حدیث نمبر: 17228
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الْحِيرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُونُسَ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الَّتِي سَرَقَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ زَادَ: ثُمَّ أُتِيَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقُطِعَتْ يَدُهَا قَالَ يُونُسُ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا بَعْدُ وَتَزَوَّجَتْ، فَكَانَتْ تَأْتِي بَعْدُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٤٦٥⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي طَاهِرٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ أَصْحَابُنَا: وَلَوْ كَانَ الْقَطْعُ يَسْقُطُ بِهِبَةِ الْمَسْرُوقِ مِنَ السَّارِقِ لَكَانَ إِلَى الْمَسْرُوقِ مِنْهُ فَزَعُهُمْ وَشَفَاعَتُهُمْ فِيمَا أَهَمَّهُمْ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قریش کو ایک عورت نے پریشان کیا جس نے نبی ﷺ کے زمانے میں غزوہ فتح کے موقع پر چوری کی تھی۔ لیث کی حدیث میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ پھر اس عورت کو لایا گیا جس نے چوری کی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔
حضرت یونس فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس کے لیے اچھا ہے کہ وہ اس کے بعد توبہ کر لے اور شادی کر لے۔ پھر وہ نبی ﷺ کے پاس آتی تھی، اس کے بعد اپنی حاجت کو نبی ﷺ سے بیان کرتی تھی۔ اسے صحیح مسلم نے ابوطاہر سے روایت کیا ہے اور بخاری نے ابن ابی اویس اور ابن وہب سے روایت کیا ہے۔
ہمارے حضرات فرماتے ہیں: اگر مسروق کے ہبہ کے ساتھ سارق سے ہاتھ کٹنا ساقط ہو سکتا تو سفارش بالاولیٰ ہو سکتی تھی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17228
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»