ہے تو چور کے ہاتھ کاٹے جائیں گے اور اگر محفوظ نہ ہو تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کھجوروں والے باغ محفوظ نہیں ہوتے یا کوئی اور پھلوں والے؛ کیونکہ زیادہ ان کی سائڈوں سے داخل ہوتے ہیں۔ جس نے باغ سے چوری کی اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ہاں جب پھل ٹوکری میں آجائے تو پھر ہاتھ کاٹا جائے گا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس چوری والی جگہ کو دیکھا جائے، اگر وہ جگہ محفوظ ہے تو چور کے ہاتھ کاٹے جائیں گے اور اگر محفوظ نہ ہو تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔