السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: السارق توهب له السرقة باب: چور کو چوری کی گئی چیز ہبہ (تحفہ) کر دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الْحِيرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُونُسَ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الَّتِي سَرَقَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ زَادَ: ثُمَّ أُتِيَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقُطِعَتْ يَدُهَا قَالَ يُونُسُ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا بَعْدُ وَتَزَوَّجَتْ، فَكَانَتْ تَأْتِي بَعْدُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٤٦٥⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي طَاهِرٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ أَصْحَابُنَا: وَلَوْ كَانَ الْقَطْعُ يَسْقُطُ بِهِبَةِ الْمَسْرُوقِ مِنَ السَّارِقِ لَكَانَ إِلَى الْمَسْرُوقِ مِنْهُ فَزَعُهُمْ وَشَفَاعَتُهُمْ فِيمَا أَهَمَّهُمْ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قریش کو ایک عورت نے پریشان کیا جس نے نبی ﷺ کے زمانے میں غزوہ فتح کے موقع پر چوری کی تھی۔ پھر لیث کی حدیث کا مفہوم ذکر کیا اور یہ الفاظ زائد بیان کیے کہ پھر اس عورت کو لایا گیا جس نے چوری کی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔
حضرت یونس فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس کے بعد اس نے اچھی توبہ کی اور شادی کر لی۔ پھر وہ اس کے بعد آیا کرتی تھی تو میں اس کی حاجت نبی ﷺ کے سامنے پیش کرتی تھی۔ اسے صحیح مسلم نے ابوطاہر سے روایت کیا ہے اور بخاری نے ابن ابی اویس سے، انہوں نے ابن وہب سے روایت کیا ہے۔
ہمارے حضرات فرماتے ہیں: اگر مسروق کے ہبہ کے ساتھ سارق سے ہاتھ کٹنا ساقط ہو سکتا تو سفارش بالاولیٰ ہو سکتی تھی۔